گندم  موزوں آ ب و ہوا اور زمین 

گندم کی بہتر پیداوار کے لئے اچھے نکاس والی بھاری میرا سے ہلکی میرا زمینیں جس میں نامیاتی مادہ  موجود ہو موزوں ہوتی ہیں۔ گندم خشک اور سرد موسم کی فصل ہے جس کو اگاؤ کے لئے کم سے کم چھ اور زیادہ سے زیادہ بیس سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

گندم زمین کی تیاری اور شرح بیج

گندم کی کاشت کے لئے مون سون کی بارشوں کے دوران کھیت میں گہرا ہل (راجا ہل ) چلائیں تاکہ زمین گہرائی تک بھربھری تیار ہو جائے۔ پھر سہاگہ سے کھیت کو اچھی طرح ہموار کر لیں۔ ایسا کرنے سے کھیت میں پانی اور کھاد کی تقسیم یکساں ہوتی ہے۔ کاشت سے دو تین دن پہلے صبح یا شام کے وقت بھاری میرا زمینوں میں دوہرا ہل چلا کر سہاگہ دیں. تاکہ زمین میں موجود وتر اوپر آجائے اور جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں۔ اگر زمین ہلکی اور ریتلی ہو تو ایک بار ہل چلانا کافی ہے۔ گندم کی فصل میں کاشت سے ہفتہ دس دن قبل ایک یا دو مرتبہ عام ہل اور ایک مرتبہ سہا گہ چلاکر زمین کو یونہی چھوڑ دیں۔ چھ سات دن میں جڑی بوٹیاں اُگ آئیں گی زمین کی آخری تیاری کے دوران ہل چلانے کر تلف کر دیں۔

 گندم  وقت اور طریقہ کاشت 

بارانی علاقوں میں گندم کا وقت کاشت بیس اکتوبر تا بیس نومبر ہے۔ کاشت سے پہلے گندم کے بیج کو زہر آلودہ کرنے سے گندم کی فصل کو مختلف بیماریوں مثلا کانگیاری ، کرنل بلاسٹ،  اکھیڑا وغیرہ محفوظ رہتی ہے۔ اسلیئے کاشت سے ہفتہ پہلے گندم کے بیج کو تھائیوفینیٹ میتھائل بحساب دو تا اڑھائی گرام یا ٹیبوکونازول + امیڈاکلوپرڈ بحساب دو ملی لیٹرفی کلوگرام بیج یا تھائیومیتھوکزم سفارش کردہ مقدار میں لگائیں۔ 

بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کا بہترین طریقہ بذریعہ کیرا ، پورا یا ربیع ڈرل یا کم فاصلے والی کولٹر ڈرل ہے۔ ربیع ڈرل کی صورت میںقطاروں کا درمیانی فاصلہ نو انچ اور کولٹر ڈرل کی صورت میں چھانچ رکھا جاتا ہے۔ بیج کو ڈیڑھ تا دو انچ گہرائی میں کھاد کے ساتھ ڈرل کیا جاتا ہے۔ ڈرل کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ بیج بہت گہرائی تک نہ جائے ورنہ بیج دیر سے اگتا ہے اور زیادہ شگوفے نہیں بنتے- جس سے فصل کمزور رہ جاتی ہے اور پیداوار میں کمی ہوتی ہے۔ بارانی علاقوں میں ڈرل کے طریقے کو چھٹے کے طریقے پر ترجیح دیی جاتی ہے۔ چھٹے سے کاشت کی صورت میں پودوں کی فی ایکڑ مطلوبہ تعداد (آٹھ لاکھ سے دس لاکھ ) حاصل نہیں ہوتی اور پیداوار کم ملتی ہے۔

کھادیں بوقت کاشت 

بوقت کاشت یا زمین کی تیاری کے دوران کھیت میں کھاد کی سفارش کردہ مقدارفی ایکڑ ڈالیں

 

 

کم بارش والے علاقے 

راجن پور، لیّہ، مظفر گڑھ، درہ غازی خان ، بھکر، میانوالی، خوشاب

نائٹروجن

32

ایک بوری ڈی اے پی تین چوتھائی بوری یوریا نصف بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا دو بوری نائٹروفاس اور نصف بوری پوٹاشیم سلفیٹ

فاسفورس

23

پوٹاش

12

درمیانی بارش والے علاقے

تلہ گنگ، پنڈی گھیب، چکوال، پنڈ دادن خان

نائٹروجن

40

ایک بوری ڈی اے پی ایک بوری یوریا نصف بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ ڈیڑھ بوری یوریا اور نصف بوری پوٹاشیم سلفیٹ

فاسفورس

28

پوٹاش

12

زیادہ بارش والے علاقے

راولپنڈی، جہلم، گجرات، سوہاوہ ، کھاریاں، شکر گڑھ

نائٹروجن

48

ڈیڑھ بوری ڈی اے پی ڈیڑھ بوری یوریا ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا تین بوری نائٹروفاس، نصف بوری یوریا ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ

فاسفورس

34

پوٹاش

25

زمین کی بنیادی زرخیزی کو برقرار رکھنے اور کیمیائی کھادوں کے استعمال کو کم کرنے کے لئے سبز کھاد کا استعمال بہت ضروری ہے۔اس مقصد کے لئے  گوبر کی گلی سڑی کھاد حساب 8 تا 10 ٹن (تین سے چارٹرالی) فی ایکڑ استعمال کریں۔ متبادل کے طور پر گندم کی فصل کاشت کرنے سے  دو ما قبل  سے قبل گوار ، جنتر یا دیگر پھلی دار اجناس کاشت کریں اور پھول آنے پر بطور سبز کھاد زمین میں دبا دیں۔ ریتلی اور کلراٹھی زمینوں میں گندم کی فصل کے لئے زنک سلفیٹ تینتیس فیصد بحساب 6 کلوگرام اور بورک ایسڈ 17 فیصد بحساب اڑھائی کلوگرام فی ایکڑ بوائی  کے وقت استعمال کرنے سے گندم کی پیداوار پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر سابقہ فصل میں زنک سلفیٹ استعمال کی گئی ہوتو گندم میں اس کا استعمال نہ کریں۔ 

اقسام اور شرح بیج 

 گندم کا عام طور پر پینتالیس کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال ہوتا ہے۔ چکوال کی قسم کے لئے چالیس کلوگرام بیج استعمال ہوتاہے۔ بارانی علاقوں کے لئے گندم کی سفارش کردہ اقسام درج ذیل ہیں۔

چکوال 50
بارس 05
دھرابی 2011
احسان 16
فتح جنگ16
بارانی 17
ایم اے 21
عروج 22
پاکستان 13