­خربوزہ کی کاشت

خربوزہ  کا اگاؤ معتدل گرم اور خشک آب و ہوا میں بہترہوتا ہے۔  مئی اور جون  کے مہینوں میں پھل  کے پکنے کے دوران ہفتے بھر کے لئے درجہ حرارت پینتیس سینٹی گریڈ ہو تو  خربوزے کی فصل سے بھر پور پیداوار حاصل ہو تی ہے۔ پھول آنے کے دوران  درجہ حرارت اٹھائیس سے پینتیس سینٹی گریڈ اور نمی کا تناسب چالیس فیصد سے کم ہونے پر روئیں دار پھپھوندی کے حملےکے امکانات  قدرے کم ہو جاتے ہیں۔

خربوزہ موزوں زمین و وقت کاشت

خربوزے کی کاشت کے لئے   زیادہ نامیاتی مادہ والی  ریتلی میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں ہے جبکہ کلراٹھی اور زیادہ چکنی زمین خربوزے کی کاشت کے لیے غیر موزوں   ہے۔

خربوزے کی  فصل کہر کو برداشت نہیں کر سکتی ۔ اسلئے خربوزے کی کاشت وسط فروری سے مارچ کے پہلے ہفتے تک کی جاتی ہے۔  فروری میں کاشت کی گئی اگیتی فصل اچھی پیداواردیتی ہے۔جبکہ مارچ کے آخر میں کاشت کی گئی فصل کی فی ایکڑ پیداوار کم ہوتی ہے۔ خربوزہ کی ٹنل میں کاشت وسط دسمبر میں کی جاتی ہے۔ خربوزہ کی  نرسری کے طریقے سے  کاشت  جنوری کے شروع میں کی جاتی ہے اور     نرسری کی منتقلی موسمی حالات کے لحاظ سے فروری کے آخر یا  مارچ کے شروع میں کی جاتی ہے

خربوزہ  زمین کی تیاری و شرح بیج

خربوزے کی فصل کے بہتر اگاؤ  کے لیے  باریک زمینی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔  خربوزہ  کی جڑوں کی گہرائی  کم ہوتی ہے  لہذا زمین  زیادہ گہری میں  تیار نہیں  کی جاتی۔ البتہ کھالیوں کی گہرائی زیادہ رکھی جاتی ہے  تاکہ مئی جون کے  مہینوں کے دوران پانی کی مناسب مقدار دستیاب رہے۔ خربوزے کی کاشت  کیلئے ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل چلا یا جاتا ہے ۔  لیزر کی مدد سے زمین کو  ہموار کیا جاتا  ہے جس سے کھیت  میں پانی کی یکساں تقسیم  ہوتی ہے اور اگاؤ  بہتر ہوتا ہے ۔خربوزہ کی کاشت سے ایک ماہ پہلے زمین کو اچھی طرح ہموار کر کے دس تا بارہ ٹن فی ایکڑ گوبر کی گلی  سڑی کھاد ڈال کر ہل کی مدد زمین میں ملا دی جاتی ہے۔خربوزہ کی تیاری کے لئے تین تا چار دفعہ ہل وسہاگہ چلا کر زمین نرم کی جاتی ہے۔ خربوزے کی دیسی اقسام  کی کاشت کے لیے  ایک کلو گرام   جبکہ دوغلی اقسام کے لئے تین سو تا چار سو گرام    بیج فی ایکڑ استعمال کیا جاتا  ہے۔

خربوزہ طریقہ کاشت

خربوزہ کھیت میں  کاشت

خربوزہ کی فصل کو اچھی طرح ہموار اور تیار شدہ ز مین میں آٹھ فٹ چوڑی پٹڑیاں بنا کر کاشت کیا جاتا ہے۔ پٹڑیوں کے درمیان پانی لگانے کے لئےڈیڑھ فٹ چوڑی کھالی بنائی جاتی ہے۔ پٹڑیوں کے دونوں  کناروں پر ایک تا ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر  چوکا لگایا جاتا ہے۔فصل کے اگاؤ کے بعد ہر سوراخ میں ایک پودہ چھوڑ کر فالتو پودہ نکال دئے جاتے ہیں۔خربوز کے بیج کو     بوائی سے چند گھنٹے قبل بھگو   نے سے اگاؤ بہتر ہو تا ہے۔دوغلی اقسام میں مادہ پھولوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اوران کا  قد بھی دیسی اقسام کے مقابلے میں چھوٹا ہوتا ہے۔ لہذا   ان اقسام کےلئے پودوں کا باہمی فاصلہ ایک فٹ اور پٹڑیوں کا  فاصلہ چھ سے  سات فٹ رکھا جاتا ہے ۔

خربوزہ نر سری سے کاشت

  خربوزے کی نرسری تیار کرنے کے لئے پلاسٹک ٹرے میں پیٹ ماس کو بطور کاشتی میڈیا استعمال  کیا جاتا ہے۔خربوزے کے بیج  دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں کاشت کئے جاتے ہیں۔  اورنرسری ایک سے ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر منتقلی کے لئے تیار ہو جاتی ہے  ۔ کہر کا خطرہ ٹلنے کے بعد   وسط فروری میں پہلے سے تیار کیے گئے کھیت میں نرسری کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔

خربوزہ ٹنل کاشت

خربوزے کی دوغلی اقسام  ٹنل میں کاشت  کی جاتی ہیں ۔ خربوزہ کی وسط دسمبر کے بعد لو ٹنل میں  کاشت کی صورت میں  فصل روایتی   فصل سے  تین ہفتے قبل یعنی مئی کے شروع میں تیار ہو جاتی ہے اور  لمبے عرصے تک پھل بھی  پیدا کرتی ہے ۔  خربوزہ کی پٹڑیوں کے مقابلے میں جال پر چڑھنے والی بیلوں کی پیداواری صلاحیت   میں خاطر خواہ  اضافہ ہو جاتا ہے۔  خربوزے کی بیلیں جال پر آسانی سے نہیں چڑھ پاتیں ۔ بیلوں کو ہفتے میں دو بار کوشش سے جال پر چڑھا  یا جاتا ہے ۔

خربوزہ بیج کو چوہے  سے بچانا

خربوزہ کے بیجوں کو چوہوں سے بچانے کے لئے چوہے مار ٹکیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ ان ٹکیوں میں زہر ملا ہوتا ہے۔ٹکیوں کا استعمال ٹنل میں کاشت کی صورت میں کیا جاتا ہے۔  خربوزہ کے بیجوں کو زنک فاسفائیڈ لگا کر کاشت کرنے سے بھی چوہوں  کو فصل سے دور رکھا جاتا ہے۔زنک فاسفائیڈ لگانے کے لئے ایک حصہ زہر اور تین حصہ آٹا ملا کر لئی بنائی جاتی ہے اور بیج  پر لگا کر گولیاں بنائی جاتی ہیں  اورخشک کر کے کاشت کیا  جاتا ہے۔   خربوزہ کی ٹنل میں کاشت کی صورت میں  فصل کو چوہوں سے بچانے کے لئے تھمٹ زہر ہر کھیلی کے دونوں جانب بیس گرام رکھ کرٹنل کو دس دن  کے لئے  ڈھانپ دیا  جاتا ہے۔

خربوزے کی چنائی

خربوزے کی فروری میں کاشتہ فصل پہلی چنائی کے لئے اوسطاً پچاسی سےپچانوے دنوں میں تیار ہو جاتی ہے اور یہ فصل وسط مئی سے وسط جون کے درمیان بھر پور پھل دینے لگتی ہے۔  خربوزے کے پوری طرح پکنے سے پہلے  اس کی رنگت معمولی  تبدیل ہونے پر چنائی کر لی جاتی ہے اور اسے  با آسانی اور بروقت  مارکیٹ میں پہنچایا جاتا ہے ۔ نیم  تیار پھل چنائی کے بعد فریج میں رکھے بغیر دو سے تین دن تک استعمال ہو سکتا ہے۔ اس لئے خربوزے کے زیادہ پکنے سے پہلے پہلے  اس کی چنائی کی جاتی ہے ۔  پھل توڑتے وقت  کافی احتیاط  برتی جاتی ہے ۔ چنائی کے دوران نہ ہی بیلوں کو  الٹ پلٹ    کیا جاتا ہے اور نہ  ہی بیلوں کے اوپر پاؤں رکھا جاتا ہےکیونکہ بیلوں کی زیادہ اکھاڑ پچھاڑ کرنےسے بار آ وری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

Reference

http://www.agripunjab.gov.pk/

Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"