جڑی بوٹیوں سے مکئی کی پیداوار پچیس فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔
گوڈی کا طریقہ ڈرل کاشتہ مکئی میں استعمال ہوتا ہے۔
جڑی بوٹیوں کی وجہ سے مکئی کی پیداوار بیس سے پچیس فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ اس لئے آمکئی کی اچھی اور زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے جڑی بوٹیوں کی تلفی بیحد ضروری ہے۔ مکئی کی فصل کو مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں نقصان پہنچاتی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔
گھاس کے خاندان کی جڑی بوٹیاں
گھاس کے خاندان کی جڑی بوٹیو ں کے پتے نوکیلے اورمتوازی رگوں والے ہوتے ہیں۔ جبکہ تنے زمین پر پھیلنے والے یا کھڑے اور سخت جان ہوتے ہیں۔ ان جڑی بوٹیوں میں کھبل، مدھانہ، برو، جنگلی سوانک، دمب گھاس، بانسی گھاس قابل ذکر ہیں۔
تکونے پتوں والی جڑی بوٹیاں
تکونے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے پتے نوکیلے اور لمبے ہوتے ہیں۔ ان میں ڈیلا اور مورک نمایاں ہیں-
چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں
چوڑے پتے والے جڑی بوٹیوں کے پتے چوڑے، نرم اور رسیلے ہوتے ہیں۔ پودے شاخوں والے، زمین پر پھیلے یا اوپر اُٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں میں اِٹ سِٹ، لیلہی، کرُنڈ، باتھو، تاندلہ، چولائی، بھکھڑا، دودھک، جنگلی پالک، چِبڑ، مینا، مکو، جنگلی بالو، درانک، ہراردانی اور کلفہ قابل ذکر ہیں۔
تدارک
مکئی کے کھیت سے جڑی بوٹیوں کے خاتمے کیلئے گوڈی اور جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گوڈی کا طریقہ عام طور پر ڈرل کاشتہ مکئی کے ابتدائی مراحل میں استعمال ہوتا ہے۔ اس طریقہ انسداد میں دو یا تین گوڈیاں لازمی کرنا پڑتی ہیں۔ دوسری یا تیسری گوڈی کے موقع پر کھیلیاں بنا کر پودوں کے ساتھ مٹی چڑھا دی جاتی ہے۔ تا کہ آندھی کی صورت میں فصل گر نے سے محفوظ رہے۔ گوڈی کے دوران پودوں کی جڑوں کو متاثر ہونے سے بچانا چاہیئے۔ کھیلیوں پر کاشت کی گئی مکئی کو گوڈی نہیں کی جاتی ۔ جڑی بوٹی مار زہر کے استعمال کی صورت میں زہروں کا استعمال جڑی بوٹیوں کے اُگنے سے پہلے یا اُگنے کے بعد کیا جاتا ہے۔
اس مقصد کیلئے ایڑازین پلس ایس میٹولاکلور* سات سو بیس ایس سی بحساب آٹھ سو ملی لیٹر فی ایکڑ بوائی کے وقت یا اُگاؤ کے
ایک ماہ کے اندر
ایڑازین پلس ایس میٹولاکلور پلس میزوٹرائی اون** اڑتالیس ایس سی بحساب ایک لٹر فی ایکٹر سپرے کریں۔
*Mesotrione + Atrazine 55%SC
*Mesotrione + Atrazine 720 SC
**Atrazine + S-metolachlor + Mesotrione
ref: Directorate of Agriculture Information Government of The Punjab
