جڑی بوٹیاں کپاس کی پیداوار میں کمی ، فصل کے نقصان دہ کیڑوں کی پناہ گاہ اور کاشت کے کام کاج انجام دینے میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ یہ اپنی جڑوں سے کیمیائی مادے خارج کرکے پودوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور کپاس کے پتہ مروڑ وائرس اور ملی بگ کے پھیلاؤ کا باعث بھی بنتی ہیں ۔ کپاس کی جڑی بوٹیوں میں اٹ سٹ، مدھانہ گھاس، جنگلی چولائی، لہلی، قلفہ، تاندلہ، ہزاروانی، کھبل اور ڈیلا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ کپاس کی فصل پر کیڑوں اور وائرس کا حملہ عموما" کھالوں، وٹوں اور سڑکوں کے کناروں پر موجود جڑی بوٹیوں سے شروع ہوتا ہے، لہذا ان کو ہر صورت تلف کریں۔ کپاس کی فصل میں جڑی بوٹیوں کا تدارک کیمیائی اور غیر کیمیائی طریقوں سے کیا جا تا ہے۔

کپاس جڑی بوٹیوں کا غیر کیمیائی کنٹرول

کپاس میں جڑی بوٹیوں کا غیر کیمیائی کنٹرول گوڈی سے کیا جاتا ہے۔ اس سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے علاوہ دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مثلاً کھیت میں نمی محفوظ رہتی ہے اور زمین میں ہوا کا گزر بھی بہتر ہوتا ہے۔ گوڈی دو طریقوں سے کر سکتے ہیں۔

خشک طریقہ

خشک گوڈی بوائی کے بعد اور پہلے پانی سے قبل کر سکتے ہیں ۔عموما" ایک خشک گوڈی ہی کافی ہوتی ہے لیکن اس بات کو یقینی بنا لیں کہ تمام جڑی بوٹیوں کی  تلفی ہو گئی ہے ۔ خشک گوڈی کی گہرائی دو سے اڑھائی انچ رکھیں تا کہ وتر ضائع نہ ہو۔ گوڈی کرتے وقت کوشش کریں کہ لائنوں میں پودوں کے درمیان مٹی گرے۔

وتر کا طریقہ

گوڈی مناسب وتر میں کریں تاکہ ڈھیلے نہ بنیں۔ ہو سکے تو ہر آبپاشی اور بارش کے بعد گوڈی کریں ۔ گوڈی کا عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک اس سے کپاس کے پودے ٹوٹنے کا خدشہ نہ ہو

کپاس جڑی بوٹیوں کا کیمیائی کنٹرول

اُگاؤ سے پہلے جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال

تیار زمین پر راؤنی کر یں۔ راؤنی کی ہوئی زمین کو وتر آنے پر "رمبر " ( سہا گہ یا بلیڈ ) لگائیں اور یکساں سپرے کرنے کے بعد سیڈ بیڈ تیار کر کے بوائی کر دیں۔ سیڈ بیڈ تیار کرتے وقت آخری ہل لگانے سے پہلے ہموار زمین پر یکساں سپرے کریں اور ہلکاہل اور سہا گہ لگا کر بوائی کر دیں۔ یہ بہترین طریقہ ہے اور سو فیصد نتائج ملتے ہیں لیکن وقت بہت کم ہوتا ہے۔ تھوڑی سی غفلت سے وتر میں کمی آنے کی وجہ سے اُگاؤ میں کمی آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ پڑیوں پر کاشت کی صورت میں جڑی بوٹیوں کے اُگاؤ سے پہلے سفارش کردہ جڑی بوٹی مار زہر کا سپرے کپاس کی بوائی کے بعد 24 گھنٹے کے اندراندر کریں۔ یہ طریقہ صرف پڑیوں پر کاشت کی گئی کپاس پر استعمال ہوتا ہے۔ ان زہروں کو زمین میں نہ ملائیں۔ان زہروں کو زمین میں ملانے سے اُگاؤ پر برا اثر ہوتا ہے اور کپاس کے پودے اُگتے ہی مر جاتے ہیں۔اُگاؤ سے پہلے استعمال ہونے والی جڑی بوٹی مار زہریں درج ذیل ہیں: پینڈی میتھالین ٪33 ای سی 1000 ملی لٹر فی ایکڑ،ایسٹوکلور + پینڈی میتھالین ٪48 ای سی 1000 ملی لٹر فی ایکڑ ، پینڈی میتھالین + ایس-میٹولاکلور ٪96 ای سی 900 ملی لٹر فی ایکڑ ، میٹولاکلور ٪96 ای سی 800 ملی لٹر فی ایکڑ ، ایس-میٹولاکلور ٪96 ای سی 800 ملی لٹر فی ایکڑ۔

اُگاؤ کے بعد جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال

اُگاؤ کے بعد استعمال کی جانے والی ایسی زہریں جن سے فصل کے نقصان کا احتمال ہو، انہیں ٹی جیٹ نوزل سے شیلڈ لگا کر سپرے کریں. جڑی بوٹی مار زہریں جڑی بوٹیوں کے اُگنے کے بعد استعمال کی جائیں تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ بارش مکان ہو تو زہروں کا سپرے موخر کر دیں۔ اُگاؤ کےبعد استعمال ہونے والی جڑی بوٹی مار زہریں درج ذیل ہیں گلائفوسیٹ ٪48 ایس ایل 1500 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی ، ہیلوکسی فوپ 10.8 ای سی 400 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی ، کویزلوفوپ-پی-ایتھائل ٪15 ای سی 400 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی۔