جسم کے دونوں جانب لمبائی کے رُخ پرنمایاں دھاریاں ہوتی ہیں۔
جسم کے ہر حصہ پرلائن کے اُوپر کالے رنگ کے دھبے ہوتے ہیں۔
لشکری سنڈی ابتدا میں سفید اور بعد ازاں سیاہی مائل سبز ہو جاتی ہے۔ اس کےجسم کے دونوں جانب لمبائی کے رُخ پرنمایاں دھاریاں ہوتی ہیں۔ جسم کے ہر حصہ پرلائن کے اُوپر کالے رنگ کے دھبے ہوتے ہیں۔ اس کی مادہ ڈھیریوں کی شکل میں انڈے دیتی ہے۔ لشکری سُنڈی انڈوں سے نکل کر گروہ کی شکل میں پتوں کو نچلی سطح سے کھانا شروع کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ پتے کی صرف باریک جِھلی باقی رہ جاتی ہے۔شدید حملے کی صورت میں پُورے پتے بھی کھا جاتی ہے اور فصل ٹُنڈ مُنڈ رہ جاتی ہے۔ بڑی سُنڈی بھُٹوں سے نکلنے والے سلک اور چھلی سے نکلنے والے نرم دانوں کو بھی کھا جاتی ہے جس سے دانے بننے کا عمل رُک جاتا ہے۔
تدارک
فصل پر حملے کی صورت میں تجویز کردہ زہر کلورینٹرانیلی پرول بیس ایس سی* پچاس ملی لیٹر فی ایکڑ یا
فلوبینڈامائیڈ** اڑتالیس ایس سی پچاس ملی لیٹر فی ایکڑ یا
ایمامیکٹن بینزویٹ*** ایک اعشاریہ نو ای سی دو سو ملی لٹر فی ایکٹر یا
لیوفینوران**** پانچ فیصد ای سی بحساب دو سو ملی لٹر فی ایکٹر ہدایت کے مطابق استعمال کریں ۔
*Chlorantraniliprole 20 SC
**Flubendiamide 48 SC
***Emamectin Benzoate 1.9 EC
****Lufenuron 5% EC
ref: Directorate of Agriculture Information Government of The Punjab