جانیں اس مضمون میں زنک اور بوران کی کمی اور اس کے علاج کے حوالے سے
زنک کی کمی کی علامات اور زنک سلفیٹ کا استعمال
زنک کی کمی کی صورت میں پودے کے نچلے پتوں پر چھوٹے چھوٹے بھورے سیاہی مائل دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر یہ دھبے اوپر والے پتوں پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پتے زنگ آلود دکھائی دیتے ہیں۔ پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ پودے کو اگر اکھا ڑنے کی کوشش کی جائے تو بغیر کسی دقت کے اکھڑ جاتا ہے کیونکہ اس کی جڑوں کی نشو و نما نہیں ہو رہی ہوتی۔ کمی زیادہ ہونے کی صورت میں پتہ درمیان سے لمبائی یا چوڑائی کے رخ پرپھٹ جاتا ہے۔
لاب میں زنک سلفیٹ کا استعمال
دھان کی نرسری میں کاشت کے 2 ہفتے بعد زنک سلفیٹ33 فیصدبحساب 200 گرام یا زنک سلفیٹ 27 فیصد بحساب 250 گرام یا زنک سلفیٹ 21 فیصد بحساب 300 گرام فی مرلہ یا48 کلوگرام فی ایکڑ استعمال سے فصل کی زنک کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں ۔
لاب کی جڑوں کو زنک آکسائیڈ کے محلول میں ڈبونا
لاب کو کھیت میں منتقل کرنے سے پہلے اس کی جڑوں کو زنک آکسائیڈ کے دو فیصد محلول میں ڈبوئیں۔ اس کے لئے 50 لیٹر پانی میں حل شدہ ایک کلو گرام زنک آکسائیڈ ایک ایکڑ کی لاب کے لئے کافی ہوتا ہے۔
یہ دونوں طریقے زنک کی معمولی کمی کی صورت میں ہی کارگر رہتے ہیں۔ زیادہ کمی کی صورت میں زنک سلفیٹ 33 فیصد بحساب 6 کلوگرام یا زنک سلفیٹ 27 فیصد بحساب7.5 کلوگرام یا زنک سلفیٹ21 فیصد بحساب ۱۰ کلو گرام فی ایکڑ لاب منتقل کرنے کے دس دن بعد چھٹہ کریں۔
بوران کی کمی کی علامات اور بوریکس کا استعمال
بوران کی کمی کی صورت میں نئے نکلتے ہوئے پتوں کی نوکیں سفید اور لپٹی ہوئی ہوتی ہیں ۔ شدید کمی کی صورت میں نئے نکلنے والے پتے گر جاتے ہیں۔ لیکن نئے شگوفے بنتے رہتے ہیں۔ اگر بوران کی کمی سٹے نکلتے وقت آئے تو سٹے میں دانے نہیں بنتے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ بوریکس کے استعمال سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔اس لئے لاب کی منتقلی کے لئے زمین کی تیاری کے وقت بورک ایسڈ بحساب 3 یا بوریکس 20 فیصد بحساب ساڑھے چار کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔ اگر پچھلی فصل میں بوران کا استعمال کیا ہے تو دھان کی فصل میں اس کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔
