شناخت کی علامات
پتوں، پھولوں اور ٹینڈوں میں بے ترتیب سوراخ۔ شدید حملے میں پتوں کا مکمل نقصان۔ پودوں پر سبز سے بھورے رنگ کی دھاری دار سنڈیاں نظر آتی ہیں۔ سخت حملے سے پودے کی بڑھوتری اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
حملے کا وقت
جون – ستمبر: گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ حملہ۔ اکتوبر – نومبر: کم ہوتا ہے مگر دیر سے بوئی فصلوں میں باقی رہ سکتا ہے۔
کیمیائی کنٹرول
جنتر لشکری سنڈی کا مرغوب پودا ہے ۔ اس کو اپریل کے آخر میں ہل چلا کر زمین میں دبا دیں تا کہ آپ کپاس پر اس کی منتقلی کو روک سکیں۔ اگر لشکری سنڈی کا حملہ شدت اختیار کر جائے اور یہ اندیشہ ہو کہ اس کی آبادی متاثرہ کھیت سے دوسرے قریبی کھیتوں میں منتقل ہو جائے گی تو ان کھیتوں کے اردگرد نالیاں کھود کر پانی بھر دیں ا اور اس میں مٹی کا تیل ڈال دیں ۔ طفیلی کیڑے اور پرندے لشکری سنڈی کے انسداد میں بڑا موثر کردار ادا کرتے ہیں۔کپاس کے کھیتوں کے نزدیک باجرا وغیرہ کی فصل کاشت کرکے پرندوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ فصل کی کاشت کے شروع ہی میں روشنی کے پھندے لگا دیں تو کافی حد تک اس کے پروانوں کو تلف کیا جا سکتا ہے۔ لشکری سنڈی کے تدارک کیلئے تجویز کر دہ زہر فلوبینڈامائڈ چار سو اسی پچاس ملی لیٹر فی ایکڑ یا لیوفینوران پانچ فیصد ای سی دو سو ملی لیٹر فی ایکڑ یا ایمامیکٹن بینزوایٹ ایک اعشاریہ اُنیس ای سی دو سو ملی لیٹر فی ایکڑ یا کلواینٹرانیلی پرول دو سو ایس سی بحساب پچاس ملی لیٹر فی ایکڑ ہدایات کے مطابق سپرے کریں۔














