گاجر کی مخلوط کاشت 

گاجر میں مولی یا دھنیا کی مخلوط کاشت کی جاتی ہے۔

وسیع پیمانے پرمخلوط کاشت

 وسیع پیمانے پر گاجر کے ساتھ  مولی کی مخلوط کاشت کی جاتی ہے۔ مخلوط کاشت کے لئے ہلکی میرا زمین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ایسی زمین میں مولی جلدی تیار ہو جاتی ہے ۔ بھاری میرا زمینوں میں مخلوط کاشت نہیں کی جاتی۔  بھاری زمین میں گاجر کی مولی کے ساتھ  مخلوط  کاشت کرنے سے گاجر کی فصل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے.

طریقہ 

 مخلوط کاشت کے لئے لیزر سے ہموار شدہ زمین میں اگست کے آخر میں گاجر کے کھیت میں نصف کلوگرام چھوٹی مولی کے بیج ایک ایک فٹ کے فاصلے پر چوکے کے ذریعے  لگائے جاتے ہیں۔ یا مولی کا بیج گاجر کے بیج کے ساتھ ملا کر چھٹہ کر دیا جاتا ہے۔ 

جڑی بوٹیوں کی تلفی 

گاجر کی مولی کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں جڑی بوٹیوں کی تلفی انتہائی اہم ہے اسکے لئے پینڈی میتھالین زہر  پانچ سو ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کی جاتی ہے۔ 

چھوٹے پیمانے پر مخلوط کاشت

 چھوٹے پیمانے پر گاجر کی مخلوط کاشت کی صورت میں لیزر سے ہموار شدہ ہلکی میرا زمین میں اگست کے آخر یا ستمبر کے شروع میں  اڑھائی فٹ کے فاصلے پر شرقاً غرباً  کھیلیاں بنائی جاتی ہیں۔ کھیلیوں کے شمال میں دھنیا اور جنوب میں گاجر کے چوکے لگائے جاتے ہیں۔ پھر آبپاشی کے ایک دن بعد جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے پینڈی میتھالین زہر ایک لٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کی جاتی ہے۔

 چھوٹے پیمانے پر گاجر کے ساتھ مولی کی مخلوط کاشت بھی کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں  کھیلیوں کے شمال میں گاجر اور جنوب میں مولی کے چوکے لگائے جاتے ہیں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے پینڈی میتھالین زہر نصف لٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کیا جاتا ہے۔ 
 

Reference: www.agripunjab.gov.pk, Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"