دھان کا تیلا جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن نقصان بہت پہنچاتا ہے۔ تیلا پودے کے نچلے حصہ یعنی تنے کا رس چوستا ہے۔ جب نیچے سے فصل سوکھ جاتی ہے تب اوپر پتوں اور مونجروں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ تیلےکا حملہ عام طور پر کھیت میں ٹکڑیوں کی شکل میں شروع ہوتا ہے۔ بالغ اور بچے پودوں کے پتوں اور تنوں کا رس چوستے ہیں۔ متاثرہ پتے پیلے اور پھر بھورے ہو جاتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں پودے سوکھ کر سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں اور جھلسے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ حملے کی ا س نوعیت کو تیلے کا جھلساؤ کہتے ہیں۔ ہمارے موسمی حالات میں یہ کیڑے عموماً ستمبر کے دوسرے ہفتے میں فصل پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ دھان کی موٹی اقسام اس کا حملہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ تیلے کا حملہ پینری لگانے کےپینتالیس دن بعد شروع ہوتا ہے لیکن اس کی شدت بتدریج بڑھتی رہتی ہے۔ موسم کی مناسبت سے خصوصاً ستمبر کے وسط میں اس کا حملہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔

دھان تیلا تدارک

دھان تیلے کے تدارک کیلئے کھیت کے اندر اور اطراف میں اگی ہوئی جڑی بوٹیوں کو تلف کریں کیونکہ تیلہ ان پر پرورش پاتا ہے۔تیلے کو دستی جال سے اکٹھا کرکے تلف کر یں۔ روشنی کے پھندے پروانوں کو تلف کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔لہذا رات کو روشنی کے پھندے لگائیں۔ کھیت میں مسلسل پانی کھڑا نہ رکھیں ، حملہ ہونے کی صورت میں فوری سوکا لگائیں۔ سایہ دار جگہوں پر دھان کاشت نہ کریں۔ نائٹروجن والی کھادوں کا غیر ضروری استعمال نہ کریں۔ تجویز کردہ تعداد سے زیادہ پودے نہ لگائیں۔ دھان میں تیلے کے تدارک کیلئے تجویز کردہ زہر پائمیٹروزائن پچاس ڈبلیو جی ایک سو بیس گرام یا کلوتھیانڈن بیس ایس سی دو سو ملی لٹر یا نائٹن پیرام + پائمیٹروزائن اسی ڈبلیو ڈی جی سو گرام سو لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔

Reference

http://www.agripunjab.gov.pk/

Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"