کھیرے معتدل اور خشک موسم  کی فصل  ہے  ۔ جس کو اگاؤ کیلئے بیس سے پچیس ڈگری سینٹی گریڈدرجہ حرارت جبکہ پودوں  کو نشونما کیلئے ستائیس سے پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی  ہے۔  اٹھار ہ ڈگری  سینٹی گریڈ سے کم  درجہ حرارت پر  کھیرے کی نشو نما اور پھل آوری کا عمل رک جاتا ہے۔ 

 زمین و شرح بیچ

کھیرے کی کاشت کیلئے  اچھے نکاس والی میرااور بھاری میرا زمین  موزوں ہوتی ہے۔ جبکہ  اگیتی فصل کیلئے ہلکی میرازمین موزوں ہوتی ہے۔کھیرے کی عام اقسام کے لیے  شرح بیچ ایک کلو گرام جبکہ دوغلی اقسام کیلئے چار سو تا پانچ سو  گرام فی ایکڑ استعمال ہوتا ہے۔

کھیت میں کاشت

کھیت میں کھیرےکی کاشت وتر زمین میں پانچ سے چھ فٹ کے فاصلے پربنائی گئی پٹڑیوں میں نشان لگا کر کی جاتی ہیں۔ دوپٹریوں کے درمیان ڈیٹرھ فٹ چوڑی کھالی بنا  کر پٹریوں کے دونوں جانب ایک فٹ کے فاصلے پربیج کے چوکے لگائے جاتے ہیں۔ پودے نکلنے کے بعد ایک صحت مند پودا چھوڑ کر باقی پودے اکھاڑدیے جاتے ہیں ۔                       

ٹنل میں کاشت

ٹنل میں کھیر ےکی  کاشت ساڑھے دس فٹ چوڑائی کے اندر اندرتین تین فٹ کی دو پٹڑیاں اور ڈیڑھ دیڑھ فٹ کی تین کھالیاں بنا   کر کی  جاتی ہے ۔پلاسٹک شیٹ کو دبانے کے لئے دونوں طرف دو دو فٹ اضافی زمین چھوڑ   جاتی ہے ۔ پودوں کا درمیانی  فاصلہ ایک تا  ڈیڑھ فٹ جبکہ  پٹڑیوں کا تین سے ساڑھے تین فٹ رکھا جاتا ہے۔ پودوں کو سیدھا رکھنے کے لئےکاشت کے پندرہ تا پینتالیس دن کے اندر جال  لگایا جاتا ہے ۔ہائی ٹنل دو سو فٹ لمبائی ، تیس فٹ  چوڑائی اوردس فٹ   اونچائی رکھ کر بنائی جاتی ہے۔    

                                                                                  کھادیں

کھیرا کی فصل اگر کمزور زمیں میں   کاشت کی جا رہی ہے تو سو کلو گرام نائٹروجن،پچاس کلو گرام فاسفورس اور پچاس کلو گرام پوٹاش   فی ایکڑ کی  ضرورت ہوتی ہے۔کھاد کی یہ مقدار دو بوری ڈی اے پی،چار بوری  یوریا اور دو بوری ایس او پی  سے پوری کی جا سکتی ہے۔ زرخیز زمین میں کاشت کی صورت میں فی ایکڑ ستر کلو گرام نائٹروجن، چونتیس کلو گرام فاسفورس اور پچیس کلو گرام پوٹاش    کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مقدار ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، دو بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی یا یانکی متبادل کھادوں سے پوری ہو جاتی ہے۔ ڈی اے پی، امونیم نائٹریٹ، نائٹروفاس اور ایس او پی سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ٹنل میں کھیرے کی اچھی پیداوار کے لئے فاسفورس کےمقابلے میں  نائٹروجن اور پو ٹاش  ملا کر   استعمال   کرنے سے فصل اچھی ہوتی ہے ۔ ایک چوتھائی نائٹروجن، تمام فاسفورس اور دو تہائی پوٹاش بوقت کاشت ڈالی جاتی ہے جبکہ بقیہ نائٹروجن اور پوٹاش کاشت کے بعد  حسب ضرورت قسط وار ڈالی جاتی ہے۔ٹنل سے باہر کاشت کی صورت میں ایک بوری ڈی اے پی یا دو بوری نائٹروفاس، نصف پوٹاش اور ایک تہائی نائٹروجن کاشت کے وقت ڈال کر بقیہ نائٹروجن اور پوٹاش کی مقدار فصل کی کاشت کے بعد پچاس دن کے اندر اندر پوری کی جاتی ہے۔جب پھل اترنے لگے تو نائٹروجن اور پوٹاش والی کھادیں آبپاشی کے ساتھ دی  جاتی ہیں۔ 

 آبپاشی

کھیرے کی فصل کوشروع میں تین تا چار پانی ایک ہفتہ کے وقفہ سے لگائے جاتے ہیں۔بعد میں خشک اور گرم موسم میں پانی ہر تین تا چار دن کے وقفے سےلگایاجاتا ہے۔موسمی حالات    کو مد نظر رکھتے ہوےآبپاشی میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔ نومبر یا دسمبر کے دوران ٹنل میں کاشت کی صورت میں فصل کو دس یا اس سے بھی زیادہ آبپاشیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگیتی فصل میں دوسری آبپاشی ایک ہفتے کے اندر اندر  کی جاتی ہے لیکن دسمبر میں کاشتہ فصل کو دوسری آبپاشی کاشت کے ایک ماہ بعد کی جاتی ہے۔

جڑی بوٹیوں کا تدارک

کھیرے کی فصل کو چولای، اٹ سٹ،،مدھانہ،سوانکی ،قلفہ ،لمب گھاس اور ہزار دانی وغیرہ نقصان پہنچا تی ہیں ۔اگاؤ کے ایک ماہ بعد تک گھاس اور ڈیلاتلف کرنے کے لیے محفوظ زہریں استعمال  کی جاتی ہیں لیکن چوڑے پتے والی جڑی بوٹیوں کےانسداد کے لیے  کوئی مخصوص زہر نہیں ہے ۔ اگی ہوی گھاس نما جڑی بوٹیوں کے لیے ہالوکسیفوپ بحساب تین سو ملی لیٹر یا کویزلوفوپ پ بحساب دو سو ملی لیٹر سولیٹر پانی میں ملا کر سپرے کئے جاتے ہیں۔

برداشت

کھیرا جب مناسب  سائز کا ہو جائے تو  اسے توڑ لینا چاہیئے  تاکہ بیل پر موجود دوسرے پھلوں کو بڑھوتری کا موقع مل سکے ۔وسط اکتوبر کے دوران ٹنل کے اندر بوئی گئی اگیتی فصل  تقریباً پچاس دنوں بعد پہلی چنائی   کے قابل ہو جاتی ہے۔ یہ فصل پینسٹھ تا اسی دنوں میں بھرپور طریقے سے تیار ہو جاتی ہے اور اس فصل کی چنائی دسمبر سے لے کر وسط مارچ تک جاری رہتی ہے۔وسط نومبر سے وسط دسمبر کے دوران کاشتہ فصل  کی تقریباً سو دنوں بعد پہلی چنائی شروع کی جاتی ہے۔