نامیاتی کاشتکاری کو پوری دنیا میں زبردست مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ کیونکہ یہ ایک پائدار اور مربوط نظام زراعت کے لئےابھرتی ہوئی امید ہے۔ اس سے محفوظ اور صحت بخش غذا پیدا کی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں ماحول اور وسائل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔                                                        

نامیاتی کاشتکاری کے بنیادی اصولوں مین فصلوں کی گردش، سبز نامیاتی کھاد، کمپوسٹ، گوبر کی کھاد، کیڑوں اور بیماریوں کا حیاتیاتی انسداد، مشینری کے زریعے کاشت شامل ہیں۔ نامیاتی کاشتکاری میں زمینی زرخیزی کو بڑھانے کے لئے فصلوں کا ادل بدل اور کور کراپنگ جیسے طریقے استعمال ہوتے ہیں۔                                     

نامیاتی زراعت میں جڑی بوٹیوں کے مکمل انسداد کے بجائے ان کو معاشی حد سے نیچے رکھا جاتا ہے۔ اس طریقے میں کلچرل، مکینیکل، فزیکل اور حیاتیاتی طریقوں کے زریعے جڑی بوٹیوں پے قابو پایا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ جڑی بوٹیوں کو جلانا، بیج بننے سے پہلے تلف کرنا، ہل چلانا اور ملچنگ بھی جڑی بوٹیاں کنٹرول کرنے کے طریقے ہیں۔     جڑی بوٹیوں کے علاوہ حشرات ، نیماٹوڈذ، فنجائی، بیکٹیریا کی روک تھام کے لئے جنسی پھندوں، حیاتیاتی زہروں، کیڑے بھگاؤ پودوں کی کاشت ، دوست کیڑوں کا فروغ اور ارد گرد کی صفائی کوفروغ دیں۔ کاشتکار اپنی زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لئے نامیاتی کاشتکاری کر سکتے ہیں۔ یہ سبزی،پھل اور اناج کی شیلف لائف کو بڑھاتی ہے اور ماحول پر منفی اثرات کو کم کرتی ہے۔ اس کے زریعے پیدا کی گئ خوراک آلودگی سے پاک ہوتی ہے اور اسکا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ یہ عناصر ہماری زرعی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلے، بہتر زر مبادلہ کمانے کے قابل بنانے اور صحت بخش خوراک پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نامیاتی کاشتکاری کی طرف منتقلی کا طریقہ رواج پانے لگا ہے۔