مٹر موزوں آ ب و ہوا اور زمین
مٹر معتدل اور سردآب وہوا کی فصل ہے ۔ جس کو اگاؤ کے لیئے درمیانی نمی اور بیس سے پچیس سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاخوں کی بڑھوتری اور پھلیاں لگنے کے لئے سرد اور خشک جبکہ بیج پکنے کے لئے معتد ل، گرم اور خشک موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مٹر کی فصل کافی حد تک سردی اورکہر برداشت کر سکتی ہے۔ لیکن پھو ل آنے کے وقت ہفتہ بھر یا اس سے زیادہ دنوں تک اگر مسلسل کہر یا دھند رہے تو پھول اور چھوٹی پھلیاں متاثر ہونے سے پیداوارمتاثر ہوتی ہے۔
مٹر کی کاشت کیلئے اچھے نکاس والی زرخیز میرا زمین موزوں ہوتی ہے ۔ ایسی زمینیں جہاں پانی زیادہ کھڑا رہتا ہو یا جو آبپاشی کے بعد جلد خشک ہو جاتی ہوں، مٹر کی کاشت کے لیئے غیر موزوں ہیں۔
مٹر زمین کی تیاری اور شرح بیج
مٹر کی کاشت سے کم ازکم ایک ماہ قبل دس سے بارہ ٹن فی ایکڑ کے حساب سے گوبر کی گلی سڑی کھاد کھیت میں ڈال کر مٹی پلٹنے والا ہل چلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کھیت کو کیاریوں میں تقسیم کر کے راؤنی کی جاتی ہے۔ کاشت کے وقت دو سے تین بارہل اورسہاگہ چلا کر زمین کواچھی طرح باریک اور ہموارکیا جاتا ہے۔
مٹر کی اگیتی کاشت کے لئے پینتیس سے چالیس کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جاتا ہے ۔ بیج کا اگاؤ کم ہو یا موسم گرم ہو تو بیج کی شرح پچاس کلو گرام فی ایکڑ کر دی جاتی ہے ۔ درمیانی (وسط اکتوبر) کاشت کی صورت میں بیس سے پچیس کلو گرام اور پچھیتی (نومبر) کاشت کے لئے بیس کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جاتا ہے۔ مٹر کو نومبر کے دوران چوکے سے کاشت کرنے کی صورت میں چھوٹے قد والی اقسام کا پچیس کلو گرام جبکہ بڑے قد والی اقسام کا بارہ تا سولہ کلو گرام بیج استعمال کیا جاتا ہے۔ مٹر کے بیج پر جراثیمی ٹیکہ کا استعمال پودوں کی بڑھوتری اور پیداوار پر مثبت طور پر اثرانداز ہوتا ہے۔بیج کوجراثیمی ٹیکہ لگانے کیلئے دو سو پچاس ملی لٹر پانی میں پچاس گرام چینی یا گڑ ملا یا جاتا ہے۔ اس محلول میں جراثیمی ٹیکے کاپیکٹ اچھی طرح مکس کرکے بیج پر لگادیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بیج کو سایہ دارجگہ پر خشک کر کے کاشت کیا جاتا ہے۔
مٹر وقت اور طریقہ کاشت
مٹر کی اگیتی کاشت ستمبر کے آخری یا اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں کی جاتی ہے۔ کاشت کے لئے وقت کا دارومدار بارشوں پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ ستمبر کے مہینے میں دو مرتبہ بارش ہوجا ئے تو بیس ستمبر سے کاشت شروع کر دی جا تی ہے۔بارش نہ ہونے کی صورت میں مٹر کی کاشت وسط اکتوبر تک کی جاتی ہے۔مٹر کی پچھیتی اقسام کی کاشت نومبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہو جاتی ہے۔ جبکہ بیج والی فصل اکتوبر کے آخر سے نومبر کے شروع تک کاشت کی جاتی ہے۔ مٹر کی اگیتی فصل کو مسلسل مگر ہلکی آبپاشی کی جاتی ہے۔ اس سے زمین ٹھنڈی رہتی ہے اور اکھیڑ ے کی بیماری کا حملہ کم ہوتا ہے ۔ تیس سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر مٹر کاشت کرنے کی صورت میں اکھیڑے کی بیماری کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔
مٹر کاشت بذریعہ چوکا
چوکے سے کاشتہ مٹر، چھٹے یا کیرے کے مقابلے میں زیادہ پیداوار دیتے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ کاشت کم رقبے کیلئے زیادہ موزوں ہے۔ اگر مٹر کی اگیتی کاشت کی جارہی ہو تو اڑھائی فٹ چوڑی پٹٹریوں کے دونوں کناروں پر ڈیڑھ سے دو انچ کے فاصلہ پر چوکے لگا ئے جاتے ہیں ۔ درمیانی اور پچھیتی کاشت کے لئے دو فٹ کی پٹٹریوں پر تین انچ کے فاصلے پر مٹر کے چوکے لگا ئے جاتے ہیں ۔ غیر ملکی اقسام کے پودوں کو پٹڑی کے صرف ایک طرف (شمالی کنارے پر) دو انچ کے فاصلے پر کاشت کیا جاتا ہے ۔
کاشت بذریعہ چھٹہ
مٹر کی وسیع پیمانے پر کاشت کی صورت میں کھیت میں بیج کا چھٹہ کیا جاتا ہے۔ پھر رجر کی مدد سے پٹٹر یاں بنا کر پہلا پانی لگایا جاتا ہے ۔
کاشت بذریعہ کیرا یا ڈرل
مٹر کی بیج والی فصل نومبر اور دسمبر میں کیرا یا ڈرل سے کاشت کی جاتی ہے ۔ مٹر کی دیسی اقسام کاپچیس کلوگرام جبکہ بڑے قد والی غیر ملکی اقسام کابارہ سے سولہ کلوگرام بیج استعمال کیا جاتا ہے۔مٹر کی دیسی اقسام کے لیئے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر بنائی گئی کھیلیوں کے دونوں طرف ڈیڑھ لاکھ پودے جبکہ غیر ملکی اقسام کے لیئے چار فٹ کے فاصلے پر بنائی گئی پٹڑیوں کے دونوں کناروں پر طرف پچھتر ہزار پودے فی ایکڑ کے حساب سے لگا ئے جاتے ہیں۔
مٹر فصل کی چنائی یا برداشت
مٹر کی فصل کا دورانیہ اسی سے ایک سو پچاس دنوں تک محیط ہوتا ہے۔ مٹر کی اکتوبر میں کاشت کی گئی فصل ساٹھ تا پچھتر دنوں میں تیار ہو جاتی ہے۔ مزید دو ہفتے بعد دوسری چنائی کر کے یہ فصل ختم کر دی جاتی ہے۔مٹر کی نومبر کے شروع میں کاشتہ درمیانی اقسام کی پہلی چنائی ایک سو دس دن بعد کی جاتی ہے۔ اور انکی چنائی کا عمل ایک سو پچاس دن تک جاری رہتا ہے۔ نومبر و دسمبر کاشتہ اقسام کا دورانیہ ایک سو بیس تا ایک سو پچاس دن ہوتا ہے۔ ان اقسام کی تین چنائیاں کی جاتی ہیں۔
مٹر بیج کو سٹور کرنا
مٹر کے بیج کو پٹ سن کی بوریوں میں بھر کر سائے میں ہوا دار جگہ پر لمبے عرصے کے لیئے سٹور کیا جا تا ہے- سٹور کرتے وقت بیج میں نمی سات سے آٹھ فیصد رکھی جاتی ہے۔ بیج کو سٹور کرنے کے لئے ہوا میں نمی پانچ اعشاریہ پانچ فیصد اور درجہ حرارت تیس ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے۔ بیج کی بوریوں کو زمین کے بجائے لکڑی کے چوکھٹے پر رکھا جاتا ہےتاکہ زمین سے نمی بیج تک نہ پہنچے۔
