تربوز کھادوں کا پلان
درمیانی میرا زمینوں میں تربوز کے لیے پچیس کلو گرام نائٹروجن ، تیس کلو گرام فاسفورس اور پینتیس کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالی جاتی ہے ۔ ہلکی میرا زمینوں میں پچاس کلو گرام نائٹروجن ، پچاس کلو گرام فاسفورس اور پچاس کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالی جاتی ہے ۔ بہتر پیداوار کے لیے ایک تہائی نا ئٹروجن، تمام فاسفورس اور نصف پوٹاش بوقت کاشت ڈالی جاتی ہے ۔باقی نا ئٹروجن اور پوٹاش کاشت کے پینتیس سے ستردن کے اندر اندار قسط وار ڈالی جاتی ہے۔ تربوز کی جڑیں سطح زمین کے قریب کافی دور تک پھیل جاتی ہیں ،لہذا کھادیں زیادہ گہرائی تک زمین میں ملانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تربوز کی کاشت کے لئے بجائی کے دوران پولٹری کی کھاد پچاس من فی ایکڑ کے حساب سے ڈال کراچھی طرح زمین میں ملا دی جاتی ہے اسطرح فاسفورس اور پوٹاش والی کھادوں کی مقدار میں پچاس فیصد تک کمی آتی ہے۔
تربوزآبپاشی کا پلان
تربوز کی فروری مارچ میں کاشت ہونے والی فصل کو آٹھ سے دس مرتبہ آبپاشی کی جاتی ہے۔ مناسب اگاؤ کے لیے پہلا پانی احتیاط سے لگا یا جاتا ہے او ربھرپور آبپاشی سے گریز کیا جاتا ہے ۔ دوسرا پانی بھرپور طریقے سے لگایا جاتا ہے۔تربوز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بیلوں کو سو کا لگایا جاتا ہے جس سے پھول آوری کا آغاز جلدی ہو تا ہے ۔ پھل لگنے کے بعد فصل کو جلدی پکانے کے لئے پانی روکا جا تا ہے ۔ تربوز کی فصل کو گرم موسم میں دوپہر کے وقت پانی نہیں لگانا چاہیئے۔ شام کے وقت صرف اتنا پانی لگانا چاہیئے کہ رات کے دوران سارا پانی خشک ہوجائے۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ پانی پٹڑیوں کے اوپر ہرگز نہ چڑھے ۔زیادہ سوکا لگا کر آبپاشی کرنے سے پھل پھٹ جاتا ہے۔ اس لئے گرم وخشک موسم میں زیادہ سوکا لگنے سے پہلے پہلے آبپاشی کر دینی چاہیئے ۔
حوالہ: محمکہ زراعت حکومت پنجاب ، محمد عاشق: منافع بخش کاشت
