بینگن کی فصل دوسری سبزیوں کے مقابلے میں زیادہ سردی یا گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بیگن کا بیج چوبیس سے بتیس سینٹی گریڈ پر بہترین اگاؤ دیتا ہے۔ اگر درجہ حرارت دس سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے تو اس کا اگاؤ بری طرح متاثر ہو تا ہے۔ بڑھوتری اور پھل آوری کے لئے گرم اور خشک آب و ہوا زیادہ سازگار ہوتی ہے۔ گرم اور مرطوب ماحول میں پودوں کا قد زیادہ ہو جاتا ہے لیکن پھل کم لگتا ہے۔
زمین اور اس کی تیاری
بینگن میرا اور بھاری میرا زمین میں زیادہ پیداوار دیتا ہے۔ کلراٹھی اور ریتلی زمین میں بینگن کی پیداوار کم ہوتی ہے۔ بینگن کے بیج بہت باریک ہوتے ہیں اس لئے نرسری لگاتے وقت کافی باریک زمینی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ بینگن چونکہ گہری جڑوں والی فصل ہے اس لئے کاشت کے وقت زمین گہرا ہل چلا کر تیار کی جاتی ہے۔ کاشت سے ایک ماہ بیشتر زمین میں دس سے بارہ ٹن گوبر کی کھاد ڈالی جاتی ہے۔ بینگن کی بہتر افزائش کے لئے زمین کو اچھی طرح خشک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک مرتبہ ڈسک ہل چلانے کے بعد روٹا ویٹر کی مدد سے زمین تیار کی جاتی ہے ۔ پھر وتر کی حالت میں زمین تیار کرکے چار سے پانچ فٹ کے فاصلے پر نشان لگا کر رجر کی مدد سے کھیلیاں یا پٹڑیاں بنا لی جاتی ہیں
طریقہ کاشت
بیگن کی کاشت کیلئے زمین وتر حالت میں تیارکی جاتی ہے۔ پھر چار سے پانچ فٹ کے فاصلے پر نشان لگا کر کھیلیاں بنا ئی جاتی ہیں ۔ پودے منتقل کرنے سے قبل کھیت کو پانی لگایا جاتا ہے۔ پھر پٹڑیوں کے دونوں طرف یا ایک طرف بینگن کی نرسری منتقل کی جاتی ہے۔ پودوں کا باہمی فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھا جاتا ہے۔ گرمیوں میں نرسری کی منتقلی کا عمل پانی لگانے کے بعد شام کے وقت انجام دیا جاتا ہے تاکہ پودے ضائع نہ ہوں۔
آبپاشی
بینگن کی فصل کو زمینی ساخت اور موسمی حالات کی مناسبت سے دس سے بارہ آبپاشیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔گرم موسم میں کاشتہ بینگن کو زیادہ مرتبہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب فصل ڈیڑھ دو فٹ کی ہو جاتی ہے تو کھاد ملا کر مٹی چڑھانے کے بعد پانی لگانا چاہیئے۔ مون سون کے دوران موسم کی مناسبت سے آبپاشی کرنی چاہیئے۔ پھل آوری کے دوران بھرپور آبپاشی سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے پھل آوری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
کھادوں کا استعمال
بینگن کی بہتر پیداوار کے لئے عام طور پر انہتر کلوگرام نائٹروجن،چھتالیس کلو گرام فاسفورس اور پچیس کلو گرام پوٹاش فی ایکڑ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مقدار تین بوری یوریا، دو بوری ٹی ایس پی اور ایک بوری سلفیٹ آف پاٹاش یا ان کے متبادل کھادوں کے ڈالنے سے پوری کی جاسکتی ہے۔ایک تہائی نائٹروجن،مکمل فاسفورس اور نصف پوٹاش بوقت کاشت بقیہ نائٹروجن اور پوٹاش منتقلی کے بعد پینتالیس سے سو دن کے اندر اندر قسط وار ڈالی جاتی ہیں۔ اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے ہر تیسری چنائی کے بعد فصل کی صحت کی مناسبت سے یوریا اور پوٹاش والی کھادیں ملا کر ڈالنی چاہیئے ۔ بینگن کی فصل کو کیلشیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس لئے نائٹروجن یوریا کی صورت میں ڈالنے کی بجائے کیلشیم امونیم نائٹریٹ یا گوارا کھاد سے زیادہ مفید ہوتی ہے۔
برداشت
جب بینگن کی فصل تیار ہو جائے تو اس کی برداشت ہر پانچویں روز کرنی چاہیئے۔ ٹنل میں کاشتہ فصل سودنوں بعد اپریل میں پھل پیدا کرنے لگتی ہے اور پھل آوری کا عمل جون جولائی تک جاری رہتا ہے۔
