لوکی/ گھیا کدو کاشت
کدو کی کاشت کے لئے گرم اور خشک آب و ہوا موزوں ہے۔ یہ فصل سردی اور کہر برداشت نہیں کر سکتی ۔ زیادہ بارش کی صورت میں بیلیں بڑھ جاتی ہیں اور روئیں دار پھپھوندی کا حملہ ہوتاہے۔ گرم اور مرطوب موسم میں بیلیں زیادہ بڑھتی ہیں لیکن پھل کم لگتا ہے۔ کدو کے اگاؤ کے لئے کم ازکم تیرہ تا پندرہ ، اوسطا چوبیس تا ستائیس اور زیادہ سے زیادہ پینتیس تا اٹھائیس درجے سینٹی گریڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔پھل آوری کے دوران درجہ حرارت سینتیس درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ ہونے کی صورت میں نر پھول زیادہ اور مادہ پھول کم لگتے ہیں۔چالیس سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
گھیا کدو موزوں زمین اور اسکی تیاری
کدو کی پیداوار میرا و بھاری میرا زمیں بہتر ہوتی ہے۔تاہم یہ فصل سیم تھور والی زمین کے علاوہ ہر قسم کی زمین میں کاشت کی جاتی ہے۔ کدو کو باریک زمینی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ کدو کی کاشت کے لئے بوائی سے ایک ماہ پہلے دس تا بارہ ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد زمین میں ڈال کر سہاگہ پھیرا جاتا ہے۔بوائی کے وقت اچھی طرح دو تین مرتبہ ہل چلا یا جاتا ہے اور زمین خشک ہونے کے بعد روٹا ویٹر کی مدد سے زمین تیار کی جاتی ہے۔
گھیا کدو وقت کاشت و شرح بیج
میدانی علاقوں میں کدو کی تین فصلیں کاشت کی جاتی ہیں ۔ کدو کی ٹنل سے باہر پہلی کاشت فروری مارچ میں کی جاتی ہے۔ یہ فصل پچھتر تا نوے دنوں میں تیار ہوتی ہے۔کدو کی دوسری فصل گندم کے بعد شروع مئی سے لے کر جون کے پہلے ہفتہ تک کاشت کی جاتی ہے۔ اس فصل کو پھول آوری سے لیکر نومبر تک ہر ہفتے یا دس دن کے وقفہ سے مناسب پھپھوند کش زہریں سپرے کی جاتی ہیں اس طرح پیداوار اچھی ہوتی ہے۔اس عرصے میں ہر دو ہفتے بعد کاپر سلفیٹ یا این پی کے ایک کلو گرام فی ایکڑ سپرے کرنے سے فصل بیماری سے محفوط رہتی ہے۔ کدو کی فصل ٹنل میں وسط دسمبر کے دوران کاشت کی جاتی ہے۔اس فصل میں زیادہ لمبے عرصے تک پھل آوری کا عمل جاری رہتا ہے۔اس وجہ سے یہ فصل پہلی دونوں کے مقابلے میں زیادہ نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔ کدو کی ایک ایکڑ میں کاشت کے لئے دوغلی اقسام کا ایک کلو گرام بیج استعمال کیا جاتا ہے۔
گھیا کدو طریقہ کاشت
کدو کی کاشت کے لئے کھیلیوں کے دونوں طرف چوکے لگائے جاتے ہیں۔ پودوں کا باہمی فاصلہ ڈیڑھ تا دو فٹ اور پٹڑیوں کا فاصلہ فروری کاشت کی صورت میں آٹھ تا دس فٹ جبکہ جولائی کاشت کی صورت میں بارہ تا سولہ فٹ رکھا جاتا ہے۔ ایک ایکڑ میں بائیس تا پچیس پٹڑیاں بنا ئی جاتی ہیں۔ کاشت سے پہلے بیج کو پانی میں بھگویا جاتا ہے اس طرح اگاؤ اچھا ہوتا ہے۔ گندم میں کاشت کی صورت میں گندم کاشت کرنے کے بعد دس دس فٹ کے فاصلے پر کھیلیاں بنائی جاتی ہے۔ مارچ میں کھیلیوں کو صاف کر کے انکے دونوں کناروں پر کدو کاشت کئے جاتے ہیں۔
چوہے سے بچاؤ
کدو کے بیج کو چوہے سے بچانے کے لئے زنک فاسفائیڈ لگا کر کاشت کیا جاتا ہے۔ بیج پر زنک فاسفائد لگانے کے لئے ایک حصہ زہر اور تین حصہ آٹا ملا کر اسکی لئی بنا کر بیجوں کو اچھی طرح زہر آلو د کر کے گولیاں بنا لی جاتی ہے۔اور خشک ہونے کے بعد کاشت کیا جاتا ہے۔ کدو کی ٹنل میں کاشت کی صورت میں چوہوں سے بچاؤ کے لئے ہر کھیلی کے دونوں جانب تھمٹ زہر بیس بیس گرام رکھ کر ٹنل کو اچھی طرح ڈھانپ دیا جاتا ہے۔
گھیا کدو کھادوں کا پلان
کدو کی کاشت کے لئے چونسٹھ کلو نائٹروجن، چھتالیس کلو فاسفورس اور پچاس کلو پوٹاش ڈالی جاتی ہے۔کھاد کی یہ مقدار دو بوری یوریا، دو بوری ٹی ایس پی اور دو بوری ایس او پی یا انکے متبادل کھادوں سے پوری کی جاتی ہے۔کدو کے لئے ڈی اے پی، ٹی ایس پی، ایس ایس پی، ایس او پی، نائٹرو فاس اور امونیم نائٹریٹ بہتر ہیں۔کدو کا قد ایک فٹ ہونے کے بعد یوریا کھاد استعمال نہیں کی جاتی ۔ کدو کی فصل کے لئے نائٹروفاس مفید ہے۔
کدو کی فصل میں ایک تہائی نائٹروجن ، تمام فاسفورس اور نصف پوٹاش کاشت کے وقت ڈالی جاتی ہے۔ بقیہ نائٹروجن اور پوٹاش کاشت کرنے کے پینتیس تا ساٹھ دن کے اندر تھوڑی تھوری کر کے ڈالی جاتی ہے۔ خشک موسم میں تین چنائیوں کے بعد نائٹروجن کھاد ڈالی جاتی ہے۔بارش کے موسم میں نائٹروفاس اور ایس او پی کے استعمال سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
کھاد کی بچت کا طریقہ
پٹی میں کھاد ڈالنا
کدو کی چھوٹے پیمانے پر کاشت کی صورت میں جس جگہ کھالی بنانی ہو وہا ں لکیریں لگانے کے بعد ان لکیروں پر اڑھائی فٹ کی پٹی میں کھاد ڈالی جاتی ہے۔ وسیع پیمانے پر کاشت کی صورت میں رجر کی مدد سے کھیلیاں بنانے کے دوران کھاد ڈالنے کے بعد کھیلیاں بنائی جاتی ہیں۔
ہر پودے کو کھاد ڈالنا
کھاد کی بچت کے لئے دوسرا عمل یہ ہے کہ ہر پودے پر پانچ تا دس کلو گرام نائٹروفاس پلس یوریا فی ایکڑ استعمال کی جاتی ہے۔ اسکے بعد پھول آوری سے پہلے مٹی کو نرم کر کے ساٹھ کلو گرام نائٹروفاس فی ایکڑ کھیلیوں میں ڈال کر مٹی چڑھا دی جاتی ہے۔ اسکے بعد آبپاشی کی جاتی ہے۔ ہر تین چنائیوں کے بعد دس تا پندرہ کلو گرام یوریا اور اتنی ہی پوٹاش ملا کر ڈالنے سے بھرپور پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
نشو نمائی معاونات
کدو کی پیداوار برھانے کے لئے نشونمائی معاونات سپرے کئے جاتے ہیں۔ گروتھ ہارمون سپرے کرنے سے پھل پیدا کرنے والے مادہ پھول زیادہ لگتے ہیں۔ فصل کی رنگت ہلکی سبز ہو تو این پی کے 45 15 5یا اسکے متبادل فولیر کھاد ایک کلو گرام فی ایکڑ سپرے کی جاتی ہے۔ پھول آوری کے دوران امائنوایسڈ استعمال کرنے سے فصل بہتر پیداوار دیتی ہے۔ بارشی موسم کے دوران قد کنٹرول کرنے والے مرکبات کی ہلکی مقدار استعمال کی جاتی ہے۔
گھیا کدو آبپاشی کا پلان
کدو کو وقت کاشت اور موسم کی مناسبت سے دس تا پندرہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔پہلا پانی بوائی کے بعد لگایا جاتا ہے۔ آبپاشی اس طرح کی جاتی ہے کے پانی پٹڑیوں پر نہ چڑھے۔ اسکے بعد ہفتہ وار آبپاشی کی جاتی ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی فصل کو سوکا لگا کر پھول آوری جلدی شروع کروائی جاتی ہے۔مئی سے اگست کے دوران کھالیوں کو گہرا کر کے پانی کھڑا کیا جاتا ہے۔مئی سے اگست کے دوران دو مرتبہ آبپاشی کی جاتی ہے۔
گھیا کدو برداشت
کدو کی فروری مارچ میں کاشتہ فصل اپریل مئی میں پھل دیتی ہے۔جبکہ جولائی ، اگست میں کاشتہ فصل اکتوبر نومبر میں پھل دیتی ہے۔ کدو کا وزن تین سو پچاس سے پانچ سو گرام کا ہونے پر برداشت کیا جاتا ہے۔ چنائی شام کے وقت کی جاتی ہے۔
Reference
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"
