دھان میں تنے کی سرانڈ کا سبب ایک پھپھوندی (Sclerotium oryzae) ہے جو موٹی اور باسمتی اقسام دونوں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ سرانڈ کی علامات سٹہ نکلنے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ بیماری کے جراثیم پانی کی سطح پر تنے کی اوپر والی پرت کے ساتھ لگ جاتے ہیں اور سیاہی مائل بھورے نشان بناتے ہیں۔ اوپری پرت گل جاتی ہے بعدازاں یہ بیماری تنے پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اس طرح تنا گل جاتا ہے اور فصل گر جاتی ہے۔ سرانڈ کے شدید حملےکی صورت میں مونجر پر دانے نہیں بنتے اور وہ سفید نظر آتی ہے ۔ اگر تنے کو متاثرہ جگہ سے چیرا جائے تو اندر بےشمار سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے بیماری کے تخم ریزے یا دانے سے نظر آتے ہیں۔ بیماری کے حملے کے باعث پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

دھان تنے کی سرانڈ تدارک

دھان میں تنے کے سرانڈ کے تدارک کیلئے بیماری سے متاثرہ کھیت میں موجود دھان کے مڈھ تلف کر دیں تاکہ ان میں موجود بیماری کے جراثیم تلف ہو جائیں۔ کھیت میں پانی زیادہ دنوں تک ایک ہی سطح پر کھڑا نہ رہنے دیں ۔ بیماری سے متاثرہ کھیت کا پانی دوسرے کھیت میں نہ جانے دیں۔ نرسری کی منتقلی کے ۵۰ سے ۵۵ دن بعد ترو تر کا پانی لگائیں۔ زمین کی تیاری کے وقت بیماری کے تخم ریزے یا دانے پانی پر تیر کر کھیت کے کونوں یا کناروں میں جمع ہوجاتے ہیں۔ انہیں وہاں سے اکٹھا کر کے تلف کردیں۔ ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر ڈائی فینوکونازول دو سو پچاس ایس سی سو ملی لٹر یا ٹیبوکونازول + ٹرائی فلوکسی سٹروبن پچھتر ڈبلیو جی نوے گرام سو لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔

Reference

http://www.agripunjab.gov.pk

Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"