آلو کھادوں پلان
آلو کی اچھی پیداوار کے لئے گوبرکی گلی سڑی کھاد بارہ تا پندرہ ٹن فی ایکڑ یا پچاس من پولٹری کی کھاد بوائی سے ایک مہینہ قبل کھیت میں ڈال کر بذریعہ ہل زمین میں ملائی جاتی ہے۔ سبزکھادوں مثلاً گوارہ اور جنتر کےاستعمال سے بھی بہتر پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ آلو کی فصل کیلئے عام طور پر سو کلو نائٹروجن، ساٹھ کلو فاسفورس اور پچاس کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ کی سفارش کی جاتی ہے۔ یہ مقدار اڑھائی بوری ڈی اے پی، دو بوری ایس او پی اور تقریباً ساڑھے چار بوری یوریا کھاد سے پوری کی جاتی ہے۔ آلو کی فصل میں فاسفورس اور پوٹاش کی کھادیں زیادہ گہرائی میں نہیں ڈالی جاتیں۔ جبکہ یوریا کھاد تین حصوں میں ڈالی جاتی ہے ۔ پہلا حصہ کاشت کے ایک ماہ کے اند رڈالا جاتا ہے۔ بقیہ دو حصے پہلی دوفعہ کے بعد دو ماہ کے اندر ڈالے جاتے ہیں۔
آلو اگانے والے سب کاشتکار ایک جیسی کھادیں استعمال نہیں کرتے۔ کچھ کاشتکار چار تا پانچ بوری زرخیز کھاد ڈآل کر آلو کی بھرپور پیداوار حاصل کرتے ہیں۔جبکہ کچھ کاشتکار دو بوری ایس او پی، چار بوری ڈی اے پی اور پانچ بوری یوریا ڈالتے ہیں۔ اگر پولٹری کھاد یا گوبر کی کھادنہ استعمال کی گئی ہو تو پانچ کلو زنک سلفیٹ، پانچ کلو فیرس سلفیٹ، پانچ کلو مینگانیز سلفیٹ اور تین کلو بورک ایسڈ ڈالا جاتا ہے۔ آلو کی کاشت اگرسخت یا کلراٹھی زمین میں کی جا رہی ہو تو دس کلو گرام سلفر زمین کی تیاری کے وقت ڈالی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ آلو کا اگاؤ مکمل ہونے پر زمین کو نرم کرنے کے لئے دس کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے ہیومک ایسڈ پر مبنی پوٹاشیم بھی استعمال کی جاتی ہے۔
آلو آبپاشی پلان
آلو کی ستمبر کاشتہ فصل کو فروری تک عموماً آٹھ تا دس دفعہ آبپاشی کی جاتی ہے۔ پہلی آبپاشی کاشت کے فوراً بعدکی جاتی ہے اور پانی کھیلیوں کے نصف تک لگایا جاتا ہے۔ اسکے بعد دوسری آبپاشی ایک ہفتے کے اندر اندر دو تہائی اونچائی تک کی جاتی ہے۔ اسکے بعد ہر سات سے دس دن کے اندر آبپاشی کی جاتی ہے۔ آلو کی فصل کے کسی بھی مرحلے پر بھرپور آبپاشی نہیں کی جاتی کیونکہ زیادہ پانی سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ آلو برداشت کرنے سے پندرہ دن پہلے آبپاشی بند کر دی جاتی ہے۔
























