آلو موزوں آب و ہوا و زمین

آلو کی کاشت خشک اور سرد موسم میں کی جاتی ہے۔ اس لیئے آلو کی کاشت اکتوبرنومبر میں کم درجہ حرارت اور خشک موسم میں کی جاتی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے موسم میں تبدیلی کی وجہ سے آلو کی کاشت کے اوقات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ دو عشرے قبل آلو کی کاشت ستمبر کے دوران کی جاتی تھی لیکن وقت کے ساتھ گرمی کا دورانیہ بڑھنے کی صورت میں آلو کی فصل کو اکتوبر میں کاشت کیا جاتا ہے۔ آلو کی کاشت گہری و باریک تیار شدہ بہتر نکاس والی درمیانی میرا زمین میں کی جاتی ہے۔ کلراٹھی، چکنی اور ریتلی زمین آلو کی کاشت کے لئے موزوں نہیں ہوتی۔

آلو پر بارش کے اثرات

آلو کی فصل پر مختلف اوقات میں ہونے والی بارشوں کے مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ ستمبر اکتوبر کی بارش آلو کی فصل کا اگاؤ متاثر کرتی ہے جبکہ دسمبر اور جنوری میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے آلو کی پیداوار میں کمی آتی ہے۔ اسکے علاوہ جنوری فروری میں زیادہ بارش بھی آلو کی فصل کے لئے نقصان دہ ہے۔ آلو کی فصل میں سردیوں کی بارش کے بعد اگیتا جھلساؤ کی بیماری پھیلتی ہے۔ میدانی علاقوں میں آلو کی فصل پر شدید سردی اور نائٹروجن کی کمی کے باعث پچھیتا جھلساؤ کی بیماری کا حملہ ہوتا ہے۔

آلو پر سموگ اور کہر کے اثرات

اکتوبر کے آخر میں سموگ کی وجہ سے آلو کی فصل کو مطلوبہ روشنی میسر نہیں آتی اور فصل کی نشونما متاثر ہوتی ہے۔اسی طرح اگر دھند کا سسلہ لمبے عرصہ تک جاری رہے تو بھی آلو کی پیداوار میں کمی آ جاتی ہے۔آلو کی فصل کو کہر سے بچانے کے لئے کہر کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام کاشت کی جاتی ہیں اور متوازن کھادوں کےاستعمال کیساتھ ایسے خوراکی اجزاء سپرے کئے جاتے ہیں جو آلو کی فصل میں کہر کے خلاف مزاحمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ موسمی پیشنگوئی کے مطابق کہر پڑنے والی راتوں میں آبپاشی کی جاتی ہے اس طرح کہر سے ہونے والے نقصان سے بچا جاتا ہے۔ آلو کی فصل پر کہر شروع ہونے سے دو ہفتے پہلے امائنوایسڈزپانچ سو ملی لٹر ہفتے کے وقفے سے دو مرتبہ سپرے کی جاتی ہے۔ امائنو ایسڈز کی مختلف اقسام کو تین سے پانچ کلو گرام کے حساب سے فرٹیگیشن کے طریقے سے بھی ڈالا جاتا ہے۔

آلوزمین کی تیاری و شرح بیج

آلو کی کاشت کے لئے چھ سے نو انچ تک گہری اور باریک زمین تیارکی جاتی ہے۔ زمین تیار کرنے کے لئے ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل اور دو تا تین دفعہ عام ہل اور ایک دفعہ روٹاویٹر چلا کر زمین کو نرم اور بھربھرا کیا جاتا ہے۔اسکے بعد زمین کو لیزر لیولر سےاچھی طرح ہموار کیا جاتا ہے۔ آلو کی تازہ پیداوار بیج کے لئے موزوں نہیں ہوتی۔ آلو کی کاشت سے قبل بیج کی خوابیدگی توڑنا ضروری ہو تا ہے ۔اسلئے بیج کو آٹھ تا دس ہفتے سٹور میں رکھا جاتا ہے ۔ اسکے بعد اگیتی کاشت کی صورت میں بوائی سے چار تا پانچ دن اور پچھیتی کاشت کی صورت میں آٹھ تا دس دن پہلے سایہ دار جگہ پر رکھا جاتا ہے۔آلو کی موسمی کاشت کے لئے پینتیس تا پینتالیس من فی ایکڑ آلو استعمال ہوتے ہیں ۔ آلو کی کاشت کے لئے پینتیس تا پچپن ملی میٹر سائز اور چالیس سے پچاس گرام وزن کے آلو بیج کے لئے موزوں ہوتے ہیں۔ دسمبر میں کچے آلو اکھاڑنے کے لئے پچاس من موٹےآلو فی ایکڑ کے حساب سے کاشت کئے جاتے ہیں۔ بہاریہ فصل کے لئے چھوٹے سائز کے بارہ تا پندرہ من آلو درکار ہوتے ہیں۔

آلو وقت و طریقہ کاشت

آلو کی سال میں تین موسمی، بہاریہ اور پہاڑی فصلیں کاشت ہوتی ہیں ۔ موسمی فصل وسط ستمبر سے اکتوبر کے آخر تک کاشت کی جاتی ہے۔ موسمی کاشت میں زیادہ اگیتی یا زیادہ پچھیتی کاشت سے اجتناب کرنا چاہیئے۔آلو کی بیج والی فصل اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں کاشت کی جاتی ہے اور پندرہ جنوری تک بیلیں کاٹ دی جاتی ہیں تاکہ وائرس پھیلانے والے کیڑوں سے فصل کو بچایا جا سکے۔ آلو کی بہاریہ کاشت بیج بنانے کے لئے بہت کم رقبے پر کی جاتی ہے۔ یہ فصل وسط جنوری سے فروری کے شروع تک کاشت کی جاتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں آلو کی کاشت مئی میں کی جاتی ہے اور یہ فصل اگست ستمبر کے دوران تیار ہو جاتی ہے۔

آلو طریقہ کاشت

آلو کی کاشت کے لئے دو تا اڑھائی فٹ کے فاصلے پر کھیلیاں بنائی جاتی ہیں ۔ آلو کی موسمی کاشت کے لئے پودوں کا باہمی فاصلہ نو تا بارہ انچ جبکہ آلو کی بہاریہ کاشت کی صورت میں پودوں کا فاصلہ چھ تا نو انچ رکھا جاتا ہے۔ بیج کی گہرائی تین تا چار انچ رکھی جاتی ہے۔ آلو کی بیج کے لئے کاشت کی گئی فصل میں پودوں کا فاصلہ چھ انچ رکھا جاتا ہے تاکہ زیادہ بیج حاصل ہو سکے۔ آلو کی بہاریہ کاشت میں بیج کو کاٹ کر بھی کاشت کیا جاتا ہے۔ بیج کاٹتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیئےکہ ہر حصہ پر دو یا دو سے زیادہ آنکھیں ہوں۔ کاٹنے کے بعد بیج کو پھپھوند کش پروپینب ستر ڈبلیو پی زہر ضرور لگانا چاہیئے۔ آلو کی کاشت یکساں سائز کے آلو استعمال کر کہ پلانٹر کی مدد سے بھی کی جاتی ہے۔ لیزر سے ہموار شدہ بھاری میرا زمین میں آلو کی کاشت کیلئےتین فٹ کے فاصلے پر کھیلیاں بنائی جاتی ہیں۔ آلو کی دستی کاشت میں دوہری لکیریں لگا کر نو تا بارہ انچ کے فاصلے پر آلو رکھے جاتے ہیں اور ٹریکٹر کی مدد سے مٹی چڑھا کر موٹی موٹی کھیلیاں بنا دی جاتی ہیں۔ اس طریقہ کاشت میں بیج والے آلو زیادہ مقدار میں حاصل ہوتے ہیں۔

آلو برداشت

آلو کی اکتوبر کاشتہ فصل عام طور پر سو تا ایک سو بیس دن مین تیار ہوتی ہے۔ برداشت سے دس تا پندرہ دن قبل آلو کی بیلیں کاٹ دی جاتی ہیں تاکہ آلو کی جلد سخت ہو جاتی ہے۔ مشینی طریقے سے آلو اکھاڑنے کی صورت میں زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ برادشت کے بعد تین چار دن کیلئےآلوؤں کو سایہ دار جگہ پر رکھا جاتا ہے۔آلو کی برداشت کے بعد درجہ بندی کر کے انکو کولڈ سٹورمیں رکھا جاتا ہے۔