گاجر کی فصل کو جڑ کے گالا کی  بیماری ڈک منتقل کرنے کے بعد زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ جڑ کے قریب سیاہ دھبے بن جاتے ہیں۔ اور اکثر گاجروں کی جڑیں گلی ہوئی نظر آتی ہیں۔پورے پودے کو نمکیات اور پانی کی ترسیل رک جاتی ہے۔ گاجر کے پتے پیلے نظر آتے ہیں ،انکی بڑھوتری رک جاتی ہے،  پودا مرجھا جاتا ہے اور ایک سے دو دن کے اندر مر جاتا ہے۔ گاجر کی فصل میں مختلف نویت کی گلنے یا سڑن کی بیماری کی وجہ کھیت کا لمبے عرصے تک  ضرورت سے زیادہ وتر ہے۔ اگر زمین ہموار نہ ہو اور پانی کھیت میں زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو بھی فصل کو بیماری لگ سکتی ہے۔ 

 انسداد:

گاجر کی فصل کو جڑ کے گالا سے بچانے کے لئے 

  • پن فلو فن  دو سو چالیس ایف ایس  پندرہ ملی لٹر فی سو کلو ڈک 
  • فلوٹولانل  چار سو ایس سی  پندرہ ملی لٹر فی سو کلو ڈک کو لگائی جاتی ہے۔

 گاجر کی  بیج سے کاشت کے پہلے دو ماہ میں بھی یہ بیماری نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے لئے

  •  تھائیوفینیٹ میتھائل چار سو گرام یا 
  •  فوسٹائل ایلومینیم اڑھائی سو گرام فرٹیگیشن کے طریقے سے استعمال کی جاتی ہے۔

زمین کو مناسب طرح ہموار کریں، کھیت سے پانی کے نقاص کا اچھا انتظام کریں اور فصلوں کو عدل بدل کر کے لگیں
 

Reference: www.agripunjab.gov.pk, Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"