دھان میں بھبکا یا بلاسٹ کی بیماری ایک پھپھوندی (Pyricularia oryzae) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ بیماری کا حملہ باسمتی اقسام پر زیادہ ہوتا ہے۔ مزید میرا زمین والے ایسے کھیتو ں پر جن میں پانی کھڑا رکھنے کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی بیماری کا حملہ شدید ہوتا ہے۔ بلاسٹ کا حملہ دھان کے پودے کے اوپری حصوں پر ہوتا ہے۔ پتوں پر آنکھ کی شکل جیسے نشان بن جاتے ہیں جو دونوں طرف سے نوکیلے ہوتے ہیں اور جن کے کنارے گہرے بھورے اور درمیانی حصہ مٹیالے رنگ کا ہوتا ہے۔ سازگار حالات میں یہ نشان بڑے ہوکر آپس میں مل جاتے ہیں اور پتے کے بڑے حصے کو خشک کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے پودے کی خوراک بنانے کی صلاحیت بہت کم رہ جاتی ہے۔ گانٹھوں پر حملہ کی صورت میں ان کے گرد سیاہ نشان پڑ جاتے ہیں جو اس کو پوری طرح گھیر لیتے ہیں۔ متاثرہ گانٹھ اور اس کے اوپر والا حصہ سوکھ جاتا ہے۔ مونجر کی گردن پر یا مونجروں پر حملے کی صورت میں اس کر گرد سیاہی مائل نشانات ایک ہالہ بنا لیتے ہیں جس سے خوراک دانوں میں نہیں پہنچ سکتی اور دانے پورے نہیں بھر پاتے۔ شدید حملہ کی صورت میں دانے بالکل نہیں بنتے۔
دھان بھبکا یا بلاسٹ تدارک
دھان میں بھبکا یا بلاسٹ کے تدارک کیلئے بیمار بیج ہرگز کاشت نہ کریں ۔ فصل کی پچھیتی کاشت نہ کریں ۔ فصل کی کٹائی کے بعد متاثرہ فصل کے مڈھ اور پرالی تلف کر دیں کیونکہ ان میں بیماری کے تخم ریزے (Spores)ہوتے ہیں جن سے بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نائٹروجن اور فاسفورس والی کھاد مناسب مقدار میں ڈالیں۔ گوبھ کی حالت سے لے کر مونجر نکلنے کے دو ہفتے بعد تک کھیت کو خشک نہ ہونے دیں ۔ شدید حملے کی صورت میں تجویز کردہ زہر فلواوکسٹروبن چار سو اسی ای سی سو ملی لٹر یا ڈائی فینوکونازول دو سو پچاس ایس سی پچاس ملی لٹرس یا ٹیبوکونازول + ٹرائی فلوکسی سٹروبن پچھتر ڈبلیو جی پینسٹھ گرام یا ایزاوکسی سٹرابن + فلوٹریفول پچیس ایس سی ہدایات کے مطابق استعمال کریں ۔
Reference
http://www.agripunjab.gov.pk
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"








