لشکری سنڈی کا رنگ سیاہی مائل سبز اور جسم پر ہلکی دھاریاں ہوتی ہیں۔ سال میں اس کی چار سے پانچ نسلیں پیدا ہوتی ہیں۔ لشکری سنڈی دھان کت علاوہ سبزیات، چارہ جات ، کپاس اور تمباکو کی فصل پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسے شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ سنڈی پکتی ہوئی فصل کے سٹوں کو کاٹ کاٹ کر ضائع کر دیتی ہے۔لشگری سنڈی کے شدید حملےکی صورت میں زمین پر دھان کے سٹوں اور دانوں کی تہہ بچھ جاتی ہے اور پیداوار کا خاصا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ سنڈی چونکہ زیادہ تر پکتی ہوئی فصل پر حملہ کرتی ہے لہذا اس موقع پر ایسے زہروں کا سپرے یا دھونی کریں جن کا اثر کم عرصے تک رہے۔
دھان لشکری سنڈی تدارک
دھان میں لشکری سنڈی کے تدارک کیلئے فصل میں انڈوں اور چھوٹی سنڈیوں کے حامل پتوں کو توڑ کر تلف کر دیں۔ متبادل خوراکی پودوں اور جڑی بوٹیوں سے فصل کو پاک رکھیں ۔ اگر سنڈیاں پورے قد کی ہو جائیں تو زہر پاشی سے گریز کریں اور ان کی کو یا کی حالت گزرنے کا انتظار کریں۔ ٹکڑیوں میں حملہ کی صورت میں اپنے پورے کھیت کی بجائے صرف متاثرہ حصوں پر سپرے کریں۔ اگر حملہ شد ت اختیار کر جائے اور اندیشہ ہو کہ لشکری سنڈی کی آبادی متاثرہ کھیت سے دوسرے قریبی کھیتوں میں منتقل ہو جائے گی تو کھیتوں کے ارد گرد نالیاں کھود کر پانی بھر دیں اور اس میں مٹی کا تیل ڈال دیں ۔ طفیلی کیڑے اور پرندے لشکری سنڈی کے انسداد میں بڑا موثر کردار ادا کرتے ہیں ۔ دھان کے کھیتوں کے نزدیک باجرے وغیرہ کی فصل کاشت کر کے پرندوں کو ترغیب دیں۔ یا پھر اپنے کھیت میں پرندوں کے بیٹھنے کے لیے رسیاں وغیرہ باندھیں۔اگر فصل کے شروع ہی میں روشنی کے پھندے لگا دیں گے تو کافی حد تک اس کے پروانوں کو تلف کرسکتےہیں ۔ دھان میں لشکری سنڈی پر قابو پانے کے لیے کیڑے مار ادویات کے استعمال کی سفارش نہیں کی جاتی ہے۔ ر اسے آخری حربہ سمجھا جانا چاہیے۔ شدید حملہ کی صورت میں آخری حل کے طور پر سائپرمیتھرین دس ای سی سو ملی لٹر سو لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
Reference
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"


