ہماری کہانی


 ڈاکٹر اختر کا تعلق بوریوالا کے چھوٹے سے قصبے ڈپٹی والی لاٹ سے ہے.تین نسلوں سے، ان کا خاندان زراعت کے پیشے سے منسلک  ہے. بچپن سے ہی انہیں کھیتی باڑی کا بہت شوق تھا البتہ  والد محترم نے زراعت  کے مخدوش مستقبل کے پیش نظر انہیں تعلیم کے لئے انگلشتان بھیج دیا ، وہاں سے آپ بلجیم چلے گئے اور وہاں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی.. کہتے ہیں شوق کا کوئی مول نہیں، پردیس کی خاک چھننے کے بعد ان کا دل انھیں بوریوالا کی گرد آلود گلیوں میں کھینچ لیا. زراعت  کی حالت  زار دیکھ کر انھیں پہلے سے بھی زیادہ افسوس ہوا. اور انہونے ٹھان لی کے زراعت کے شعبے کو بہتر بنایاجاۓ  تاکہ  ان جیسے بہت سے خاندانوں کےلئے زراعت کی راہیں ہموار ہوں. ایسے میں انھیں ساتھ ملا اپنی زوجہ عائشہ کا، جو تعلیمی  اعتبار سے کمپیوٹر انجنیئر ہیں اور گزشتہ دس سال سے آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہیں. انھیں نے پاک ایگری امرکیٹ گھر کے ایک چوٹھے . سے کمرے سے ڈاکٹر اختر کی رہنمائی میں بنانا شروع  کی. دیکھتےدیکھتے یہ پلیٹ فارم لوگوں کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن گیا 

پلیٹ فارم کو مزید بہتر بنانے کے لئے عائشہ احمد  نے ڈاکٹر اویس اختر کے ساتھ   پورے پنجاب ، چکوال سے لے کر بہاولپور میں متعدد سروے کیے اور زراعت کی ویلیو چین، یعنی زراعت کے شعبے سے جڑے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں . ان سے ان کے مسائل پوچھے. ہر مرحلے پر لوگوں کی دعاؤں نے ان کا حوصلہ اور بھی بلند کیا. سن ٢٠١٩ میں پہلی بار ویب سائٹ  ان ایئر ہوئی. ویب سائٹ میں کسانوں کے لئے معلومات بھی تھیں اور دکان داروں اور زرعی مداخلات فراہم کرنے والوں کے رابطہ نمبر بھی. تاکہ کسان نہ صرف فصل کی کاشت کے حوالے سے جدید معلومات حاصل کر سکیں بلکہ،زرعی  مداخلت کے حصول میں بھی انھیں دشواری کا سامنا نا  ہو. اس پلیٹ فارم کو استعمال کر کے کسان اپنے قریبی منڈیوں سے آڑھتی  حضرات  کے رابطہ نمبر تلاش کر کے فصل کا ریٹ معلوم کر سکتےتھے  اس سے کسانوں میں فصل کے نرخوں  کے حوالے سے   خود اعتمادی پیدا ہونا شروع ہو گئی . نیز یہ کسان اپنا زرعی اشتہار  گھر بیٹھےلگا سکتے تھے. سولر پینل سے لے کر مشینری کی تمام دکانوں کے رابطہ نمبر کسانوں کے فون پر مفت میسر تھے. 

 

دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ جہاں کسانوں کی امداد ہوئی  وہاں زرعی  دکانوں کی مفت تشہیر بھی  ہونا شروع  ہو گئی. دکان دار حضرات کے لئے یہ انتہائی تعجب اور خوشی کی بات تھی کہ دور دراز کے علاقوں سے انہیں کسان رابطہ کرنے لگے. دکان دار حضرت کی پاک ایگری کی ویب سائٹ میں دلچسپی بڑھ گئی اور انھیں نے ناصرف اپنے وزیٹنگ کارڈز بلکہ دکان میں موجود مصنوعات کی تصاویر بھی بھیجنی شروع  کر دیں اور اس طرح ان کی دکان کی ایک آن لائن دکان بھی اس پلیٹ فارم پر مراتب ہونے لگی. 

 

دنیا کو جب کورونا نے اپنی لپیٹ میں لیا اور کاروبار کا پہیہ جام ہوا، تو  ایسے میں پاک ایگری کی بدولت زرعی  کاروبار آن لائن جاری رہا. کسان اپنی مطلوبہ مصنوعات پاک ایگری کے پلیٹ فارم میں موجود زرعی  دکانوں سے تلاش کرتے اور دکان داروں سے براہ راست رابطہ کرتے رہے. دیکھتے ہی  دیکھتے پاکستان سے 4000 سے زائد دکانیں اس پلیٹ فارم کا حصہ بن گئیں. اور دو افراد نے پاکستان کے زراعت میں ایک حل چل پیدا کر دی.  پاک ایگری مارکیٹ ٹیم بن گئی.

آہستہ آہستہ اس پلیٹ فارم کی افادیت کا اندازہ ہونے لگا اور پرائیویٹ سیکٹر سےمختلف ادارےجیسے ٹیلی نار، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، ڈیلی پاکستان،  یو ایس ای ، نے  پاک ایگری مارکیٹ سے رابطہ کیا اور مختلف طریقوں سے تعاون کیا.  اب  یہ پلیٹ فارم زراعت  میں جانا مانا نام ہے. اور روز بہت سے کسان دکان دار اور دیگر افراد اس سے مستفید ہو رہے ہیں. 

اب جب کام سے کبھی فرسٹت  ہو تو ،  اویس  اور زوجہ عیشا بوتھتے اور سوچتے ہیں نجانے کس کسان کی دوں انھیں اس کٹھن سفر سے گزر کر اس مقام تک لے آئی  ہے.