تعارف

انتڑیوں کا زہر، بھیڑ اور بکریوں کی ایک نہایت مہلک اور جان لیوا متعدی بیماری ہے جو کہ ہر عمر کی بھیڑ اور بکریوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری کلاسٹریڈیم پر فرینجینز (Clostridium perfringens) نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیر یا عام طور پر بھیڑ اور بکریوں کے معدے میں کم تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اس جراثیم کی مختلف اقسام ہیں۔ جن کو کلاسٹریڈیم پر فریجنز ٹائپ اے، ٹائپ بی ، ٹائپ سی ، ٹائپ ڈی، اور ٹائپ ای میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ جراثیم کئی اقسام کے زہریلے مواد پیدا کرتے ہیں جن کو الفا (Alpha)، بیٹا (Beta)، آؤٹا (Iota)، اور اپسیلان (Epsilon) ٹاکسن کہتے ہیں۔ اس بیکٹیریا کی سب سے خطرناک اقسام ٹائپ بی اور ٹائپ ای ہیں۔

یہ جراثیم عام طور پر چھوٹی اور بڑی آنت میں نیچے پڑے ہوتے ہیں۔ یہ نسبتا کم تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور صحت مند جانوروں میں نسبتا پر سکون حالت میں پائے جاتے ہیں جو چیز انہیں بیماری پیدا کرنے کا باعث بناتی ہے وہ جانوروں کی خوراک میں ایک ساتھ تبدیلی ہے۔ عام طور پر، بیماری کو جنم دینے والی تبدیلیوں میں اناج کی زیادہ مقدار کھلانا، پروٹین سپلیمنٹ کی مقدار میں اضافہ کرنا، دودھ یا دودھ کے متبادل یعنی ملک ریپلیسر (میمنے اور بچوں کے لیے ) اور گھاس کی مقدار میں اضافہ ہے جسے بھیڑ یا بکریاں کھا رہی ہوتی ہیں۔ مجموعی طور پر، خوراک کے یہ اقسام نشاستہ دار اجزاء اور پروٹین سے بھر پور ہوتے ہیں۔ جب غیر معمولی طور پر ان غذائی اجزاء کی ضرورت سے زیادہ مقدار آنت تک پہنچ جاتی ہے تو یہ ان جراثیم کو آنتوں کے اندر تیزی سے نشو ونما پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں آنت کے اندراس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے یہ بیکٹیریا تعداد میں بڑھتے ہیں، یہ بہت طاقتور زہریلے مادے (Bacterial poisons) خارج کرتے ہیں جو جانوروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ زہریلے مادے آنتوں کے ساتھ ساتھ متعدد دوسرے اعضاء کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں متعدد اموات بھی ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ان جانوروں میں جن کو حفاظتی ٹیکہ نہیں لگا ہو یا نوزائیدہ بھیڑ اور بکریوں کے بچے یا ان بچوں میں جن کی ماں کو دورانِ حمل حفاظتی ٹیکہ نہیں لگایا گیا ہو۔

بھیڑ اور بکریوں میں انٹیر وٹو کسیمیا کی علامات:

انٹیر وٹو کسیمیا سے متاثرہ جانوروں میں مندرجہ ذیل میں سے چند ایک یا سارے علامات دیکھے جاسکتے ہیں۔

  • متاثرہ جانور اچانک خوراک چھوڑ دیتے ہیں اور سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

  • جانور پیٹ میں درد کی علامات ظاہر کرتے ہیں، جیسے کہ پیٹ پر لات مارنا، بار بار لیٹنا اور اٹھنا، پہلو پر لیٹنا، ہانپنا اور چیخنا چلانا جیسے علامات شامل ہیں۔

  • ان جانوروں میں اسہال بھی ہو سکتا ہے، بعض صورتوں میں بڑے پیشاب میں خون بھی نظر آتا ہے۔

  • بعض اوقات جانور اپنے ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ ٹانگوں کو پھیلا کے ایک طرف پر پڑے رہتے ہیں اور سر اور گردن کو پھیلا کے لیٹے رہتے ہیں۔ جانوروں کی یہ حالت اسکے دماغ پر زہریلے مادوں کے اثرات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان علامت کی ظاہر ہونے کے بعد عام طور پر چند منٹوں سے گھنٹوں کے اندر اندر موت واقع ہو جاتی ہے۔

  • چونکہ یہ جراثیمی زہر اتنی تیزی سے وجود کے اندر بڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بعض دفعہ جانور بغیر کسی علامت کے مردہ پائے جاتے ہیں۔

انٹیر وٹو کسیمیا کا علاج:

بیماری کی شدید صورت میں انٹیر وٹو کسیمیا کا کامیاب علاج اکثر اوقات ممکن نہیں ہو پاتا۔ ڈاکٹر حضرات غیر پیچیدہ بیماری میں analgesics اور probiotics کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اورل الیکٹرولائٹ سلوشنز (Oral Electrolyte Solutions) اور مصنوعی قوت مدافعت یعنی اینٹی سیرم (Anti Serum) کا استعمال بھی عام ہے۔ اینٹی سیرم میں موجود اینٹی باڈیز (antibodies) ان بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے زہریلے مادوں کو بے اثر بناتے ہیں۔

روک تھام:

انٹیر وٹو کسیمیا بیماری کی روک تھام اسکے علاج سے کہیں زیادہ با اثر ثابت ہو سکتا ہے۔ روک تھام میں سب سے اہم پہلو جانوروں کی قوت مدافعت کو حفاظتی ٹیکہ جات کے ذریعے اس قابل بنانا ہوتا ہے کہ جانور بیماری سے محفوظ رہ سکے۔

حفاظتی ٹیکہ جات کا شیڈول:

اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بھیڑ اور بکریوں کے لیے، ایسی متعدد ویکسین دستیاب ہیں جو کلا سٹریڈیم پر فرینجینز کے اقسام جیسے کہ ٹائپ سی اور ٹائپ ڈی سے پیدا ہونے والے زہریلے مادوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہیں۔ بڑے بھیڑوں اور بکریوں میں انٹیر وٹو کسیمیا کے خلاف مؤثرقوت مدافعت پیدا کرنے کے لیے عموماً ویکسین کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ یہ خوراکیں عام طور پر 10 سے 14 دن کے وقفے پر دی جاتی ہیں۔ ایک بار جب ان جانوروں کو یہ دو خوراکیں دی جائیں تو سال میں کم از کم ایک بار دوباہ ویکسینیشن کرنی چاہیے۔ جانوروں کے ڈاکٹر اکثر یہ تجویز کرتے ہیں کہ حامل جانوروں کو بچے پیدا کرنے کی متوقع تاریخ سے تقریباً ایک ماہ قبل ٹیکہ لگانا چاہیے، تا کہ کولسٹرم ( پہلے دودھ ) میں موجود اینٹی باڈی کی مقدار کو زیادہ سے زیادہ بنایا جا سکے۔ اس عمل سے نوزائیدہ بچوں کو اس جان لیوا بیماری سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔ اگر اس وقت کے دوران حاملہ جانوروں کو حفاظتی ٹیکہ لگا نا مکن نہ ہو، تو پھر بھیڑوں اور بکریوں کو سال کے دوسرے اوقات میں ویکسین لگانا چاہیے۔

کم عمر جانوروں اور بڑے بھیڑوں یا بکریوں کے لیے جو اناج سے بھر پور خوراک کھاتے ہو یا وہ سرسبز چرا گاہوں میں چرانے کے لئے جاتے ہو، ان جانوروں میں یہ بیماری آسانی سے پیدا ہوتی ہے۔ لہذا ان جانوروں میں انٹیر وٹو کسیمیا کے خلاف کثرت سے ویکسینیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ کسان حضرات مناسب تحفظ حاصل کرنے کے لیے ان جانوروں کو سال میں دو سے چار بار حفاظتی ٹیکے لگاتے ہیں۔ اس بیماری سے نوزائیدہ لیلوں اور میمنوں کی حفاظت کا بہترین طریقہ حامل بھیڑ اور بکریوں کو اچھی طرح سے ویکسین لگانا ہے، کیونکہ اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت یعنی اینٹی باڈیز کولسٹرم ( پہلے دودھ ) میں نوزائیدہ بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کولسٹرم کی مناسب مقدار لیلوں اور میمنوں کو پلایا جائے۔ لیلوں اور میمنوں کو عام طور پر پہلی بار چھ سے 10 ہفتوں کی عمر میں ٹیکہ لگایا جاتا ہے، اور ایک سے دو مرتبہ بوسٹر ٹیکہ عام طور پر بعد میں لگایا جاتا ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کی مکمل کورس کے بارے میں حتمی حکمت عملی مرتب کرنے سے قبل ضروری ہے کہ کسان حضرات کسی مستند ڈاکٹر سے اس بات کا تعین کرے کہ آپ کے علاقے ، فارم آپریشن اور جانوروں کے خوراک کی مناسبت سے کون سا شیڈول موضوع ثابت ہوسکتا ہے۔

بھیڑ اور بکریوں کی خوراک بارے حکمت عملی:

جانوروں کے لئے خوراک کی مناسب حکمت عملی کسان حضرات کو اس قابل بناتی ہے کہ اس مہلک بیماری سے اپنے ریوڑ کو محفوظ رکھا جاسکے۔ چونکہ جانوروں کی خوراک میں نشاستہ دار اجزاء اور پروٹین کی زیادہ مقدار اس بیکٹیریا کو جانوروں کے آنتوں کے اندر پلنے اور پھیلنے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے اس لیے زمیندار حضرات کو جانوروں کی خوراک اور غذائی اجزاء کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کسان حضرات کو اُن فیڈ اسٹفس کے بارے میں خاص خیال کرنا چاہیے جن میں مذکورہ بالا غذائیاجزاء کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہو، جیسے کہ اناج کے دانے، سائیلیج یا سلیج ،سرسبز چرا گاه، دودھ یا دودھ کا متبادل اور پروٹین سپلیمنٹس۔ اسکے علاوہ جانوروں کو فربہ کرنے کے لئے جو مقوی خوراک یعنی ونڈا تیار کیا جاتا ہے، اگر زیادہ مقدار میں کھلایا جائے تو بھی انٹیر وٹو کسیمیا جیسی مہلک بیماری جنم لے سکتی ہے۔

اگر جانوروں کو فربہ کرنے کے لئے اس قسم کے خوراک کھلا نا ناگزیر ہوتو ، جانوروں کی روزانہ کی بنیاد پر خوراک کو ایک وقت میں کھلانے کی بجائے ، خوراک کو تین سے چار یکساں حصوں میں تقسیم کر کے وقتاً فوقتاً کھلانا چاہیے۔ اس کے علاوہ زیادہ نشاستہ دار اور پروٹین والی غذاء کھلانے سے قبل خشک گھاس یعنی ہے (hay) جیسی خوراک کھلانا چاہیے تا کہ جانوروں کا پیٹ پہلے ہی گھاس پر بھر جائے ۔ جانوروں کی خوراک بارے مناسب حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے ہمیشہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیا کریں۔

اگر جانوروں کی خوراک میں تبدیلی مقصود ہو تو ہمیشہ آہستہ آہستہ تبدیلیاں کرنی چاہیے۔ اگر فربہ کرنے کے لئے جانوروں کی خوراک میں اناج کی مقدار کو زیادہ کرنا ہو، تو ہمیشہ اسے کئی دنوں میں بتدریج اضافہ کے ساتھ کریں۔ اس سے جانوروں کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا اور دیگر جرثوموں کو خوراک کے ساتھ ایڈ جسٹ ہونے میں مدد ملتی ہے اور نقصان دہ جراثیموں کو غذائی اجزاء تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام جانوروں کے لئے خوراک کھانے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں نہ کہ طاقتور اور توانا جانور اپنی ضرورت سے زیادہ خوراک کھا جائیں اور کمزور جانور بھوکے رہ جائیں اور موقع ملنے پر زیادہ بھوک کی وجہ سے اناج وغیرہ حد سے زیادہ کھا جائیں۔ اس طرح بھی جانور اس مہلک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ضروری ہدایات:

  • متاثرہ جانوروں کو الگ کر کے انکا علاج کریں اور اُن کے کھانے پینے کے برتن الگ کر دیں۔ جولائی اور جنوری کے مہینوں میں جانوروں کو ویٹرنری ریسرچ انسٹیٹیوٹ پشاور (VRI Peshawar) کی انٹیر وٹاکسیمیا ویکسین کے ٹیکے لگوانے سے اس بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔

  • تین ماہ کی عمر کے لیلوں اور میمنوں کو 1 تا 2 سی سی اور بڑے بھیڑ اور بکریوں کو 3 سی سی زیر جلد ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔

  • ویکسین ہمیشہ ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھیں اور میعاد کے اندر (before expiry date) استعمال کریں۔

  • صرف صحت مند جانوروں کو مقررہ مقدار اور طریقے کے مطابق ٹیکہ لگوائیں اور ہر دفعہ نئی سوئی کا استعمال کریں۔

بکرپوں میں مرض انتڑپوں کے زہر کا مکمل کورس کیسے کیا جائے؟

مرض انٹیروٹا کسیما یا انتڑپون کے زیر کا حفاظتی کورس مندرجہ ذیل طریقے سے کیا جائے

پہلا ٹیکہ

ڈیڑہ ماه کی عمر

دوسرا ٹیکہ

اڑهای ماه کی عمر

تیسرا ٹیکہ

آٹھ ماه کی عمر

اس کے بعد بهیڑ بکرپوں کو اس بیماری سے محفوظ رکهنے کیلیے متى ،جون اور نومبر میں E.T.V. کے حفاظتی ثیکے لگواتے رہیں.

حوالہ ذراعت نامہ خیبرپختونخواہ