بہتر نتائج کے لئے دھان میں کھادوں کا استعمال زمین کے کیمیائی تجزیےکے مطابق کریں۔ فصل کی حالت ،زمین کی زرخیزی اور سابقہ فصل کو مدِ نظر رکھتے ہوےکھاد کی مقدار میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ اوسط زرخیز زمین میں موٹی اقسام کے لیے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش با لترتیب اُنہتر، اکتالیس اوربتیس کلو گرام فی ایکڑ کی سفارش کی جاتی ہے۔ یہ ضرورت پونے دو بوری ڈی اے پی+سوا دو بوری یوریا+سوا بوری ایس او پی فی ایکڑ سے پوری کی جاسکتی ہے۔ جبکہ باسمتی اقسام کے لیے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش با لترتیب پچپن، چھتیس اور پچیس کلو گرام فی ایکڑ کی سفارش کی جاتی ہے۔ جو ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، پونے دو بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ سے پوری کر سکتے ہیں ۔

فاسفورس اور پوٹاش کی پوری اور نا ئٹروجن کی ایک تہائی مقدار کدو کرتے وقت آخری ہل چلا کر ڈالیں اور سہاگہ دیں۔ نائٹروجن کھاد کی بقیہ مقدار دو برابر اقساط میں بیس اگست سے پہلے ڈال لیں ۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھان کی باسمتی اقسام میں اگر نائٹروجن کھاد کا استعمال سات سے دس دن کے وقفہ سے تین سے چار اقساط میں کیا جائے تو کھاد کی کارکردگی اور افادیت بڑھ جاتی ہے اور فصل پر نقصان دہ اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے۔ اگر بوائی کے وقت پوٹاش کی کھاد استعمال نہ کی ہو تو اسے نائٹروجن کھاد کی دوسری قسط کے ساتھ ڈالا جاسکتا ہے۔

کھاد کا چھٹہ دیتے وقت کھیت میں پانی کی مقدار کم سے کم رکھیں۔ بلکہ بہتر ہے کہ پانی بالکل نہ ہو صرف کیچڑ ہی ہو۔ٹیوب ویل سے سیراب ہونے والی زمینوں میں پوٹاش کی کمی زیادہ ہوتی ہے۔ شدید کمی کی صورت میں پوٹاش کی کھاد کا سپرے کریں۔ ٹیوب ویل کے ناقص (یعنی زائد سوڈیم والے ) پانی سے سیراب ہونے والی زمینوں میں کھادوں کے ساتھ پانچ بوری فی ایکڑ جپسم بھی ڈالیں۔ اگر دھان سے پہلے کی فصل بر سیم یا پھلی دار ہو یا کھیت وریال ہو تو نائٹرو جن کھاد کی مقدار میں بیس فیصد کمی کر لیں جبکہ کلراٹھی زمینوں میں پچیس فیصد زیادہ نائٹروجن استعمال کریں۔

Reference

http://www.agripunjab.gov.pk

Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"