آبپاشی کا پلان
گندم بنیادی طور پر کم پانی پر پلنے والی فصل ہے. گندم کی بڑھوتی کے دوران شگوفے بنتے ہوۓ، گوبھ کی حالت میں ، سٹے میں دانہ بھرنے پر، دودھیا حالت میں پانی کی کمی پیداوار کو متاثرکرسکتی ہے
| سابقہ فصل اور علاقے |
آبپاشیاں |
|
مونجی کے بعد |
تین مرتبہ |
کپاس کے بعد یا وریال زمینوں میں |
تین سے چار |
کماد کے بعد یا پچیھتی کاشتہ |
چار سے پانچ |
ریتلی میرا، ہلکی میرا زمینیں یا تھل کے علاقے |
سات سے آٹھ |
کھیلیوں یں کاشتہ گندم |
چھ سے آٹھ |
پہلی آبپاشی
گندم میں پہلا پانی اگر وقت سے پہلے لگ جائے تو گندم کے نیچلے پتے پیلے ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر چیکنی اور کلراٹھی زمینوں میں غیر متوازن اور بھرپور آبپاشی سے پودے مر بھی سکتے ہیں۔ اس لئے پہلی آبپاشی میں جلد بازی نہی کرنی چاہیئے۔ پہلی آبپاشی میں تاخیر کرنے سے بھی گندم کی شگوفے بنانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ پہلا پانی گندم کو اس وقت لگایا جاتا ہے جب پودے کے زیر زمین جڑیں ظاہر ہوتی ہیں. جن زمینوں میں وتر کم ہوتا ہے وہاں جڑیں دو ہفتے کے اندر ظاہر ہو جاتی ہیں جبکہ مناسب وتر والی زمینوں میں یہ تین ہفتے تک ظاہر ہوتی ہیں
آخری آبپاشی
جب گندم ابتدائی دودھیا حالت میں ہوتو آخری پانی لگا دینا چاہیئے۔ دانے کی دودھیا حالت ختم ہونے کے بعد آبپاشی نہی کرنی چاہیئے۔ آخری پانی لگانے سے گندم کی جڑوں کے مرنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ دودھیا حالت ختم ہونے کے بعد دانہ قدرے سخت یا لچکدار ہونے پر آبپاشی کر دی جائے تو گندم کا دانہ پچک جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب کی ریتلی میرا زمینوں میں دودھیا حالت ختم ہونے کے بعد فصل شدید سوکا محسوس کر رہی ہو تو آخری پانی لگایا جا سکتا ہے ۔ بیشتر صورتوں میں وسط مارچ تک آخری آبپاشی مکمل کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
کپاس،مکئی اور کماد کے بعد کاشتہ گندم |
|||
پہلا پانی |
شگوفے نکلتے وقت یعنی بوائی کے 20 سے 25 دن بعد۔(اوپر کی جڑیں نکلتے وقت) |
||
دوسرا پانی |
بوائی کے 80 تا 90 دن بعد(گوبھ کے وقت) |
||
تیسراپانی |
دانہ بننے کی ابتدا یعنی 125 تا 130 دن بعد۔(دودھیا حالت) |
||
دھان کے بعد کاشتہ گندم |
|||
پہلا پانی |
بوائی کے 35 تا 45 دن بعد |
||
دوسرا پانی |
بوائی کے 80 تا 90 دن بعد(گوبھ کے وقت) |
||
تیسراپانی |
دانہ بننے کی ابتدا یعنی 125 تا 130 دن بعد۔(دودھیا حالت) |
||
پچھیتی کاشتہ فصل کی آبپاشی |
|||
پہلا پانی |
شاخیں نکلتے وقت(بوائی کے 25 تا 30 دن بعد) |
||
دوسرا پانی |
گوبھ کے وقت(بوائی کے 70 تا 380 دن بعد) |
||
تیسراپانی |
دانہ بننے کی ابتدا یعنی 110 تا 115 دن بعد۔(دودھیا حالت) |
||
کھادوں کا استعمال
آبپاش علاقوں میں کھادوں کی سفارش
کمزور زمین |
|||
نامیاتی مادہ %0.86, فاسفورس7 پی پی ایم تک, پوٹاش 80پی پی ایم تک
|
|||
نائٹروجن |
64 |
دوبوری ڈی اے پی + دوبوری یوریا + ایک بوری ایس او پی یا ایم او پی |
|
فاسفورس |
46 |
||
پوٹاش |
25 |
||
اوسط زرخیز زمین |
|||
نامیاتی مادہ %0.86تا1.29, فاسفورس7 تا 14پی پی ایم تک, پوٹاش 80تا180پی پی ایم تک |
|||
نائٹروجن |
54 |
ڈیڑھ بوری ڈی اے پی +پونے دوبوری یوریا + ایک بوری ایس او پی یا ایم او پی |
|
فاسفورس |
34 |
||
پوٹاش |
25 |
||
زرخیز زمین |
|||
نامیاتی مادہ 1.29سے زائد, فاسفورس 14پی پی ایم سے زائد, پوٹاش 180پی پی ایم سے زائد |
|||
نائٹروجن |
46 |
سوابوری ڈی اے پی + ڈیڑھ بوری یوریا + ایک بوری ایس او پی یا ایم او پی |
|
فاسفورس |
30 |
||
پوٹاش |
25 |
||
گندم میں فاسفورس کی اہمیت اور طریقہ استعمال
فاسفورس فصل کی نشو نما کا بنیادی جز ہے۔ اس کے استعمال سے گندم کی فصل مضبوط ہوتی ہے، سخت سردی کے مضر اثرات سے بچی رہتی ہے، بڑھوتری کا عمل تیز ہوتا ہے. گندم کی جڑیں بننے کے مرحلے میں اور گوبھ کی حالت میں پودے کو فاسفورس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے. فاسفورس بجائی کے وقت زمین کی اوپری سطح پر ملا دیں. کھاد ڈالنے کے بعد زیادہ گہرا ہل نہ چلائیں. اگر بجائی کے وقت فاسفورسی کھادیں نہ ڈالی گئی ہوں تو پہلے یا دوسرے پانی کے ساتھ کھاد کو چٹھہ کرنے کہ بجاۓ فلڈ کریں.اس مقصد کے لئے حل پذیر این پی 18:44 ساڑے بارہ کلوگرام فی ایکڑ یا این پی کے 16:23:1 پانچ لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں . ترقی پسند کاشت کار فاسفورسی کھادوں کو قسط وار بھی ڈال سکتے ہیں
گندم کی فصل میں زنک کا طریقہ استعمال
بیشتر کمزور زمینوں میں زنک کی پوری مقدار پودے کو میسر نہیں ہوتی اس لئے اضافی زنک ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے- زنک بحساب تین کلوگرام فی ایکڑ پہلے پانی کے ساتھ یوریا کھاد میں ملا کر چھٹہ کی جاتی ہے یا چیلٹڈ زنک دو سو پچاس گرام فی ایکڑ سپرے کی جاتی ہے۔
اگر زنک فلڈ کرنی ہو تو پہلے یا دوسرے پانی کے ساتھ گندم کی شگوفے بننے کے دوران پانچ سو گرام فی ایکڑ فلڈ کی جاتی ہے۔ متبادل طور پر زنک اور بوران کا سپرے جڑی بوٹی مار زہروں کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے۔ زنک اور فسفورسی کھادوں کو ساتھ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ ضروری ہدایت چکنی زمینوں میں جہاں پانی ٹہرانے کی صلاحیت زیادہ ہو وہاں پچھیتی کاشت کی صورت میں کھادیں پہلی آبپاشی کے ساتھ ڈالی جائیں تو فصل پر اچھا اثر ہوتا ہے. چیکنی اور بھاری میرا زمینوں میں پہلی آبپاشی سے پہلے کھادیں ڈالیں اور پھر آبپاشی کریں۔ جبکہ ریتلی اور ہلکی میرا زمینوں میں پہلے آبپاشی کریں پھر کھادیں ڈالیں. چیکنی اور بھری میرا زمینوں میں دو تین اقساط میں کھادیں ڈالی جائیں۔ ڈی اے پی کو بجائی کے وقت زمین میں ملا دیں لیکن زیادہ گہرائی میں ملانے سے گریز کریں۔
گندم میں بوران کا استعمال
س بوران کی ضرروت چیکنی ، بھاری میرا اور ہوادار زمینن میں نہیں ہوتی باقی زمینوں میں گندم کی فصل کو بوران بحساب ایک کلوگرام فی ایکڑ بجائی کے وقت ڈالا جاۓ. اگر بجائی کے وقت بوران نہ ڈالی جا سکی ہو تو گوبھ کی حالت میں بوران دو سو پچاس ملی لیٹر کے حساب سے سپرے کریں کریں۔ یاد رہے نہری زمینوں میں گوبھ کی حالت میں گندم کو پوٹاش اور بوران کی اضافی خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی
گندم میں پوٹاش کا استعمال
گوبھ کی حالت میں میرا ہلکی میرا اور ریتلی زمینوں میں اضافی پوٹاش اور بوران کی ضرورت ہوتی ہے. اس مقصد کے لئے ایس او پی یا متبادل جدید ہل پذیر کھادیں اور فوایلر پوٹاش پودے کو جلدی دستیاب ہوتی ہیں. گوبھ کی حالت میں پوٹاش تیس فیصد تین لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے فلڈ کریں. بارش کی . صورت میں فلڈ کے بجاۓ پوٹاشیم سلفیٹ یا اس کے متبادل پوٹاش کے سپرے کو ترجیح دیں
گندم میں سلفر کا استعمال
صحت مند اور ہوا دار زیمینوں میں سلفر کی اضافی مقدار ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سلفر کی ضرورت زمین میں اس صورت ہوتی ہے جب زمین جلدی پانی جزب نہیں کرئے یا جن زمینوں میں کلراٹھی پن موجود ہو۔ سلفر کے استعمال سے زمین ہوادار ہوتی ہے اور غزائی اجزا حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ زمین کی پانی جزب کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور فصل میں قوت مدافیت بڑھ جاتی ہے۔ گندم میں دانے دار سلفر بجائی کے وقت دس کلوگرام فی ایکڑ ڈی اے پی کے ساتھ یا ڈی ایف (حل پذیر) فارمولیشن دو کلو گرام فی ایکڑ یوریا کے ساتھ پہلے پانی کے ساتھ دیں۔


















































