براہ راست کاشت میں جڑی بوٹیوں کی موجودگی بہت زیادہ نقصان کا با عث بنتی ہے
براہ راست کاشت میں جڑی بوٹیوں کی موجودگی بہت زیادہ نقصان کا با عث بنتی ہے اور ان کے انسداد کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں۔فصل کی بڑھوتری کے ابتدائی مراحل میں جڑی بوٹیوں کے اگاؤ اور نشوونما کے لئے حالات زیادہ سازگار ہوتے ہیں۔اسلئےان پر قابو پانے کے لیے زیادہ توجہ درکار ہوتی ہے۔ دھان میں جڑی بوٹیوں کے خاتمہ کیلئے بوائی سے پہلے مئی کے مہینے میں دو ہری راؤنی کر کے ہل چلائیں۔ خشک طریقہ سے دھان کاشت کرنے کے فوراً بعد پانی لگائیں۔ پھر کھڑے پانی میں تھائیومیتھوکزم اسی ڈبلیو پی چالیس گرام فی ایکڑ شیکر بوتل کے ساتھ کھیت میں بکھیریں۔
اُگی ہوئی جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کے لیے بوائی کے ندرہ سے بیس دن بعد وتر حالت میں اگاؤ کے بعداثر کرنے والی تجویز کردہ جڑی بوٹی مار زہرکا سپرےکریں۔ ان کے سپرے کے وقت کھیت میں پانی کھڑا نہیں ہونا چاہئے ۔ دھان کی پنیری میں جڑی بوٹی کش زہر کے استعمال کیلئے ڈیڑھ سے دو ہفتے انتظار کریں۔ تاکہ جڑی بوٹیوں کی پہچان ہو سکے۔ اگر دھان میں گھاس کے خاندان کی جڑی بوٹیاں جیسے سوانکی ، گھوڑا گھاس وغیرہ ہیں تو میٹامیفوپ + سائی ہیلوفوپ بیوٹائل بیس ای سی چھ سو ملی لٹر فی ایکڑ دو ہفتوں کے بعد سپرے کریں۔ ڈیلا کیلئے ایتھوکسی سلفیوران ساٹھ ڈبلیو جی بیس گرام فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔ ہر قسم کی جڑی بوٹیوں کیلئے بسپائیریبیک سوڈیم + بینسلفیوران میتھائل تیس ڈبلیو پی اسی گرام فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔ سپرے کے ایک دن بعد آبپاشی ضرور کریں۔ بعض اوقات زہر کا ایک ہی سپرے کافی ہوتا ہے۔اگر جڑی بوٹیاں دوبارہ اگ آئیں تو بوائی کے چالیس دن بعد دوبارہ سپرے کریں۔سپرے کے وقت کھیت تروتر حالت میں ہونا چاہیئے۔دونوں مرتبہ سپرے کے۲۴دو سے تین دن بعد کھیت کو پانی ضرور لگادیں اور تین سے چار دن تک پانی کھڑا رکھیں۔
Reference
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"




