دھان کی نرسری کی منتقلی کے وقت کھیت میں پانی کی گہرائی ایک سے ڈیڑھ انچ رکھی جاتی ہے۔ زیادہ پانی کی صورت میں پودے ہوا سے اکھڑ سکتے ہیں جبکہ کمی کی صورت میں پودے گرمی کی وجہ سے مرسکتے ہیں ۔پنیری کی منتقلی کے ایک ہفتے یا دس دن بعد پانی کی گہرائی بتد ریج بڑھادیں ۔ لیکن دو انچ سے زیادہ نہ ہونے دیں کیونکہ زیادہ گہرائی کی صورت میں پودوں کی شاخیں کم بنیں گی۔پنیری کی منتقلی کے بعد بیس سے پچیس دن اور پانی کی کمی کی صورت میں پندرہ دن تک کھیت میں پانی کھڑا رکھیں اور پھر پانچ سے چھ دن کے لیےکھیت کو ہوا لگنے دیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ کھیت تر رہے اور خشک نہ ہونے پائے ورنہ زمین میں دراڑیں بن جائیں گی اور کھیت میں پانی کھڑا کرنا مشکل ہوگا۔

اس کے بعد فصل کو تروتر کا پانی لگاتے رہیں۔ تا ہم کیڑے ماردانےدار زہر ڈالتے وقت کھیت میں پانچ سے چھ دن کے لئےڈیڑھ سے دو انچ پانی ضرور موجود ہونا چاہئے۔تروتر کا پانی دینے سے نہ ہی فصل کا قد زیادہ لمبا ہوگا ، نہ ہی گرے گی ، نہ ہی فصل کی جڑیں زیادہ گہری ہو گی اور نہ ہی کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کا حملہ کم ہوگا اور فصل جلد پک جائے گی۔ دانہ بھرنے کے بعدیعنی فصل پکنے سے دو ہفتے قبل پانی دینا بند کردیں تاکہ برداشت آسانی سے ہوسکے۔

جن علاقوں میں کھیتوں میں پانی کھڑا نہیں ہوتا وہاں دھان کی فصل خصوصاً باسمتی اقسام پر دھان کے بھبکے کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ان علاقوں میں گوبھ سے لے کر دانہ بھرنے تک کھیت کو سو کا ہرگزنہ لگنے دیں بلکہ کوشش کریں کہ کھیت میں پانی موجود رہے۔ بصورت دیگر بلاسٹ کا حملہ زیادہ ہوگا۔ ان علاقوں میں کٹائی سے ایک ہفتہ پہلے پانی بند کر دیں۔

Reference

http://www.agripunjab.gov.pk

Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"