صوبہ پنجاب میں بکریوں کی مشہور نسلوں میں بیتل،ناچی،دائرہ دین پناہ اور ٹیڈی مشہور ہیں۔

 

100بکریوں کیلئے شیڈ کی لمبائی80فٹ اور چوڑائی20فٹ رکھیں،شیڈ کی لمبائی شرقاًغرباً رکھیں،15مربع فٹ چھتی ہوئی جگہ اور30مربع فٹ کھلی جگہ رکھیں،5فٹ لمبی2 ½ فٹ چوڑی اور2 ½ فٹ اونچی لوہے یا لکڑی کی کھرلیاں بنائیں،شیڈ باقی جگہ سے2فٹ اونچا رکھیں ،فارم میں توسیع کی گنجائش رکھیں،شیڈ کے ارد گرد درخت لگائیں۔

 

بکریوں کا باڑا مشرق مغرب لمبائی کے رخ بنائیں۔دیواریں تین فٹ پکی بنائیں۔ باڑا اونچی جگہ پر بنائیں ارد گرد درخت لگائیں۔ باڑے کی کھڑکیاں اور روشندان کھلے رکھیں بند ہونے کی صورت میں پیشاب کے بخارات سے امونیا گیس اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اموات کا سبب بنتی ہے۔
نمک کے ڈلے جانوروں کے باڑے یا چراگاہ میں مناسب جگہ پر رکھیں، تاکہ جانور ضرورت کے مطابق نمک چاٹ سکیں، جس سے ہاضمہ بہتر ہو، جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو اور دودھ کی پیداوار متاثر نہ ہو۔

باڑے میں نمک کے ڈلے رکھنے کے فوائد

  • جانور اپنی ضرورت کے مطابق نمک چاٹ لیتے ہیں
  • ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور خوراک مؤثر طریقے سے استعمال ہوتی ہے
  • جسم میں نمکیات اور معدنیات کی کمی پوری ہوتی ہے
  • کمزوری اور مٹی یا دیواریں چاٹنے جیسی عادات سے بچاؤ ہوتا ہے
  • دودھ کی پیداوار متاثر نہیں ہوتی بلکہ برقرار رہتی ہے
  • جانور مجموعی طور پر صحت مند اور متحرک رہتے ہیں

پانی کے حوض کو سایہ فراہم کریں اور پانی کے حوض کی باقاعدگی سے صفائی کریں۔پانی میں سبز کائی الی سے اچانک موت واقع ہوجاتی ہے خونی پیچس اور دورے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔

جانوروں کے باڑے میں پانی کے حوض کے لیے اہم نکات

  • سایہ دار جگہ: پانی کے حوض کو ہمیشہ دھوپ سے بچائیں تاکہ پانی ٹھنڈا اور صاف رہے۔
  • صفائی: پانی کے حوض کو باقاعدگی سے صاف کریں تاکہ جراثیم اور سبز کائی (الیگ) جمع نہ ہو۔
  • سبز کائی سے بچاؤ: پانی میں سبز کائی کی موجودگی جانوروں کے لیے خطرناک ہے، جس سے اچانک موت، خون کے پیچش یا دورے ہو سکتے ہیں۔
  • مناسب سطح اور گہرائی: حوض اتنا گہرا یا چھوٹا نہ ہو کہ جانور ڈوب جائیں یا پانی تک پہنچنے میں مشکل ہو۔
  • آسان رسائی: شیڈ میں رکھے ہوئے جانور کھلے چھوڑ دیں۔ ہر جانور آسانی سے پانی پی سکے، زیادہ بھیڑ یا بکریوں کے لیے کافی چوڑائی اور تعداد میں نلکے یا ٹب رکھیں۔
  • پانی کا تازہ ہونا: پانی ہمیشہ تازہ اور صاف ہونا چاہیے، پرانا یا کھڑا پانی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
  • گرمی میں اضافی پانی: گرم موسم میں جانور زیادہ پانی پیتے ہیں، اس لیے پانی کی مقدار کافی اور دستیاب رکھیں۔

 

کاربن مونو آکسائیڈ گیس

دھوئیں اورFuel Burningسے پیدا ہوتی ہے۔ زہریلی گیس ہے۔اچانک موت واقع ہو جاتی ہے۔سانس لینے میں دشواری اور بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔جانور لڑکھڑا کر چلتا ہے۔قومہ میں چلا جاتا ہے۔تازہ ہوا مہیا کریں۔فارم کے نزدیک اور فارم پر دھواں نہ ہونے دیں۔

نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ (سائلو گیس Silo Gas)

مویشیوں کے فارم پر سبز چارہ کسی بند کمرے میں رکھا جائے تو زہریلی گیس پیدا ہو جاتی ہے۔جانوروں کے منہ سے رالیں بہتی ہیں۔جانور کو کھجلی ہونے لگتی ہے۔سانس پھولنے لگتا ہے۔فالج کے جھٹکے لگتے ہیں۔نمونیا ہو جاتا ہے۔جانور قومے میں چلا جاتا ہے۔جانور کو بخار ہو جاتا ہے۔
فوراً بند کمرے کو کھول دیں تاکہ آکسیجن/ہوا آسانی سے لگ سکے۔پیشاب اور دوائی قلمی شورہ یاDuiretic کا ٹیکہ لگوائیں۔سبز چارہ کو بند کر کر نہ رکھیں۔

ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس

گندے انڈوں جیسی بو آئے گی۔فارم پر گندگی اورگوبر والے تالاب سے یہ گیس پیدا ہوتی ہے۔جانوروں کی آنکھوں میں چبھن ہوتی ہے۔جانور کا سانس پھولنے لگ جاتا ہے۔جانور سست ہو جاتا ہے اور لڑکھڑاتا ہے۔تازہ ہوا فراہم کریں۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس

فارم پر ڈیزل،پٹرول کے دھواں سے پیدا ہوتی ہے۔گوبر کو جلانے سے گیس پیدا ہوتی ہے۔جانور پریشان ہو جاتا ہے۔کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ فوراً تازہ ہوا فراہم کریں۔

امونیا گیس

بند کمروں،باڑوں اور شیڈوں میں زہریلی گیس پیدا ہوتی ہے۔چبھنے والی گیس۔آنکھوں سے آنسو آنا۔گہرے سانس لینا۔ناک سے گاڑھا لیس دار مواد۔پیداواری صلاحیت میں کمی۔اچانک موت کا سبب بنتی ہے۔امونیا گیس سردیوں میں دیہاتوں میں بند کمروں اور باڑوں میں جانوروں کی موت کا سبب بنتی ہے لہذا ہوا کی آمدورفت اور گھٹن ماحول سے نجات دلانے کیلئے مویشی پال کو احتیاط کرنی چاہیئے کہ وہ اپنے ہاتھوں اپنے اپنے قیمتی جانوروں کو ہلاک ہونے سے بچائیں کھڑکیاں روشن دان کھول کے رکھیں تاکہ ہوا کا آسانی سے گزر ہو سکے اور دن کو دھوپ کا گزر ہو۔