برسیم معتدل آب و ہوا کی فصل ہے۔ شدید سردی اور دھند میں برسیم کی نشونما متاثر ہوتی ہے اور پتوں کی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے۔
برسیم شرح بیج
برسیم کا اگاؤ عام طور پر پچاسی فیصد سے زیادہ ہوتا ہے۔ بیج کی روئیدگی دو سال تک تسلی بخش رہتی ہے لیکن بہترپیداوار حاصل کرنے کے لئے ایک سال سے زیادہ پرانا بیج استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ برسیم کی اگر اگیتی کاشت کی جا رہی ہو اور درجہ حرارت پینتیس سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو توآٹھ کلو گرام یا زیادہ بیج استعمال کیا جاتا ہے۔ معتدل موسم میں کاشت کی صورت میں چھ کلو گرام بیج استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ جئی کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں برسیم اور جئی کا بیج بلترتیب چھ اور دس کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جاتا ہے۔ سرسوں کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں برسیم کا آٹھ کلو گرام جبکہ سرسوں کا ڈیڑھ کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جا تا ہے۔ رائی گھاس کے ساتھ کاشت کی صورت میں سات کلو گرام برسیم اور ایک کلو گرام رائی گھاس کا بیج فی ایکڑ استعمال کیا جاتا ہے۔ برسیم کی فصل پر اگر جڑی بوٹیوں یا بیماری کا حملہ متوقع ہو تو دیسی اقسام کا دس کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جاتا ہے۔
زمین اور اسکی تیاری
برسیم کی کاشت کے لئے بھاریاور ہلکی میرازمین موزوں ہوتی ہے۔ بارانی علاقوں میں برسیم کی پیداوار اچھی نہیں ہوتی۔ کاشت کیلئے تین تا چار دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین اچھی طرح نرم اورہموار کر لیا جاتا ہے۔اس سے پانی کی بچت اور یکساں اگاؤہوتا ہے۔
برسیم طریقہ کاشت
برسیم کی کاشت کا بہترین وقت یکم تا وسط اکتوبر ہے ۔ لیکن موسم کے مطابق برسیم کی کاشت نومبر کے آخر تک بھی کی جاسکتی ہے۔اگیتی کاشت کی صورت میں جڑی بوٹیاں خصوصا اٹ سٹ اگ آتی ہے جس سے پیداوار میں کمی آتی ہے۔ برسیم کی پچھیتی کاشت میں کم کٹائیاں حاصل ہوتی ہیں۔ برسیم کی کاشت کے لئے بوائی کے وقت کھاد کا چھٹہ دے کر ہل اور سہاگہ چلانے کے بعد مناسب کیاریاں بنا ئی جاتی ہیں اور کھڑے پانی میں برسیم کے بیج کا چھٹہ دیاجاتا ہے۔ بہتر اگاؤ کے لئے برسیم کو دوہرہ چھٹہ دے کر کاشت کیا جاتا ہے۔
برسیم کا جراثیمی ٹیکہ
برسیم کی مجموعی پیداوار میں اضافہ کے لئے بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔اس کے لئے نصف لٹر پانی میں سو گرام چینی کا محلول بنا کر اس میں ایک جراثیمی ٹیکے کا پیکٹ ڈالا جاتا ہے اورآٹھ کلو گرام برسیم کے بیج کے ساتھ ملا کرسایہ دار جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے یاپچھلے سال والے برسیم کے کھیت سے پانچ من مٹی لا کرکھیت میں ڈالی جاتی ہے۔ اس طرح پودے کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
برسیم آبپاشی
برسیم کوزمین اوراقسام کی مناسبت سے پانچ تا آٹھ آبپاشیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ برسیم کی بوائی بذریعہ چھٹہ کھڑے پانی میں کی جاتی ہے۔ پہلا پانی بوائی کے ایک ہفتہ بعددیا جاتا ہے۔ دوسرا پانی بھی ہفتے دس دن بعد دیا جاتا ہے۔ جبکہ سردیوں میں صرف ایک یا دو پانی لگائے جاتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ پانی لگانے کی صورت میں بیماری کا حملہ ہوسکتا ہے۔ برسیم کی اچھی پیداوار کیلئے نہری پانی کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے۔
برسیم کھادوں کا استعمال
برسیم کی کاشت کے لئے تیرہ کلو گرام نائٹروجن اور پینتیس کلو گرام فاسفورس استعمال کی جاتی ہے۔ یہ مقدار ڈیڑہ بوری ڈی اے پی سے پوری ہوجاتی ہے۔ برسیم کی فصل میں ڈی اے پی کے استعمال سے پہلی کٹائی اچھی ہوتی ہے۔ فصل میں بوائی سے ایک ماہ قبل گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈالنے سے ڈی اے پی کی مقدار کم استعمال ہوتی ہے اور پہلی کٹائی جلدی تیار ہو جاتی ہے۔
برسیم کٹائی
برسیم کی پہلی کٹائی پینتالیس سے ساٹھ دن بعد کی جاتی ہے۔ اسکے بعد ہر ماہ بعد ایک کٹائی کی جاتی ہے۔ زیادہ کٹائیاں حاصل کرنے کے لئے ہر کٹائی کے آٹھ دن بعد امائینو ایسڈ سو لٹر پانی میں ملا کر سپرے کرنا چاہیئےکٹائی صبح کے وقت کبائن ہارویسٹر سے کی جاتی ہے بصورت دیگر فصل کو کاٹ کر کھیت میں ہی ڈھیر لگایا جاتا ہے اور خشک کر کے تھریشر سے گہائی کی جاتی ہے۔
برسیم کی بیج والی فصل کو پوری طرح پکنے پر کاٹنا چاہیئے۔ کیونکہ سبز ڈوڈیوں سے زرد کچے بیج حاصل ہوتے ہیں۔ برسیم کی سبز چارے والی اگیتی اقسام سے مارچ کے آخر تک تین چار کٹائیاں لے کر اسکو بیج بننے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ پچھیتی اقسام کو اپریل کے پہلے ہفتہ تک بیج بننے کے لئے چھوڑا جاتا ہے۔ پھول آنے پر فصل کو حسب ضرورت پانی لگایا جاتا ہے۔ اس طرح موٹے اور صحت مند بیج بنتے ہیں۔











