مٹرجڑی بوٹیوں کا تدارک

مٹر کی جڑی بوٹیوں میں جنگلی جئی،اٹ سٹ، ڈیلا، سوانکی، کرنڈ، جنگلی پالک ، چولائی، قلفہ، دمبی گھاس ، پیازی اور باتھو شامل ہیں۔ اگاؤ کے تیسرے سے آٹھویں ہفتے کے دوران جڑی بوٹیاں مٹر کی فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ خصوصا جنگلی جئی پر اگر جلدی قابو نہ پایا جائے تو یہ مٹر کی فصل کے لئےبہت نقصان دہ ثابت ہو تی ہے۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کےلئے گوڈی کرنا   ذیادہ بہتر ہے۔ لیکن  افرادی قوت کی صورت میں  زہروں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔   ۔چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کو تلف کرنےکے لئے دوسری جڑی بوٹیوں سے مختلف زہر استعمال کیئے جاتے ہیں ۔

مٹراگاؤ سے پہلے سپرے

اگر اُگا ؤ سے پہلے سپرے کرنا ہو تو مٹر کی کاشت کے ایک تا دو دن بعد وتر زمین میں پینڈی میتھالین  تینتیس فیصد ای سی  ہزار تا بارہ سو ملی لٹر سو لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ مٹر میں ڈیلا اگنے کا امکان ہو تو ایس-میٹولاکلور نو سو ساٹھ ای سی ہلکی میرا زمین میں چھ سو ملی لٹر جبکہ بھاری میرا زمین میں سات سو ملی لٹر سپرے کریں ۔

مٹر اگاؤ کے بعد سپرے

مٹر کی بوائی کے وقت زہر سپرے نہ کی گئی ہو تو ایک لٹر    بینٹازون اڑتالیس ایس ایل سو لٹر پانی  میں ملا کر سپرے کریں۔ مٹر میں دمب گھاس، دمبی سٹی یا جنگلی جئی کا مسئلہ ہو تو فینوکساپراپ انہتر ایس سی پانچ سو ملی لٹر سو لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ مٹر میں جنگلی ہالوں کی تلفی کے لئے میٹری بوزین استعمال کی جاتی ہے۔

مٹر چھدرائی

مٹر کے پودوں کا قد  بڑھ جائے تو  آٹھ سے دس سینٹی میٹر کے  فاصلے پر اچھے اور صحت مند پودے چھوڑ کر باقی پودے نکال دیں۔ چھدرائی ہمیشہ وتر  حالت میں کریں  تاکہ دوسرے پودے نہ ٹوٹیں۔