پودینہ موزوں آب و ہوا و زمین
پودینہ کی کاشت معتدل سرد اور خشک موسم میں کی جاتی ہے۔ پودینہ کی فصل سردی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پودینہ کیلئے میرا اور بھل والی زمین موزوں ہوتی ہے۔ بھاری میرا، کلر اٹھی اور ریتلی زمین پودینہ کی کاشت کے لئے موزوں نہیں ہوتی۔ پودینہ کی کاشت کے لئے ایسے کھیت کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں سے پانی آسانی سے نکل سکے۔
پودینہ زمین کی تیاری وشرح بیج
پودینہ کی کاشت لیزر سے ہموار شدہ باریک زمین میں کی جاتی ہے۔ پودینہ کی کاشت کے لئے چار سے پانچ مرتبہ ہل و سہاگہ چلا یا جاتا ہے۔ پودینہ کی کاشت بیج کے بجائے جڑوں اور تنوں والا پودینہ سے کی جاتی ہے۔ پودینہ کی نومبر یا دسمبر میں تنوں سے کاشت کی صورت میں ایک ایکڑ کے لئےتین ا نچ قد کی پانچ تا چھ من پودے لگائےجاتےہیں۔ پودینہ کی ستمبر یا اکتوبر میں اگیتی کاشت کی صورت میں جڑوں والا پودینہ استعمال کیا جاتا ہے۔
پودینہ وقت و طریقہ کاشت
پودینہ کی کاشت ستمبر سے لے کر جنوری فروری تک کی جاتی ہے ۔ پودینہ کی کاشت کے لئے دو طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ پہلے طریقے میں ہموار کیاریوں میں پودینے کی کاشت کی جاتی ہے جبکہ دوسرے طریقے میں پودینے کو کھیلیوں کے کناروں پر جڑوں یا تنوں کی مدد سے کاشت کیا جاتا ہے۔ پودینہ کی جڑیں منتقل کرنے کا بہتریں وقت اکتوبر تانومبر ہے۔ جبکہ پودینہ کے تنوں کو نومبر میں کھیت میں منتقل کیا جاتا ہے۔
پودینہ کی کیاریوں میں کاشت
ہلکی میرا زمین میں پودینہ کو کیاریوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ کیاریوں میں کاشت کی صورت میں پودوں کا فاصلہ چھ انچ ا ور قطاروں کا فاصلہ ایک فٹ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ تنوں یا ٹہنیوں سے کاشت کی صورت میں پودوں کا فاصلہ تین انچ رکھ کر کاشت کی جاتی ہے۔
پودینے کی کھیلیوں پر کاشت
بھاری میرا یا چکنی میرا زمین میں پودینے کی کاشت کے لئے کھیلیاں بنائی جاتی ہیں۔ کھیلیاں دو تا اڑھائی فٹ موٹی بنائی جاتی ہیں اور پودینہ ان کھیلیوں کے کناروں پر لگایا جاتا ہے۔ پودینہ کی کاشت نومبر میں کرنے کی صورت میں پودوں کا آپس میں فاصلہ چھ انچ جبکہ جنوری فروری میں کاشت کی صورت میں پودوں کا فاصلہ تین انچ رکھا جاتا ہے۔
پودینہ برداشت
پودینے کی فصل پچاس تا ساٹھ دنوں میں تیار ہو جاتی ہے۔ دسمبر سے جولائی تک پودینے کی چھ تا آٹھ کٹائیاں حاصل کی جاتی ہیں۔ ٹھنڈی جگہوں پر پورا سال پودینہ اگتا ہے۔ عام طور پر پودینے کی پیداوار اڑھائی سو سے تین سو من ہوتی ہے لیکن بہتر حالات میں پیداوار تین سو سے چار سو من فی ایکڑہوتی ہے۔
Reference
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"
