جانوروں کی بہتر صحت کے لیے بنیادی اصولوں کا خاص خیال رکھیں، جن میں صاف اور تازہ پانی، متوازن خوراک، تازہ ہوا، مناسب درجہ حرارت اور روشنی کا درست انتظام شامل ہے۔
پانی جانوروں میں خوراک ہضم کرنے میں معاون ہے۔ پانی جانوروں میں وزن بڑھانے میں مددگار ہے۔ پانی دودھ کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور جانوروں میں قبض کی روک تھام کرتا ہے۔ پانی جانوروں کے جسم کو Dehydration سے روکتا ہے، گرمیوں میں جانوروں کے جسم سے حرارت خارج کرتا ہے اور سردیوں میں جسم سے حرارت کے اخراج کو روکتا ہے۔ خوراک کے مختلف اجزاء کو جسم میں لے جاتا ہے۔ اور حاملہ جانور کے رحم میں مائع محلول فراہم کرتا ہے۔
ایک بالغ بھیڑ کو عام حالات میں روزانہ تقریباً 5 تا 8 لیٹر صاف پانی درکار ہوتا ہے۔ تاہم پانی کی ضرورت مختلف حالات میں بدل سکتی ہے:
- عام حالات میں: 3 تا 6 لیٹر روزانہ
- گرمی یا خشک چارہ دینے کی صورت میں: 5 تا 8 لیٹر روزانہ
- دودھ دینے والی بھیڑ: 6 تا 10 لیٹر روزانہ
- حمل کے آخری مراحل میں: 5 تا 8 لیٹر روزانہ
صاف اور تازہ پانی ہمیشہ دستیاب رکھیں، تاکہ جانور اپنی ضرورت کے مطابق پی سکیں۔ مندرجہ زیل عوامل سے جانوروں میں پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے:
- زیادہ گرم موسم
- خشک خوراک کھانے والے جانوروں کو زیادہ مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- حمل اور خاص طور پر دودھ دینے کی حالت
- نمک یا معدنی بلاک کا استعمال
پانی کے حوالے سے اہم نکات
- پانی کی پی ایچ 6 تا 8 کے درمیان ہونا چاہیے، کیونکہ زیادہ تیزابیت سے جانوروں کو دست لگ سکتے ہیں اور خوراک کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔
- جانوروں کو بہت ٹھنڈا یا بہت گرم پانی نہ پلائیں۔
- پانی کے حوض کو ہمیشہ سایہ دار جگہ پر رکھیں اور باقاعدگی سے صاف کریں۔
- پانی میں اُلی یا سبز کائی جمع ہونے سے جانوروں میں خونی پیچش، دورے اور حتیٰ کہ اچانک موت بھی ہو سکتی ہے، اس لیے پانی کو ہمیشہ صاف اور کائی سے پاک رکھیں۔
- حاملہ جانور کو بچہ جننے سے 4 دن پہلے اور بعد میں نیم گرم پانی پلائیں۔
اگر جانور کم پانی پی رہا ہے، تو یہ کاپر (Copper) کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے؛ ایسے میں منرل مکسچر دے کر کمی کو پورا کریں۔
- جانور اپنی ضرورت کے مطابق نمک چاٹ لیتے ہیں
- ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور خوراک مؤثر طریقے سے استعمال ہوتی ہے
- جسم میں نمکیات اور معدنیات کی کمی پوری ہوتی ہے
- کمزوری اور مٹی یا دیواریں چاٹنے جیسی عادات سے بچاؤ ہوتا ہے
- دودھ کی پیداوار متاثر نہیں ہوتی بلکہ برقرار رہتی ہے
- جانور مجموعی طور پر صحت مند اور متحرک رہتے ہیں
بکریوں کو خوراک دینے کا مقصد صرف پیٹ بھرنا نہیں بلکہ ان کی جسمانی اور غذائی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرنا ہے۔ متوازن خوراک نہ ملنے کی صورت میں بکریوں میں جسمانی کمزوری اور لاغر پن پیدا ہو جاتا ہے، دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، بچوں کا پیدائشی وزن کم رہتا ہے، اسقاطِ حمل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بعض سنگین صورتوں میں جانور کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خوراک میں توانائی، پروٹین، نمکیات اور دیگر ضروری اجزا مناسب مقدار میں شامل ہوں تاکہ بکری صحت مند اور پیداواری رہے۔
متوازن خوراک کے اجزاء
بکریوں کی متوازن خوراک میں درج ذیل شامل ہونے چاہئیں:
- موسمی سبز چارہ
- بھوسۂ گندم
- راشن / ونڈا
- کھل بنولہ
- چوکر
- میز گلوٹن فیڈ
- شیرا
- منرل مکسچر
آٹھ کلو سبز چارہ فی بھیڑ کھلائیں۔ کم سے کم ڈھائی سو سے چارسو گرام ونڈا روزانہ ونڈا دیں۔خوراک میں نمکیات خصوصاً کیلشیم فاسفورس کاپر آیوڈین کی کمی ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔
چارہ گاہ پر بھیجنے کے لیے ہدایات
- گرمیوں میں بکریوں کو سورج نکلنے سے پہلے اور شام کے وقت چرائی پر بھیجیں۔
- شدید گرمی میں دوپہر کے وقت بکریوں کو سایہ دار جگہ پر رکھیں۔
- سردیوں میں شبنم خشک ہونے کے بعد چرائی کرائیں۔
- چرائی پر جانے سے پہلے تھوڑا سا ونڈا یا خشک چارہ ضرور کھلائیں۔
- کھیتوں کی منڈیروں پر ایسے درخت لگائیں جن کے پتے بکریوں کی خوراک بن سکیں۔ شور زدہ مہینوں میں جنتر کاشت کریں۔
پینے کے لیے ہر وقت صاف اور تازہ پانی دستیاب ہونا چاہیے۔ باڑے میں دھوپ اور ہوا کے مناسب گزر کا انتظام ہو تاکہ نمی جمع نہ ہو، کیونکہ نمی خصوصاً بچوں اور کمزور بکریوں کو بیمار کر دیتی ہے، اسی وجہ سے فرش کو ہمیشہ خشک رکھنا چاہیے۔ مزید یہ کہ کھیتوں کی منڈیروں پر ایسے درخت لگانا مفید ہے جن کے پتے بکریوں کی خوراک کے طور پر استعمال ہو سکیں، جبکہ شور زدہ مہینوں میں چارے کی کمی پوری کرنے کے لیے جنتر کی کاشت بھی کرنی چاہیے۔
باڑا اور جگہ کا معیار
باڑے اور جگہ کے معیار کا خاص خیال رکھنا بکریوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے، اس لیے ہر بکری کے لیے کم از کم 12 مربع فٹ چھتی ہوئی اور 24 مربع فٹ کھلی جگہ مہیا کی جانی چاہیے۔ باڑا صاف، کشادہ اور نسبتاً اونچی جگہ پر ہونا چاہیے تاکہ پانی جمع نہ ہو اور نمی سے بچاؤ رہے، جبکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باڑوں میں عام افراد کا غیر ضروری داخلہ بھی محدود رکھنا چاہیے۔
صحت، بیماریوں سے بچاؤ میں ریکارڈ کی اہمیت
بکریوں کی بہتر صحت اور پیداوار کے لیے فارم پر موجود تمام جانوروں کا ریکارڈ سائنسی بنیادوں پر رکھنا ضروری ہے تاکہ بیماریوں، افزائش اور پیداوار پر نظر رکھی جا سکے۔ نئے خریدے گئے جانوروں کو کم از کم دس دن کے لیے علیحدہ رکھنا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ بیماری کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔ کمزور بکریوں کی مینگنیاں لیبارٹری میں ٹیسٹ کروانا مفید رہتا ہے، جبکہ باقاعدگی سے کرم کش ادویات پلانے اور محکمہ لائیو سٹاک کے شیڈول کے مطابق حفاظتی ٹیکے لگوانے سے بیماریوں سے مؤثر بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
نسل کشی کا درست انتظام
بکریوں میں بہتر نسل کے حصول کے لیے نسل کشی میں نسلی اعتبار سے بہترین بکرے کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ شدید گرمی کے اثرات سے بچنے کے لیے یکم جولائی سے پندرہ ستمبر تک نسل کشی بند رکھنی چاہیے۔ اس کے علاوہ سانڈ بکروں کو مارچ، اپریل اور ستمبر، اکتوبر کے مہینوں میں ریوڑ میں چھوڑنا زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے، جس سے صحت مند اور بہتر پیداواری نسل حاصل کی جا سکتی ہے۔
پہلے سے خشک چارہ بنا کر استعمال کریں۔ سائلیج بنائیں، ونڈا / وغیرہ بھی استعمال کریں۔
ایسی غذا جس میں جانوروں کی بنیادی جسمانی ضروریات،کام کرنے کی صلاحیت اور پیداواری ضروریات کیلئے غذائی اجزاء،صحیح مقدار اور معیار کے ساتھ ہوں۔ متوازن خوراک کہلاتی ہے۔ متوازن غذا جانوروں کی جسمانی حالت اور صحت برقرار رکھتی ہے، جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کیلئے حرارت مہیاء کرتی ہے، جسم سے نمکیات ضائع ہونے سے بچاتی ہے، زندگی برقرار اور خوشحال رکھتی ہے۔
پروٹین جانوروں اور پودوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ پودوں سے کھل بنولہ مکئی کی کھل سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ جانور کے معدہ میں جلد ہضم ہوجاتے ہیں۔
جانوروں میں پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں وٹامن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جانوروں کی خوراک میں وٹامن A اور وٹامن D کی خصوصی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی کمی کی وجہ سے جانوروں میں تولیدی نظام میں مسائل پیدا کیے جاتے ہیں۔
ونڈا اور منرل مکسچر
دلیہ، مکئی، گندم کا دلیہ، چوکر گندم، کھل بنولہ، نمک، ہڈی چورہ مناسب مقدار میں ملا کر تیار کریں۔
بھیڑ بکریوں 250 سے 400 گرام روزانہ ونڈا کھلائیں۔
بھیڑ بکریوں میں 30 گرام روزانہ کھلائیں۔
چارے کے حوالے سے معلومات اور عمومی سوالات
سبز چارہ جات میں نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے ان کی ہاضمیت زیادہ ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر اگنے والے چارہ کو فوریج اور جواگائے جائیں انہیں چارہ کہتے ہیں۔ پروٹین کی مقدار کی بنیاد چارہ جات کی دو اقسام ہیں پھلی دار، برسیم، لوسرن شفتل، سویا بین وغیرہ وغیرہ پھلی دار مکئی، جوار، باجرہ، جئی وغیرہ۔
چارے عموماً دو موسموں میں کاشت کیے جاتے ہیں، ربیع اور خریف۔
ربیع کے چارے (سردیوں کے چارے):
یہ چارے نومبر اور دسمبر میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ ان میں برسیم، لوسرن (لوسن)، جئی اور سدا بہار شامل ہیں۔ یہ چارے سردیوں میں جانوروں کیلئے موزوں اور غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔
خریف کے چارے (گرمیوں کے چارے):
یہ چارے مئی اور جون میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ ان میں مکئی، جوار، باجرہ، ماٹ گھاس، سوانک، کاوپیز، گوارا اور جنتر شامل ہیں۔ یہ چارے گرمیوں میں جانوروں کی خوراک کی اہم ضرورت پوری کرتے ہیں۔
موسم کے مطابق مناسب چاروں کی کاشت سے جانوروں کی صحت اور دودھ و گوشت کی پیداوار بہتر ہوتی ہے۔
ببل، سرس، اییل ایپل، شہتوت، کاو، جنڈ بیری، کیکر، آسٹریلوی کیکر وغیرہ۔
ایسے چارہ جات میں روڈ زگراس اور ماٹ گراس سدا بہار ہیں۔ ایک بار لگانے سے کئی سال تک پیداوار دیتے ہیں۔ غذائی اعتبار سے اعلٰی درجے کا چارہ ہے۔ زود ہضم، غذائیت سے بھرپور مئی جون سے چارے کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ چارے کی کمی ہمارے خطے کا مسلئہ ہے اس لیئے زیادہ کٹائیوں والے چارے اگانے کی ضرورت ہے۔
روڈزگراس اور ماٹ گراس سائیلج بنانے کیلئے موزوں چارے نہیں۔ سائلیج سے چارے کی افادییت 30-50% بڑھ جاتی ہے۔ زمین نئی فصل کیلئے خالی ہو جاتی ہے۔ سبز چارے کی قلت میں بہترین خوراک ہیں۔ سائلیج کیلئے جگہ بہت کم درکار ہوتی ہے۔ سائلیج کی غذائیت شروع سے آخر تک یکساں رہتی ہے۔
بھیڑ بکری کو روزانہ 6 سے 8 کلو سبز چارہ درکار ہوتا ہے جبکہ 3 سے 4 کلو سائلیج کھانے کیلئے کافی ہوتا ہے۔
سائلیج کیسے تیار کیا جائے؟
مکئی یا دوسرے گھاس جو ضرورت سے زیادہ ہوں جب دانہ بنا لیں دانہ دبانے سے دودھیا مواد نکلے تو کاٹ کر کتر لیں۔ ڈیڑھ فٹ تہہ بنا لیں، خوب ہوا نکالیں، ٹریکٹر سے دبائیں تہہ بناتے جائیں، پلاسٹک سے اسے ڈھانپ دیں، لیپ دیں، 40 دن بعد خمیرہ چارہ تیار ہوگا۔
سائلیج کے کیا فائدے ہیں؟
توانائی سے بھرپور ہے۔ سائلیج بنانے اور ذخیرہ کرنے سے زمین فارغ ہو جاتی ہے اور دیگر فصلیں اگائی جا سکتی ہیں۔ روزانہ گھاس کاٹنے/کترنے سے نجات مل جاتی ہے۔ لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ کاربو ہائیڈریٹ کی خاطر خواہ مقدار ہوتی ہے۔ سائلیج میں نمی کا تناسب 65-70 فیصد ہے۔
سبز چارہ اور سائلیج روزانہ کتنی مقدار میں دینا چاہیئے؟
بھیڑ بکری کو روزانہ 6 سے 8 کلو سبز چارہ درکار ہوتا ہے جبکہ 3 سے 4 کلو سائلیج کھانے کیلئے کافی ہوتا ہے۔
بکریوں کے راشن میں مکئی 37%، چنے 15%، چوکر گندم 20%، کھل بنولہ 25%، منرل مکسچر 2%، نمک خوردنی 1% استعمال کریں۔
فورمولہ نمبر1:
- مکئی 37 کلو گرام
- چنے 15 گرام
- چوکر گندم 20 کلو گرام
- کھل بنولہ 25 کلو گرام
- منرل مکسچر 02 کلو گرام
- نمک خوردنی 01%
فارمولہ نمبر2:
- مکئی 20%
- چنے 40%
- چوکر گندم 20%
- کھل بنولہ 17%
- منرل مکسچر 02%
- نمک خوردنی 01%
فارمولہ نمبر3:
- جو 20%
- چوکر گندم 40%
- کھل بنولہ 20%
- چنے 17%
- منرل مکسچر 02%
- نمک خوردنی 01%
بوہلی بچے میں قوتِ مدافعت پیدا کرتی ہے۔ بوہلی نہ پلائی جائے تو بچے مر جاتے ہیں۔ بچے کو قبض سے بچاتی ہے اور اگر بوہلی نہ پلائی جائے تو بچے کو دست لگ جاتے ہیں۔ بوہلی جسم سے فاسد مادے خارج کرتی ہے۔ اگر بوہلی نہ پلائی جائے تو بچے مٹی کھانے لگ جاتے ہیں۔ بوہلی میں فائدہ مند جراثیم ہوتے ہیں۔ بوہلی میں پروٹین دودھ سے زیادہ ہیں۔ بوہلی بچے کو توانائی فراہم کرتی ہے۔
پروٹین (لحمیات)
Protein (لحمیات) کی قیمت شکریات سے 5 سے 10 گنا زیادہ ہے، روغنیات توانائی کا اہم ذریعہ ہیں جو شکریات اور لحمیات سے 2.25 گنا زیادہ تونائی مہیا کرتے ہیں، شکریات (Carbohydrates) 60-70 فیصد جانوروں کی خوراک میں ہوتے ہیں، شکریات کا بنیادی کام اوجھڑی میں موجود جرثوموں اور جانور کی توانائی مہیا کرنا ہے۔
میگنیشیم
0.044% میگنیشیم جانور کے جسم میں پایا جاتا ہے، اس کا قریبی تعلق کیلشیم اور فاسفورس سے ہے، اس کی کمی سے دورے پڑتے ہیں، 0.15% دودھ میں پایا جاتا ہے، جانور ہوش و حواس کھو دیتا ہے، 70% میگنیشیم ہڈیوں میں پایا جاتا ہے، میگنیشیم کی کمی سے جانور بے چینی میں تڑپتا ہے اور اس کا جسم اکڑ جاتا ہے۔
کیلشیم
جانور کے جسم میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے، دودھ میں 0.12%، دانتوں میں 90% پایا جانے والا عنصر ہے۔ اعصابی تحریک اور پٹھوں کا کام نہ کرنا کیلشیم سے ہوتا ہے اس کی کمی سے بڑھوتری میں کمی، ہڈیوں کی کمزوری، دودھ میں کمی اور سوتک بخار جیسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں، جانور کو غنودگی طاری ہو جاتی ہے، فاسفورس جسم کا اہم عنصر ہے، دودھ میں اس کی مقدار 0.09% اور 80% ہڈیوں میں پایا جاتا ہے، اس کی کمی سے ریکٹس یعنی ہڈیوں کا ٹیڑھا ہوتا اور بڑھوتری میں کمی واقع ہو جاتی ہے، پٹھوں کی کمزوری نظامِ تولید کے مسائل، اس کی کمی سے پیشاب میں خون آنے لگتا ہے، شدید قبض ہو جاتی ہے۔
کوبالٹ
وٹامن B کا اہم حصہ۔ اوجھڑی میں موجود جرثومے کوبالٹ استعمال کر کے وٹامن B بناتے ہیں، اس کی کمی سے بھوک میں کمی، خون میں کمی، کھردری جلد، دودھ میں کمی، بے چینی، آنکھوں میں آنسو، جلد تھک جانا، مٹی کھانا، سبز چارہ نہ کھانا، لاغر اور کمزوری۔ 12B 50 سے 100 ملی لٹر خوراک دیں۔
کاپر
کاپر جسم میں آئرن کے ساتھ شامل ہو کر ہیمو گلوبن بناتی ہے، سرخ خلیوں کی پیداوار کو توڑ پھوڑ سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس کی کمی سے بالوں کا رنگ سیاہ سے بھورا ہو جاتا ہے۔، جانور ہیٹ میں نہیں آتا، لمبی ہڈیاں سوجھ جاتی ہیں، جوڑوں میں درد، نظامِ تولید کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ پیاس نہ لگنا، دودھ کم، کھردری جلد، پچھلی ٹانگین کمزور، جلدی تھکاوٹ اس کی کمی سے ہوتے ہیں۔
آئیوڈین
پہاڑی علاقوں میں شدید کمی پائی جاتی ہے، موسمِ گرما میں پودوں میں آئیوڈین کی کمی پائی جاتی ہے، اس کی کمی سے بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں، گردن سوجھ جانا، بچے کے جسم پر بال نہ ہونا، بچہ نابینا ہونا، دودھ کم، بچے گرا دینا، بھوک میں کمی، گلہڑ ہونا۔
آئرن
جسم میں آکسیجن کی ترسیل میں اہم کردار۔ اس کی کمی سے خون کی کمی، بھوک نہ لگنا، وزن میں کمی، سانس پھول جانا۔
میگانیز
اس کی کمی سے ٹانگیں ٹیڑھی، جوڑ پھول جاتے ہیں، جانور کمزور ہو جاتا ہے۔
سیلینیم
بڑھوتری میں کمی، نظامِ تولید میں خرابی، جیر نہ پھینکنا، پٹھوں کے مسائل، اس کا گہرا تعلق Vit-E سے ہے، دونوں خلیوں کو توڑ پھوڑ سے محفوظ رکھتے ہیں۔
زنک
میٹابولزم میں اہم کردار، بالوں کا گرنا، جوڑوں کی بیماریاں ہیں۔
مندرجہ بالا علامات کی صورت میں محکمہ لائیو سٹاک کا منظور شدہ ونڈا استعمال کریں۔
جانوروں کی خوراک کے حوالے سے عمومی سوالات
حمل کے آخری بیس دنوں میں حاملہ جانور کو روزانہ تقریباً پانچ سو گرام متوازن خوراک ضرور دیں، تاکہ جانور مضبوط رہے اور بچہ صحت مند پیدا ہو۔
بھیڑ بکری کو روزانہ 10 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اگر جانور پانی نہیں پیتا تو کاپر کی کمی ہے، منرل مکسچر سہولت سینٹر سے لا کر کھلائیں، کرم کش ادویات نزدیکی شفا خانہ حیوانات سے پلوائیں، نمک سہولت سنٹر لائیو سٹاک سے کرید کر جانوروں کو کھلائیں۔
پانی حاملہ جانوروں کے رحم کو مائع محلول مہیا کرتا ہے جو بچہ آرام سے رکھتا ہے، جانوروں کو کم پانی پلانے سے قبض ہو جاتی ہے، کم پانی پلانے سے Dehydration ہو جاتی ہے، جانوروں کا وزن کم ہو جاتا ہے، جانور کھانا پینا کم کر دیتے ہیں، جانوروں کے دودھ میں کمی ہو جاتی ہے، پانی کم پلانے سے جانوروں کے جسم سے گندے مادے خارج ہوتے ہیں، جو زہرباد کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جانور کے جسم میں فولاد کا وزن برقرار نہیں رہتا۔
اگر بکریوں کو جتنا بھی چارا دیا جائے لیکن وہ موٹی نہ ہوں تو اس کی بڑی وجوہات میں پیٹ کے اندرونی کیڑے، غیر متوازن خوراک، منرلز کی کمی اور پانی کی کمی شامل ہیں۔ پیٹ کے کیڑوں کی موجودگی میں جانور کو خوراک پوری طرح نہیں لگتی اور وزن نہیں بڑھتا۔
حل اور احتیاطی تدابیر:
- سب سے پہلے گوبر یا مینگنوں کا ٹیسٹ کروا کر مناسب اندرونی کیڑوں کی دوائی پلوائیں
- بکریوں کو متوازن غذا دیں جس میں مکئی، کھل بنولہ، چوکر گندم، ڈی سی پی شامل ہو
- روزانہ منرل مکسچر اور نمک کے ڈلے کھرلی میں رکھیں
- دن میں کئی مرتبہ یا ہر وقت صاف پانی دستیاب رکھیں
- باڑے اور جانوروں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں
- کمزور یا مسئلہ برقرار رہے تو قریبی شفاخانہ حیوانات سے علاج کروائیں
ان اقدامات سے خوراک کا بہتر استعمال ہوگا اور بکریاں آہستہ آہستہ صحت مند اور فربہ ہونا شروع ہو جائیں گی۔
سوئف اجوائن، پنیر، کالا نمک، میٹھا سوڈا، نشادر قلمی شورہ گڑ میں ملا کر مناسب مقدار یا ماہر ڈاکٹر کے مشورہ سے دیں۔
جگالی کرنے والے جانوروں کا نظامِ ہضم درج ذیل حصوں پر مشتمل ہوتا ہے:
- منہ
- خوراک کی نالی
- معدہ (چار حصے: اوجھڑی، جالہ، ہزار دانہ، سچا معدہ)
- چھوٹی آنت
- بڑی آنت
صحت مند جانور کی ایک اہم علامت باقاعدہ جگالی ہے۔ ایک تندرست جانور عموماً ایک منٹ میں 45 سے 50 مرتبہ منہ کو حرکت دیتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا نظامِ ہضم درست طریقے سے کام کر رہا ہے۔
جانور کے ہاضمے کو برقرار رکھنے کیلئے سوئف، اجوائن، کالا نمک، میٹھا سوڈا، نشادر قلمی شورہ وغیرہ کو کاٹ کر جانور کو کھلائیں۔
