گاجر کے بیج کے لئے کاشت 

گاجر کے بیجوں کی پیداوار دیگرسالانہ فصلوں کے برعکس دو سالہ منصوبہ ہے۔ گاجر کے ڈک پہلے سال میں حاصل کرتے ہیں اوراگلے موسم میں ٹرانسپلانٹ  کیے جاتے ہیں یا پھر کھیت میں چھوڑ دینا چاہیے بشرطیکہ درجہ حرارت موزوں ہو۔ بیج کے لئے کاشتہ فصل کا تیار ہونے پرایک لمبا تنا ہوتا ہے جس سے پھول اور آخر میں بیج نکلتے ہیں۔ بیج بہت چھوٹے اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ اوسطاً لمبائی ایک ملی میٹر سے دو ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ جڑ کی قسم اور رنگ کے لحاظ سے بیج سائز میں مختلف ہوتے ہیں۔

گاجرموزوں زمین ڈک کا انتخاب اور وقت   

ڈک کا انتخاب 

گاجر کی اگیتی کاشت سے  بیج والے ڈک کم مقدار میں دستیاب ہوتے ہیں۔  لیکن گاجر کی ستمبر کاشتہ ایک ایکڑ کی فصل سے تین ایکڑ کے لئے مناسب سائز کے ڈک حاصل  کئے جاتے ہیں۔ جب گاجر سو تا ایک سو دس دن کی ہو جائے تو اسکے ڈک بنا کر وسط دسمبر میں منتقل کئے جاتے ہیں۔ ڈک کے لئے یکساں رنگت اور مناسب سائز کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ 

وقت کاشت 

گاجر کا بیج بنانے کے لئے معتدل گرم خشک موسم اوراٹھائیس تا بتیس سینٹی گریڈ درجہ حرارت موزوں ہوتا ہے۔ چونکہ اس کا تنا کمزور ہوتا ہے اس لئے مئی جون کی آندھی سے فصل متاثر ہو سکتی ہے. کھڑی فصل سے گاجر کا بیج پکانا ہوتو اکتوبر کے آخرمیں کاشت کی جاتی ہے۔

 ڈک وسط دسمبر کے  لگاۓ جائیں  تو زائدہ پیداوار ملتی ہے 

موزوں زمین  
گاجر کے بیج  حاصل  کرنے کے لئے ڈک بھاری میرا زمین میں لگائے جاتے ہیں۔ میرا زمین میں اگر ڈک کاشت کیےجائیں تو گرنے سے نقصان ہوتا ہے۔. 

طریقہ کاشت، کھادیں اور آبپسشی 

ڈک منتقل کرنے سے چند دن پہلے کھاد زمین میں ملا دی جاۓ تو گاجر کے ڈک گلنے سے بچ جاتے ہیں ۔ عین منتقلی کے وقت کھاد ڈالی جائے تو چھوٹے سائز کے ڈکوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 

گاجر کی بیچ والی فصل کو فاسفورس اور پوٹاش ساڑی والی کھادیں زیادہ مقدار میں ڈالی جائیں تو پیج کی زیادہ پیداوار میانی حاصل ہوتی ہے

ڈکوں کا فاصلہ

 پودوں کا فاصلہ چھ تا نو انچ اور قطاروں کا فاصلہ اڑھائی فٹ رکھا جاتا ہے۔
کم فاصلے پر کاشت کی صورت میں فصل زیادہ گھنی  ہو جاتی ہے اور معیاری بیج نہیں بنتا. 

 گاجر کی فصل پر پھول آوری کے دوران اگر کیڑے زیادہ مقدار میں آئیں تو فی ایکڑ بیج کی زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اسلئے پھول آوری کے دوران کیڑے مار  زہرون کا سپرے نہیں کیا جاتا۔

 سفوفی پھپھوندی کا اندیشہ ہو تو مائیکلوبیوٹانل یا پینکونازول جیسی محفوظ پھپھوند کش زہروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 

کھادیں اور آبپاشی 

گاجرکی بیج والی فصل کے لئے  چالیس کلو گرام نائٹروجن، چالیس کلو گرام فاسفورس اور پچاس کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالی جاتی ہے۔ کھاد کی یہ مقدار ایک بوری یوریا ، دو بوری ڈی اے پی اور ایک بوری ایس او پی  یا انکے متبادل کھادوں سے پوری کی جاسکتی ہے۔ بیج والی گاجر کو جنوری سے لے کر مئی جون تک آٹھ مرتبہ پانی لگایا جاتا ہے۔ بیج والی گاجر کی فصل جب تین فٹ سے اونچی ہو جاۓ تو گرنے کا امکان ہوتا ہے، اس لئے آبپاشی  موسمی پیشنگوئی کے مطابق کی جاتی ہے۔ 

 وقت برداشت

ہر گاجر کے ایک پودے سے پندرہ تنے اگتے ہیں۔ ہر تنا شاخوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر شاخ کے سرے پر ایک پھول ہوتا ہے۔ ایک تنے پر تقریباً 20 پھول ہوتے ہیں۔ اور ہر پھول کے سر پرچھوٹے سفید پھولوں کے 30 سے ​​50 گچھے ہوتے ہیں۔ ہر گچھے پر 10 سے 12 چھوٹے پھول ہوتے ہیں۔ ہر چھوٹے پھول سےایک بیج بنتا ہے۔ جب پھول سوکھ جاتے ہیں تو ان کی کٹائی کی جاتی ہے۔ کٹائی کے بعد، ہر پھول سے الگ الگ بیج اتار لیے جاتے ہیں۔

 

Reference: www.agripunjab.gov.pk, Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"