زمین کی تیاری و کاشت 

پھول گوبھی کی کاشت بیج اور پنیری کی منتقلی دونوں طریقوں سے کی جاتی ہے۔ دو غلی اقسام کاشتکار ذیادہ تر بیج سے براہ راست کاشت کرتے ہیں۔ فصل کو پھپھوندی سے پھیلنے  والی  بیماریوں سے بچانے کیلئے بیج کو پھپھوندی کُش زہر تھائیوفینیٹ میتھائل زہر دو گرام فی کلوگرام بیج لگا کر کاشت کرنا چاہیئے۔ پھول گوبھی کی کاشت کیلئے اچھے نکاس والی زرخیز زمین موزوں ہوتی ہے۔ اس لیئے کاشت سے چار ہفتے قبل کھیت میں پندرہ سے بیس ٹن فی ایکڑ گوبر کی کھاد اچھی طرح ملا کر آبپاشی کر دی جاتی ہے۔ پھر وتر آنے پر دو سے تین دفعہ  ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ جڑی بوٹیاں اُگ آئیں۔ بوائی کے وقت زمین کو باریک اور ہموار تیار کیا جاتا ہے۔

پھول گوبھی کی بیج اور پنیری دونوں طریقوں میں کاشت اڑھائی فٹ کی پٹڑیوں پر کی جاتی ہے۔ پودے سے پودے کا فاصلہ ایک فٹ رکھا جاتا ہے۔ دو غلی اقسام کے پودوں کی جسامت ذیادہ ہوتی ہے اسلیئے پودے سے پودے کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھا جاتا ہے۔ پنیری منتقلی کیلئے پہلے صبح میں  کھیت کو پانی لگا دیں اور پھر شام میں وتر والی جگہ پر پنیری لگائیں۔

کھادیں

گوبھی کی بوائی کے وقت تین بوری سنگل سپر فاسفیٹ، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔ پھر پنیری منتقل کرنے کے ایک ماہ بعد آدھی بوری یوریا ڈال کر پودوں پر مٹی چڑھا دیں۔ اسکے ایک ماہ بعد ایک بوری یوریا ڈالی کر دوبارہ مٹی چڑھا دیں۔

آبپاشی

پھول گوبھی کے اچھے پھول حاصل کرنے کیلئے زمین میں مناسب نمی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ پھول گوبھی کی نرسری کو پہلا پانی نرسری منتقلی کے فوراً بعد لگایا جاتا ہے۔ اگیتی اقسام کو پہلی تین آبپاشیاں چار دن سے کی جاتی ہیں اور پھر حسب ضرورت آبپاشی کی جاتی ہے۔ جبکہ پچھیتی اقسام کو پہلی دو  آبپاشیاں ہفتہ وار اور پھر حسب ضرورت کی جاتی ہیں۔  

برداشت

گوبھی کے پھول جب تیار ہو جائیں تو ہر دوسرے یا تیسرے دن چنائی ضرور کریں۔ کٹائی کے بعد اگر پھول زیادہ دیر کھیت میں پڑے رہیں تو انکی رنگت خراب ہو جاتی ہے اور قیمت کم ملتی ہے۔