براہ راست کاشتہ دھان آبپاشی پلان

آبپاشی کا انحصار موسم، زمین اورطریقہ کاشت پرہوتا ہے۔ صحیح طور پرہموار زمین پانی کے بہتر استعمال کے لئے بہت اہم ہے۔ براہ راست کاشت میں پہلا پانی فصل کی بوائی کے پانچ سے سات دن کے بعد لگایا جاتا ہے۔ اگاؤ کے بعد تیس دن تک تروتر کا پانی لگانا چاہیئے۔ اس کے بعد وتر کا پانی لگائیں۔ دانے دار زہریں ڈالتے وقت تین سے چار دن تک کھیت میں پانی کھڑا رکھیں تاکہ زہراپنا پورا اثر کرسکے۔ فصل کی کٹائی سے پندرہ سے اٹھارہ روز پہلے پانی لگانا بند کردیں۔

براہ راست کاشتہ دھان کھاد پلان

دھان میں کھادوں کے متوازن استعمال کرنے کے لئے زمین کا تجزیہ ضرور کروائیں۔ تاہم براہ راست کاشت میں اوسط زرخیزی والی زمین میں دھان کی باسمتی اقسام کیلئے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش کی بالترتیب ساٹھ، چونتیس اور پچیس کلوگرام فی ایکٹر کی سفارش کی جاتی ہے۔ جو ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، دو بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح موٹی اقسام کیلئے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش کی بالترتیب اکہتر، چونتیس اور پچیس کلوگرام فی ایکٹر کی سفارش کی جاتی ہے۔ جو ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، دو بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

براہ راست طریقہ کاشت میں ڈی اے پی اور ایس او پی کی پوری مقدار بوائی کے وقت ڈال ی جاتی ہے۔ جبکہ یوریا کی پونی بوری بوائی کے تیس سے پینتیس دن بعد جڑی بوٹیاں مکمل طور پر تلف کرکے ڈالی جاتی ہے۔ اس کے بعد حسب ضرورت آدھی سے پونی بوری یوریا فی ایکڑ ڈالی جاتی ہے اور یوریا کی بقیہ مقدار بوائی کے پچپن سے ساٹھ دن بعد ڈالی جاتی ہے۔

Reference

www.agripunjab.gov.pk

Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"