گندم کی کٹائی اور گہائی

کٹائی کے وقت اور اس کے بعد گندم کی پیداوار کا تقریباً دس فیصد حصہ مختلف وجوہات کی بناء پر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ گندم کی کٹائی سے قبل اس کے لیئے مؤثرانتظام کر لیا جائے۔  تھریشر، ٹریکٹر، ترپال یا پلاسٹک کا بندوبست فصل تیار ہونے سے پہلے کرلیں۔ زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام کی کٹائی پرانی لمبے قد والی اقسام سے دو تین دن پہلے کریں ۔ کھلواڑے (کھلیان) چھوٹے رکھیں اور اونچی جگہ پر لگائیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ کٹائی کے وقت گندم اچھی طرح پک چکی ہواور دانوں میں سولہ سے سترہ فیصد سے زیادہ نمی نہ ہو۔ کٹائی کے بعد چھوٹی چھوٹی بھریاں بنائیں اور کھلیان لگاتے وقت سٹوں کا رخ اوپر کی طرف رکھیں۔  بھریاں بناتے وقت اور بھریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر تے وقت خوشوں میں سے دانے جھڑ جا تے ہیں۔ فصل کاٹنے کے بعد بھریوں کو زیادہ دن تک کھیت میں کھلے آ سمان تلے چھوڑنے یا بھریا ں ضرورت سے زیادہ خشک ہو جانے سے بھی دانے جھڑ جاتے ہیں ۔ اسی طرح اگر گہائی میں تاخیر ہو جائے تو دانو ں میں نمی کا تناسب کم ہو جاتا ہے اور دانے سکڑنے کے علاوہ انکے ٹوٹنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ بارش ہونے کی صورت میں کٹائی روک دیں اوراس وقت تک دوبارہ شروع نہ کریں جب تک موسم بہتر نہ ہو جائے۔ گہائی کیلئےغیرمناسب جگہ کے انتخا ب کی وجہ سے اناج کی کوالٹی، بھوسے اور پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ گہا ئی کیلئے کھیت کے درمیان ایسی پکی جگہ کا انتخا ب کرنا چاہئے جو ہموار ہونے کے ساتھ ساتھ دراڑوں سے پاک ہو۔ گندم کی گہائی اگر تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر سے کی جائے تو وقت کی بچت کے علاوہ دانوں کا نقصان بھی کم ہو تا ہے۔

گندم کا بیج بنانا

گندم کی بھرپورپیداوار حاصل کرنے کے لیئے تجویزکردہ اقسام کا صحت مند بیج کاشت کریں ۔ جہاں تک ممکن ہو فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن سے تصدیق شدہ بیج استعمال کریں۔ اگر  تصدیق شدہ بیج دستیاب نہ ہو تو  گندم کا صحت مند بیج اپنی کاشتہ فصل سے خود بھی پیدا کرکے استعمال کر سکتے ہیں۔اس مقصد کے لئے ان باتوں کو ذہن میں رکھیں ۔

کٹائی سے پہلے کھیت کے ایسے حصے جہاں فصل گری نہ ہواور ہر لحاظ سے اچھی ہو بیج کے لیے منتخب کریں۔ اس کی کٹائی گہائی اور صفائی علیحدہ کریں تاکہ بیج محفوظ ہو جائے۔  کھیت سے دیگر اقسام کے پودوں کو نکال دیں۔  کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔ گندم کی کانگیاری والے تمام پودے کھیت سے کاٹ کر شاپرمیں ڈال کر دبا دیں۔ بھریاں باندھنے کے لئے پرالی یا اسی قسم کی گندم کی ناڑ استعمال کریں۔ گہائی سے پہلے اور بعد میں تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر اچھی طرح صاف کریں۔ گہائی کے شروع کی پہلی ایک یا دو بوریوں کا بیج نہ رکھیں۔ بیج ڈالتے وقت بوریوں پر گندم کی قسم کا نام ضرور لکھ لیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیج میں نمی دس فیصد سے ذیادہ نہ ہو۔ بیج ذخیرہ کرنے کے لئے روشن اور ہوادار گودام استعمال کریں۔ بیج کو گریڈ (درجہ بندی) کرکے کاشت کریں۔

گندم کو ذخیرہ کرنا

گندم کو گوداموں میں رکھتے وقت اس میں نمی دس فیصد سے زیادہ نہی ہونی چاہئے۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ اگر دانے کو دانتوں کے درمیان رکھ کر چبایا جائے تو کڑک کی آواز آئے گی۔ اگر نمی زیادہ ہو تو جنس کو دھوپ میں خشک کر لینا چاہیئے۔ گندم کے اسٹاک کو کیڑوں وغیرہ سے بچانے کیلئے سٹور کی دیواروں میں موجود گڑھے اوردراڑیں سیمنٹ سے بند کرلینی چاہیئں۔ ۔ پھر محکمہ زراعت کے عملہ کے مشاورت سے مناسب زہر کا سپرے کریں۔ سپرے کے بعد گودام کو کم از کم اڑتالیس گھنٹوں کیلئے بند رکھنے کے بعد دروازے کھول دیں۔ اس کے بعد 4 تا 6 گھنٹے تک گودام میں داخل نہ ہوں اور اچھی طرح صفائی کریں۔ غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لئے نئی بوریاں استعمال کرنی چاہیئں۔ پرانی بوریوں کے استعمال کی صورت میں تجویز کردہ کیڑے مار زہر کو ہدایات کے مطابق استعمال کرتے ہوئے بوریوں کو دونوں جانب باہرسے سپرے کریں۔ بوریوں کے خشک ہونے پر گندم کی فصل کو ان میں سٹور کریں۔ چوہوں کے انسداد کے لئے زنک فاسفائیڈ کے طعمے استعمال کریں۔ کیڑوں اور چوہوں کے حملے کی صورت میں ایلومینم فاسفائیڈ کی تیس سے پینتیس گولیاں فی ہزار مکعب (کیوبک) فٹ استعمال کریں اور سٹور کو فوراً سیل کردیں تاکہ ہوا کا گزر نہ ہو- سٹورکو پندرہ دن بند رکھیں اور پھر کھولیں- یہ عمل سال میں دو مرتبہ دہرائیں، ایک بار جنس ذخیرہ کرتے وقت اور دوسری بار جولائی میں جب برسات کی وجہ سے نمی بڑھ جاتی ہے۔ اگر جنس کھلی پڑی ہوئی ہوتو اس کو پلاسٹک شیٹ سے اچھی طرح ہوا بند کریں۔