چارے اور سبز کھاد کیلئے کاشت کی جاتی ہے۔
جنتر کاشت
جنتر ایک پھلی دار فصل ہے۔ جو چارے اور سبز کھاد کیلئے کاشت کی جاتی ہے۔ جنتر کے پودوں کی جڑوں میں نائٹروجن پکڑنے والے جراثیم کی موجودگی کی وجہ سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جنتر کے بعد کاشت ہونے والی فصل میں کم کھاد استعمال ہوتی ہے۔ جنتر کے بیج میں گوند ہوتی ہے جو چھوٹے جانوروں کی مرغوب غذا ہے۔ نیز یہ دودھ دینے والے جانوروں کے لیے بھی مفید چارہ ہے۔ گرم تاثیر ہونے کی وجہ سے جنتر کو جوار یا مکئی کے ساتھ ملا کر جانوروں کو کھلایا جاتا ہے۔
موزوں زمین اور شرح بیج
جنتر گرم اور مرطوب آب و ہوا کی فصل ہے۔ جنتر کے لیے ہلکی میرا زمین موزوں ہوتی ہے۔ سخت جان فصل ہونے کی وجہ سے جنتر کلر اٹھی زمینوں میں بھی کاشت کیا جاسکتا ہے۔ سبز کھاد کے طور پر کاشت کی جانے والی جنتر کی فصل پر بروقت بارش سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ گرم موسم میں جنتر کو صبح یا شام کے وقت کاشت کرنا چاہیئے۔
جنتر کی کاشت کیلئے بوائی سے پہلے دوتین بار ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو نرم اور بھربھرا تیار کیا جاتا ہے۔ جنتر کی ڈرل کاشت کے لیے آٹھ سے دس کلوگرام بیج فی ایکڑ اور چھٹے سے کاشت کے لیے اٹھارہ تا بیس کلوگرام فی ایکڑ بیج درکار ہوتا ہے۔ اگر جنتر چارے کے طور پر کاشت کیا جا رہا ہو تو فی ایکڑ سولہ کلوگرام بیج استعمال ہوتا ہے۔
جنتر وقت و طریقہ کاشت
جنتر کو وسط مارچ سے اگست تک کاشت کیا جاتا ہے۔ مون سون کی بارش سے دو تین ہفتے پہلے کاشتہ جنتر، بارش کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے اور بھرپور قد کرتا ہے۔اگیتی جنتر سبز کھاد کے طور پہ کاشت کی جاتی ہے ۔ اگیتی کاشت مارچ میں گندم کی کھڑی فصل میں آخری پانی لگانے سے پہلے کی جاتی ہے۔ مئی جون میں جنتر سبز کھاد اور بیج دونوں کے لیے کاشت کی جاتی ہے۔ مئی میں کاشت کی گئی فصل کو جون کے آخر یا جولائی کے شروع میں زمین میں دبا کر سبز کھاد حاصل کی جاتی ہے۔ بیج کے لئے جولائی کے وسط میں کاشت کی جاتی ہے۔جنتر جولائی میں بیج کے لئے کاشت کی جاتی ہے۔ زیادہ پچھیتی یا اگست کاشت فصل کو اکتوبر میں سبز کھاد کے طور پر زمین میں دبایا جاتا ہے۔
جنتر کو زیادہ تر وتر زمین میں چھٹہ کے زریعے کاشت کیا جاتا ہے۔ لیکن کلر اٹھی زمین میں چھٹہ دو سے تین انچ کھڑے پانی میں کیا جاتا ہے۔ ڈرل سے کاشت کی صورت میں جنتر نو نو انچ کے فاصلے پر فصل کاشت کی جا تی ہے۔ ڈرل سے کاشت میں نہ صرف اگاؤ یکساں ہوتا ہے بلکہ چارے کی پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ بیج کے لئے جنتر کی کاشت اڑھائی فٹ کی کھیلیوں کے کناروں پر چھ سے نو انچ کے چوکے لگا کر کی جاتی ہے۔ چوکے لگانے کے بعد آبپاشی کر دی جاتی ہے۔ کھیلیوں پر کاشت کے دوسرے طریقے میں خشک ہموار تیار زمین میں پہلے بیج کا چھٹہ کیا جاتا ہے۔ پھر کھیلیاں بنانے کے بعد آبپاشی کر چی جاتی ہے۔ موسم کے گرم ہونے کی صورت میں مارچ کے آخر میں گندم کے آخری پانی کے دوران بیس کلو گرام بیج فی ایکڑ کا چھٹہ کر کے بھی جنتر کو کاشت کیا جاتا ہے۔
جنتر برداشت
جنتر سبز کھاد کی لئے کاشت کے چالیس تا پچاس دن بعد فصل کو دبا دیا جاتا ہے۔ سبز چارے کے لیئے کاشتہ جنتر کی فصل کو ستر تا اسی دن بعد جب آدھے پھول کھل جائیں تو کاٹ لیا جاتا ہے۔ بیج والی فصل کی پھلیاں ایک سو بیس دن بعد پک کر تیار ہوتی ہے۔
Reference
http://www.agripunjab.gov.pk
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"
