گندم خشک سرد موسم کی فصل ہے۔ گندم کو اگاؤ کے لئے کم سے کم چھ اور زیادہ سے زیادہ بیس سینٹی گریڈ درجہ حرارت جبکہ بڑھوتری کے لئے بیس سے پچیس سینٹی گریڈ درج حرارت کی ضرورت ہوتی ہے-آبپاش علاقوں میں گندم کا طریقہ کاشت سابقہ کاشتہ فصل اور زمینی سخت کے حساب سے طہ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر مونجی کے علاقوں میں وقت اور اخراجات کی بچت کے پیش نظر گندم زیرو ٹیلیج سے کاشت کی جاتی ہے جبکہ تھل کے علاقوں میں گندم خشک طریقہ سے بذریعہ ڈرل یا چھٹہ کاشت کی جاتی ہے۔

گندم  موزوں آ ب و ہوا اور زمین

گندم خشک اور سرد موسم میں کاشت کی جانے والی فصل ہے جس کو  اگاؤ کے لئے کم سے کم چھے اور زیادہ سے زیادہ بیس سینٹی گریڈ  درج حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔  گندم کی بڑھوتری کے کسی بھی مرحلے پر ابرآلود موسم پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔  سٹے نکلنے  کے بعد تیز ہوا نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ گندم کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے اچھے نکاس والی بھاری میرا سے ہلکی میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ  موجود ہو موزوں ہوتی ہیں  ۔ گندم کافی سخت جان فصل ہے اس لئے یہ درمیانی حد تک کلراٹھی ، چکنی  اور سخت زمینوں میں بھی کاشت کی جا سکتی ہے۔

گندم بیج کی اقسام اور شرح بیج

گندم کے بیج کو زہر آلودہ کرنے سے  گندم کی فصل بیشتر بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے، اس مقصد کے لئے بوائی سے پہلے درج ذیل  میں سے کسی  ایک زہر  کا استعمال کریں۔

ٹیبوکونازول + امیڈاکلوپرڈ سینتیس اعشاریہ پچیس  ایف ایس دو ملی لیٹر فی کلو بیج۔
یا
فلوڈی اوکسونل+ سیڈازین پچاس ایف ایس دو ملی لیٹر فی کلو بیج۔
یا
تھائیوفینیٹ میتھائل ستر ڈبلیو پی دو تا اڑھائی گرام فی کلوگرام  بیج
یا
ایزاوکسی سٹرابن + کلوتھیانڈن باسٹھ اعشاریہ پانچ  ڈبلیو ایس۔

 گندم کے بیج کو زہر لگانے کے لئے گھومنے والا ڈرم یا پلاسٹک کی بوری میں وزن شدہ بیج اور زہر ملا کر اچھی طرح  ہلایا جاتا ہے۔ آبپاش علاقوں میں گندم کی موزروں اقسام درج زیل ہیں

  • صادق-21 

  • بورلاگ-16

  • دلکش-20

  • فخر بھکر

  • نشان

  • اجالا-16

  • سبحانی-21

  • زنکول-16

  • ایم ایچ -21

  • جوہر-16

  • اناج-17

  • فیصل آباد-8

  • اکبر-19

  • ڈیورم-2021

  • غازی-19

  • نواب-21

  • بھکرسٹار

  • رہبر-21

  • این اے آر سی

  • عروج -22

گندم زمین کی تیاری اور کاشت 

گندم کی کاشت میں زمین کی اچھی تیاری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اچھی زمینی تیاری میں زمین گہرائی تک اور بھربھری تیار کی جاتی ہے تاکہ گندم کی جڑ یں آسانی سے خوراک حاصل کرسکیں۔ گہری تیار شدہ زمین میں پانی جذب کرنے کے صلاحیت  بڑھ جاتی ہے اور جڑی بوٹیوں کے بیج بھی زمین کی نچلی سطح میں دب جاتے ہیں۔ فصلوں کے وڈھ والی زمین کو تیار کرنے کیلئے روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو کا استعمال کیا جاتا ہے۔ زمین کی تیاری اور بوائی سابقہ فصل اور زمین کی صحت کے  حساب سے کی جائےتو گندم کی بہتر پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ گندم کی کاشت کے مختلف طریقے اور موزوں زمین کا جائزہ درج ذیل ہے۔

گندم قطاروں میں کاشت

 قطاروں میں کاشت کی صورت میں زمین خوب باریک اور بھر بھری تیار کی جاتی ہے۔ پھر  بیج کو  کیرا ، پورا یا آٹو میٹک ربیع  ڈرل سے کاشت کیا جاتا ہے۔ گندم کا بیج بھاری میرا زمینوں میں نو انچ اور ہلکی میرا زمینوں میں پانچ سے چھ انچ  کے فاصلے پر بنائی گئی قطاروں میں ایک تا دو انچ گہرائی پر کاشت کیا جاتا ہے۔

گندم چھٹہ کاشت

گندم کی بیشتر کاشت ڈرل یا چھٹہ سے کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کاشت میں بیج اور کھاد دونوں کا چٹھہ دیا جاتا ہے۔ چٹھہ ایسے دینا چاہیئے کہ ناغے کم سے کم ہو۔ اگر ضرورت ہو تو بیج کے یکساں اگاؤ کے لئے دوہرا چھٹہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

خریف  کی فصلوں کے وڈھ میں اگر زمین راؤنی کا بعد وتر میں آجائے

سا بقہ فصل کاٹنے سے دس سے بارہ دن پہلے کھیت کو راؤنی کا پانی دیں۔ جب زمین وتر حالت میں آجائے  تو چھٹریاں وغیرہ کاٹنے کے بعد دو بار ہل اور ایک مرتبہ روٹا ویٹر چلائیں۔ اگر روٹا ویٹر میسر نہ ہو تو بھاری سہاگہ دیں ۔ اس کے بعد بوائی بذریعہ ڈرل کریں یا بیج اور کھاد کا چٹھہ دیں۔

خریف  کی فصلوں کے وڈھ  میں اگر زمین راؤنی کے بعد وتر میں نہ  آئے

ایسی زمینیں جو کہ ریتلی ہوں اور پانی کو بہت جلد جذب کر لیتی ہوں وہاں خشک طریقہ کاشت زیادہ کامیاب ہے۔  خشک طریقہ کاشت کی دو صورتیں ہیں۔

گپ چھٹ (خشک زمینی تیاری اور چھٹہ )

گپ چھٹ کا طریقہ ایسی کلراٹھی ریتلی اور چیکنی زمینوں کیلئے موزوں ہے جن کی ضرورت جپسم (جی-آر ) دو ٹن  فی ایکڑ تک ہو اور پانی کو اچھی طرح جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں ۔ گپ چھٹ طریقہ کاشت میں پچھلی فصل کی برداشت کے بعد خشک حالت میں  دومرتبہ عام ہل یا چیزل ہل  چلا کر سہاگہ دیا جاتا ہے۔ تاکہ زمین اچھی طرح بھربھری تیار ہو۔ پھر کھیت کے کیارے بنانے کے بعد کھیت میں  پہلے پانی کے ساتھ 100 کلوگرام فی ایکڑ گندھک کا تیزاب ڈالا جاتا ہے۔ یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کھیت میں پانی تین انچ کے قریب کھڑا ہو۔ پھر کھڑے پانی میں 4 تا 6 گھنٹے  بھگوے ہوئے بیج کا چھٹہ دیا جاتا ہے۔ چٹھہ ذرا زور سے دیا جاتا ہے تاکہ بیج زمین کے  اندر تک چلا جائے۔ پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے کلراٹھی زمینوں میں  نمکیات کے مضر اثرات کم ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ کاشت سخت زمینوں کے لئے بھی موزوں ہے۔ سخت زمینوں میں اس طریقہ سے گندم کاشت کرنے کیلئے  بیچ کا چھٹہ دینے سے پہلے پانی جذب ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے اور  بیچ کو بھگونے کی ضروری نہی ہوتی۔

کور چھٹ  ( خشک زمینی تیاری اور ڈرل )

کور چھٹ کا طریقہ ایسی نرم، ریتلی اور ہلکی میرا زمینوں کے لئے موزوں ہے جہاں زمین یکساں وتر میں نہیں آتی۔ اس طریقہ کاشت میں سابقہ فصل کی برداشت کے بعد دو مرتبہ عام ہل اور ایک مرتبہ روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو چلایا جاتا ہے۔ پھر ایک انچ  گہری بوائی بذریعہ ڈرل کرکے مناسب کیارے بنا کر کھیت کو پانی لگا دیا جاتا ہے۔ کور چھٹ طریقہ کاشت میں  وقت کی بچت ہوتی ہے اور اگاؤ بھی بہتر ہوتا ہے۔

چاول کے بعد بروقت  گندم کی کاشت

اگر کھیت میں چاول کی ایسی قسم کاشت کی گئی ہو جن کی برداشت کے بعد بر وقت گندم کی کاشت ممکن ہے تو زمین کی تیاری کے لئے کے دھان کی برداشت سے  بیس روز قبل پانی دینا بند کر دیں تاکہ زمین وتر حالت میں آجائے۔  دھان کی برداشت کے بعد وتر حالت میں ایک مرتبہ روٹایٹر یا دو بار ڈسک ہل چلائیں۔ اس کے بعد دو مرتبہ عام ہل چلا کر سہاگہ دے کر  زمین نرم اور بھربھری تیار کر کے گندم کی بوائی کر دیں ۔ اگر روٹایٹر یا ڈسک ہل  دستیاب نہ ہو تو گہرا ہل چلانے کے بعد کلٹی ویٹر استعمال کریں۔  مونجی کاشت کے وہ علاقے جہاں زمین دیر سے پانی جذب کرتی ہے وہاں سلفر دس کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔


لیٹ چاول  کی اقسام کے بعد گندم کی کاشت بذریعہ زیر و ٹیلج 

اگر کھیت میں چاول کی ایسی قسم کاشت کی گئی ہے جو دیر سے تیار ہوتی ہے(مثلاً کائنات ، پی کے ١١٢١وغیرہ ) تو گندم کی پچھیتی کاشت ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ زمین کی تیاری کے لئے وقت کی کمی ہوتی ہے اور وسائل  بھی زیادہ درکار ہوتے ہیں ۔ ایسی صورت میں زیرو ٹیلج سے کاشت کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ اس طریقہ کاشت میں زمین کی تیاری نہیں کی جاتی۔ یہ طریقہ کاشت درج ذیل صورتوں کے لئے موزوں ہے۔

  • ایسی زمینیں جن میں  وتر موجود ہو۔

  • ایسی زمینیں جن میں پانی ٹھہرانے کی صلاحیت ہو۔ 

  • ایسی زمینیں جہاں مونجی کاشت کی گئی ہو۔

چیکنی زمین، کلراٹھی، بھاری یا سخت  زمینوں میں زیر و ٹیلج کاشت کے طریقے میں  فصل کی برداشت کے بعد بغیر زمین تیار کئے زیر و ٹیلج کے ساتھ گندم کی بوائی کی جاتی ہے۔ کٹائی کمبائن ہارویسٹر سے کرنے کی صورت میں اگر  کھیت میں زیادہ منڈھ موجود ہوں تو زیر و ٹیلج  کے بجائے ٹربو سیڈر استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹربو سیڈر یا ہیپی سیڈر دستیاب  نہ ہو تو فصل کے  باقیات کی  ڈھیریوں کو کھیت میں  پھیلا دیں اور پھر زیرو ٹیلج سے گندم کی کاشت کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کاشت میں قطروں کا باہمی فاصلہ چھے انچ رکھا جاتا ہے۔

فوائد

  • زیرو ٹیلج طریقہ کاشت سے  زمین کی تیاری پر آنے والے اخراجات کی بچت ہوتی ہے۔

  • فصل کی بروقت کاشت ہوتی ہے  اور بروقت کاشتہ گندم میں جڑی بوٹیوں کا حملہ شدید نہیں ہوتا۔

  • سخت زمین میں زیر و ٹیلج سے کاشتہ گندم کے گرنے کے امکان بھی کم ہوتے ہیں


کھیلیوں پر یا  بیڈ پلانٹر سے کاشت 

گندم کی کھیلیوں پر کاشت چیکنی باڑہ زمینوں میں جہاں زمین کی ساخت کی وجہ سے بارش اور آبپاشی کا پانی سطح زمین پر کھڑا رہتا ہو موزوں ہے۔  ایسی زمینیں  اکثر دھان کے کاشتہ علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ کھیلیوں پر کاشت میں زمین کو خشک حالت میں دو یا تین دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر اچھی طرح بھر بھرا کر لیا جا تا ہے۔ زمین تیار کرنے کے بارہ گھنٹے بعد پانی میں بھیگے ہوئے گندم کے بیج کا چھٹہ  کیا جا تا ہے۔ پھر کھیت میں ایک ایک فٹ کے فاصلہ پر ریجر کی مدد سے کھیلیاں بنا کر فوراً کھیت کو پانی لگا دیا جاتا ہے۔ کھیلیوں میں کاشت  کے لئے  مارکیٹ میں بیڈ پلانٹر مشین بھی دستیاب ہے۔ یہ مشین ایک کھیلی کے اوپر دو سے تین لائنوں میں بیج کا کیرا کرتی ہے۔ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ پانی کھیلیوں میں چھ انچ اونچائی تک رہے اور کھیلیوں کے سروں پر صرف وتر پہنچے۔ اگر پانی کھیلیوں کے سروں تک لگ جائے تو گندم کا اگاؤ بہت بری طرح متاثر ہوتا ہے ۔

پٹڑیوں پر کاشت کے فوائد

  • تیس  سے پچاس  فیصد تک پانی کی بچت ہوتی ہے۔

  • پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

  • کھادوں کا  بیج کے ساتھ استعمال سے پیداوار بڑھ جاتی ہے

  • کلراٹھی زمینوں میں نمکین پانی کے استعمال سے بھی فصل زیادہ متاثر نہیں ہوتی ہے۔

  • فصل کی جڑیں زمین میں زیادہ گہری چلی جاتی ہیں اور مضبوط ہونے کی وجہ سے آندھی یا بارش کی وجہ سے فصل نہیں کرتی۔

  • زیادہ بارش یا پہلے پانی کے بعد نچلے پتے پیلے  نہیں ہوتے۔

  • پٹڑیوں پر کاشت کی گئی گندم میں کماد کی مخلوط کاشت کی جاسکتی ہے۔

داب کے طریقے سے جڑی بوٹیوں کی تلفی

درمیانی اور اگیتی کاشت میں راؤنی کے بعد وتر آنے پر بوائی سے کچھ دن پہلے صبح سویرے ہل چلا کر سہاگہ دیا جاتا ہے۔ دو تین بار یہ عمل دوہرانے سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں اور زمین کے نچلے سطح کی نمی او پر آ جاتی ہے اور گندم کا چھا اگاؤ ہوتا ہے۔