پتہ لپیٹ سنڈی کے پروانے کے پر سنہری یا زردی مائل بھورے رنگ کے ہوتے ہیں اور ان پر ٹیڑھی میڑھی لائنیں ہوتی ہیں۔ سنڈی کے سر کا رنگ کالا اور جسم انگوری ہوتا ہے۔ سنڈیاں پتوں کا سبز مادہ کھا تی ہیں۔ جس کی وجہ سے پتوں پر مٹیالے رنگ کی لکیریں پڑ جاتی ہیں۔ انڈے سے نکلنے کے بعد سنڈی ایک دو دن تک کھلے پتے پر رہتی ہے اور بعد میں یہ پتے کے دونوں کناروں کو اپنے لعاب سے بنائے ہوئے دھاگے سے جوڑ کر اسے نالی نما بنا لیتی ہے اور اس کے اندر رہ کر اس کے سبز مادہ کو کھا جاتی ہے۔جس سے ضیائی تالیف (Photosynthesis) کا عمل متاثر ہوتا ہے اور خوراک بننےکا عمل کم ہو جاتا ہے۔ دھان پر تہ لپیٹ سنڈی کا حملہ ٹکڑیوں میں ہوتا ہے۔ سایہ دار جگہ میں اس کاحملہ زیادہ ہوتا ہے۔ پتہ لپیٹ سنڈی کا حملہ لاب لگانے کے تقریباً پینتالیس دن بعد شروع ہوتا ہے۔ لیکن اس کی شدت بتدریج بڑھتی رہتی ہے۔ موسمی حالات کے مطابق ستمبر کے شروع میں اس کا حملہ شدت اختیار کر جاتا ہے اور سنڈیاں پتوں کا سبز مادہ بند نالی بنا کر کھاتی ہیں۔
دھان پتہ لپیٹ سنڈی تدارک
دھان میں پتہ لپیٹ سنڈی کے تدارک کیلئے حملے کی ابتدا میں جب کھیت میں چند پودے متاثر ہوں تو متاثرہ پتوں کو کاٹ کر تلف کردیں۔ نائٹروجنی کھادوں کا غیر ضروری استعمال نہ کریں کیونکہ ان کے وجہ سے فصل کی سبز گہری رنگت اور نرمی پتہ لپیٹ سنڈی کے پروانوں کو مائل کرنے کا سبب بنتی ہے۔سایہ دار جگہوں پر پتہ لپیٹ سنڈی کا حملہ شدید ہوتا ہے لہذا اگر کھیت پر درختوں وغیرہ کا سایہ زیادہ ہو تو وہاں دھان کاشت نہ کریں۔ روشنی کے پھندے ان کیڑوں کے پروانوں کو تلف کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ اس لئے رات کے وقت کھیتوں میں روشنی کے پھندے لگائیں ۔جڑی بوٹیوں خصوصاً گھاس کو اپنے کھیت اور وٹوں پر سے تلف کردیں۔ پتہ لپیٹ سنڈی سے بچاؤ کیلئے ایک دو پراوانے نظر آتے ہی یا پنیری منتقلی کےپینتالیس دن بعد اور ساٹھ دن بعد دو مرتبہ کارٹاپ ہائیڈروکلورائڈ چار فیصد جی ڈالیں۔ اگر سنڈی کا حملہ شروع ہو جائے تو فلوبینڈامائڈ چار سو اسی ایس سی پچاس ملی لیٹر یا لیمڈاسائی ھیلوتھرن دو اعشاریہ پانچ ای سی دو سو پچاس ملی لیٹر سو لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں ۔
Reference
http://www.agripunjab.gov.pk/
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"













