دھان پنیری منتقلی کے لئے کھیت کی تیاری
پنیری کی منتقلی دھان کی کاشت کا مقبول ترین طریقہ ہے ۔ چاول کی بہتر کوالٹی اور اچھی پیداوار کے لئے کھیت میں پنیری منتقل کرنے سے دس سے پندرہ دن پہلے پانی کھڑا رکھیں اور پھر کدو کریں۔ کدو کرنے کا اہم مقصد جڑی بوٹیوں کی تلفی اور فصل کے لئے پانی کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔ پانی کی کمی کی صورت میں سات دن تک اور شدید کمی کی صورت میں کم از کم تین دن تک پانی کھڑا رکھیں ۔ ہل اور سہاگہ چلا کر کھیت کو اچھی طرح تیار کریں اور اگلے دن پنیری منتقل کریں۔ تیاری کے دوران اگر کھیت میں سے پانی نکال دیں گے تو دھان کی پچھلی فصل اور جڑی بوٹیوں کے بیج اگ آئیں گے اور ہل چلانے سے یہ زمین میں دب کر گل سڑ جائیں گے۔
کلر سے پاک وہ علاقے جہاں بھاری چکنی زمین اور وافر پانی دستیاب ہو وہاں کدو کرنے سے پہلے ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل ( راجہ ہل) چلا کے کدو کریں۔اس سے دھان کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے اور بعد میں آنے والی ربیع کی فصلوں پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سیم تھور والی زمینوں میں گہرا ہل نہ چلائیں کیونکہ اس سے نمکیات اوپر آ جاتے ہیں۔ کلراٹھی زمینوں میں کدو نہ کریں کیونکہ اس سے نمکیات نیچے نہیں جائیں گے۔ روایتی طور پر کدو کی تیاری ہل اور سہاگہ کی مدد سے کی جاتی ہے مگر اب روٹا ویٹر کا استعمال بھی کافی مقبول ہو رہا ہے ۔ اگر ممکن ہو تو اس مقصد کے لئے واٹر ٹائٹ روٹا ویٹر استعمال کریں کیونکہ واٹر ٹائٹ روٹا ویٹر خصوصاً کدو کرنے کے لئے تیارکیا گیا ہے- جن علاقوں میں پانی کھڑا نہیں ہوتا وہاں زمین کی تیاری خشک طریقے سے کریں۔
دھان پنیری منتقلی کا طریقہ
کدو کے طریقے سے تیار کی ہوئی پنیری پچیس سے تیس دن میں جبکہ خشک طریقہ سے کاشت کی ہوئی پنیری پینتیس سے چالیس دن میں منتقلی کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اگر منتقلی کے وقت پنیری کی عمر پچیس دن سے کم ہو تو پودے نازک ہونے کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر سکتے اور مر جاتے ہیں۔ جبکہ پنیری اگر چالیس دن سے زیادہ عمر کی ہو تو اس کی شاخیں کم بنتی ہیں ۔ پنیری اکھاڑنے سے ایک دو روز پہلے اسے پانی لگائیں تاکہ زمین نرم ہو جائے اور اکھاڑتے وقت پودے نہ ٹوٹیں۔ پنیری اکھاڑتے وقت جھلسے ہوئے، بکائنی یا سنڈی سے متاثرہ پودے تلف کردیں۔ پنیری کی منتقلی ڈیڑھ انچ گہرے پانی میں کی جاتی ہے۔ پہلے ہفتے میں پانی کی گہرائی ڈیڑھ انچ رکھیں پھر آہستہ آہستہ تین انچ تک کردیں۔ لیکن اس سےزیادہ نہ کریں ورنہ پودے شاخیں کم بنائیں گے اور پیداوار بھی کم ہوگی۔ پودوں کا باہمی فاصلہ نو انچ رکھیں اور ہر سوراخ میں دو پودے لگائیں۔ اگر کچھ ناغے رہ جائیں تو پنیری کی منتقلی کے بعد دس دن تک ان کو پر کر لیں۔
کلراٹھی زمینوں میں دھان کی کاشت کے لئے پنیری کلر سے پاک زمین پر تیار کریں۔ سفید کلر کی زیادتی کے باعث دھان کی نشو و نما پنیری کی منتقلی کے بعد دس دن کے اندر اندر متاثر ہوتی ہے۔ اس کا حل کھیت میں پانی کی تبدیلی ہے۔کالے کلر کی زیادتی کے باعث فصل بیس دن کے اندر اندر متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔زمین کے تجزیے کی بنیاد پر ایسی زمینوں میں گندھک کا تیزاب استعمال کرنے سے نشو و نما بحال ہو جاتی ہے۔
Reference
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"
