پیاز معتدل اور خشک موسم کی فصل ہے۔ جس  کو  اگاؤ کے لئےکم سے کم تین سےپانچ ، اوسطاً دس سے پندرہ اور زیادہ سے زیادہ بتیس سےپینتیس ڈگری سینٹی گریڈدرجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیاز کا عمومی اگاؤ ستر تا نوے فیصد ہوتا ہے۔

پیاز نرسری متقلی

پیاز میرا اور ہلکی میرا زمین میں بہتر پیداوار دیتا ہے ۔  کلراٹھی اور ریتلی زمین میں پیاز کی پیداوار کم ہوتی ہے۔پیاز کم گہری جڑوں والی فصل ہے اس لئے زمین زیادہ گہرائی تک تیار  نہیں کی جاتی۔  کاشت سے دو ماہ قبل کھیت میں گلی سڑی کھاد ایک من فی مرلہ کے حساب سے ڈال کر  آبپاشی کی جاتی ہے۔ وتر آنے پر دو تین دفعہ ہل اور سہاگہ چلاکر چھوڑ دیا جاتا  ہے تاکہ جڑی بوٹیاں اگ آئیں اور  زمین  کی  تیاری کے وقت تلف کی جا سکیں۔ پیاز کی کاشت کیلئے   لیزر لینڈ لیولر کی مدد سے ہموار شدہ زمین میں روٹا ویٹر چلانے کے بعد رجر کی مدد سے کھیلیاں بنائی جاتی ہیں۔ پیاز کی پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے کیلئے وتر حالت میں اُکھاڑہ جاتا ہے تاکہ پودوں کی جڑیں نہ ٹوٹیں ۔ میرا اور ہلکی میرا زمینوں میں پیاز   کیاریوں میں منتقل کیا جاتا ہے ۔ جن کا  باہمی فاصلہ چھ تا نو انچ   رکھا جاتا ہے۔ جبکہ بھاری میرا اور  سخت زمینوں میں  پیاز کی کاشت دو  تا  اڑھائی فٹ کی کھیلیاں بنا کر کی جاتی ہے۔پودے کھیلیوں کے دونوں طرف چار انچ کے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں ۔ پودے لگانے کے بعد  کھیت کو پانی  لگا یا جاتا ہے۔ پیاز کی پنیری کو  کاربنڈازم محلول میں  ڈبو کر کاشت کیا جائے تو فصل ابتدائی بیماریوں سے محفوظ رہتی  ہے ۔  پیاز کی دیسی اقسام کی دو قطاریں جبکہ دوغلی اقسام کی ایک قطار لگائی جاتی ہے۔

پیاز کی برداشت

پیاز کی درست وقت پر برداشت سے اسکو ذیادہ لمبے عرصے تک زخیرہ کیا جا سکتا ہے ۔  پیاز کی برداشت کے قابل ہونے کی پہچان یہ ہے کہ پیاز کے پتوں اور  جڑوں کی بڑھوتری رُک جاتی ہے۔ تنا خشک ہوکر جھک جاتا ہے۔   پیاز کی نرسری سے کاشت کی ہوئی موسم خزاں کی فصل  جنوری سے مارچ تک برداشت کے قابل ہو جاتی ہے جبکہ موسم بہار کی فصل  مئی میں برداشت کے قابل ہوتی ہے۔پیاز کی برداشت اگر اس حالت مین کر لی جائے کہ  پتے سبز ہو ں تو پھپھوندی کے حملے سے پیاز خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔