مرض کاٹا( پی پی آر) کا رتعارف

یہ بیماری پہلی دفعہ بیسویں صدی عیسوی میں افریقہ کے ملک نائیجیریا میں ظاہر ہوئی اور آہستہ آہستہ باقی ممالک میں پھیل گئی۔ پاکستان، بھارت، نیپال، چین، ویتنام، شمالی افریقہ اور خلیجی ممالک وغیرہ اس بیماری سے متاثر ہیں۔ یہ بیماری پاکستان میں پہلی دفعہ 1990 میں دیکھی گئی اور یہ بیماری خیبر پختونخوا کے ہر اس علاقے میں پائی جاتی ہے جہاں لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ بیماری پی پی - آر کے نام سے مشہور ہے۔ پی۔ پی آر فرانسیسی زبان کے الفاظ "پیسٹی ڈلیس پیٹیٹس رومینینٹس " سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی "چھوٹے جگالی کرنے والے جانوروں کا طاعون" ہے۔ ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ مختلف اضلاع میں یہ بیماری ایک وبائی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس بیماری سے جانور کے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں واضح کمی آتی ہے۔ اس بیماری میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ حاملہ بھیڑ بکریوں میں اسقاط حمل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بھیڑ بکریاں پالنے والے فارمرز کو مزید مالی نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو جانور بیمار ہو جاتے ہیں۔ ان کے علاج معالجے پر بھی بھاری اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔ مجموعی طور پر صوبہ بھر میں گوشت اور دودھ کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

یہ بیماری ایک انتہائی متعدی وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ پی۔ پی۔ آر وائرس جسم سے باہر زیادہ دیر کیلئے زندہ نہیں رہ سکتا اور سورج کی روشنی سے یہ غیر موثر ہوتا جاتا ہے۔

 

زیادہ تر یہ وائرس بھیڑ اور بکریوں کو متاثر کرتا ہے تاہم کچھ جنگلی جانور بھی اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ تین ماہ سے دو سال کی عمر کے جانور زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس بیماری کا جرثومہ انسانوں کو متاثر نہیں کرتا۔ متعدی نوعیت کا یہ مرض بھیڑ بکریوں میں شدید بیماری اور اموات کا باعث بنتا ہے۔ بکریوں میں یہ مرض زیادہ شدت اختیار کر کے زیادہ اموات اور نقصان کا باعث بنتا ہے۔ بیماری کی شرح 80 فیصد اور بیماری کی شدت کی بناء پر اموات 100 فیصد تک پہنچ جاتی ہیں۔ تاہم جانور کے مدافعتی نظام، عمر اور جانور کی نسل جیسے اہم عوامل بیماری اور موت کی شرح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

 

یہ ایک متعدی بیماری ہے۔ اس بیماری کا جرثومہ جسم کی تمام رطوبتوں مثلاً آنسو، ناک کی رطوبت بلغم اور دست وغیرہ میں موجود ہوتا ہے اور سانس کے ذریعے سے دوسرے صحت مند جانور کو منتقل ہو سکتا ہے۔ جانوراگر ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے رہیں ، اکٹھے خوراک کھائیں اور پانی پئیں تو بیماری کے جراثیم بیمار جانور سے خوراک، پانی اور بچھالی میں منتقل ہو کر دوسرے تندرست جانوروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر کسی ایک جانور میں بھی یہ جراثیم موجود ہو اوراس کوریوڑ میں شامل کیا جائے تو بہت ہی مختصروقت میں یہ بیماری پورے ریوڑ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ مویشیوں کی منڈیوں میں کسی بیمار جانور سے یہ بیماری صحت مند جانور کولگتی ہے۔ خانہ بدوش جب اپنے ریوڑ کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتے ہیں تو یہ بیماری پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب دوریوڑ ایک ہی جگہ پر چرتے ہیں تو ان میں بیماری پھیل سکتی ہے۔ اگر گاڑیوں پر یہ جراثیم موجود ہوں تو ان گاڑیوں سے بھی یہ بیماری ایک فارم سے دوسرے فارم تک منتقل ہوتی ہے۔ عام طور پر خیبر پختونخوا میں یہ بیماری سردی اور بہار کے موسم میں تیزی اختیار کر لیتی ہے۔

 

جسم میں وائرس کے داخل ہونے کے بعد دو سے دس دن کے اندر ابتدائی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ابتدائی علامات میں تیز درجے کا بخار ہوتا ہے جس کی وجہ سے خوراک میں کمی ہوتی ہے۔ بخار کے ساتھ ہی جانور میں ناک سے رطوبت خارج ہونے لگتی ہے جو کہ ابتدائی ایام میں کم مقدار میں ہوتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ مقدار اور گاڑھی ہو جاتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ یہ ناک کی لیسدار رطوبت خشک ہو کر کھرنڈ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے جانور کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کھرنڈ کو ہٹانے کیلئے جانور چھینکیں مارتا رہتا ہے۔ ناک کے اندر زخم بھی بن سکتے ہیں۔ جانور کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور آنکھوں سے پانی آتا ہے جس کی وجہ سے جانور کے گال گیلے ہو جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ آنکھوں سے سفید ریشہ خارج ہونے لگتا ہے اور اس ریشے کی وجہ سے جانور کی پلکیں چپک جاتی ہیں اور پلکیں بند ہونے سے جانور دیکھ نہیں پاتا اور پانی پینے اور خوراک کھانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ بیمار جانور کے منہ سے رال ٹپکتی رہتی ہے اور ٹھوڑی گیلی رہتی ہے۔

دو سے تین دن بخار رہنے کے بعد جانور کے منہ کے اندر نچلے دانتوں کے مسوڑھوں میں زخم بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگلے تین سے چار دن میں زبان سمیت منہ کے اندر کے تمام جگہوں پر زخم بن جاتے ہیں۔ اگر جانور خوراک مکمل طور پر بند کر دے تو منہ کے اندر زخموں پر سفید رنگ کی ایک تہہ بن جاتی ہے۔ ایسے جانوروں کے منہ سے بدبو آتی ہے۔ جانور کے ہونٹ متورم ہو جاتے ہیں اور ہونٹوں پر کھرنڈ جمع ہو ہو جاتے ہیں جو کہ ہونٹوں کے جوڑ پر نظر آتے ہیں۔

منہ کے اندر زخم بننا شروع ہونے کے دو سے تین دن بعد جانور کو شدید اسہال / پیچش اور لاغرپن شروع ہو جاتی ہے۔ شروع میں جانور کا گو بر نرم ہوتا ہے پھر پانی کی طرح بہنے لگتا ہے جس سے بدبو آتی ہے اور خون بھی موجود ہوتا ہے۔

جانور کے پھیپھڑوں میں سوزش ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانور تیز تیز سانس لیتا ہے، جانور اپنی گردن اور سر کو آگے کی طرف کھینچتا کی ہے، نتھنے پھول جاتے ہیں، جانور اپنی زبان باہر نکالتا ہے اور کھانستا رہتا ہے۔ اسی دوران جانور کے جسم میں پانی کی شدید کمی ہو جاتی ہے اور جانور کی آنکھیں اندر کی طرف دھنس جاتی ہیں۔ ایسے جانور کے زندہ رہنے کی امید بہت کم ہوتی ہے بخارشروع ہونے کے سات سے دس دن کے بعد جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ جو جانور بچ جاتے ہیں ان کے ہونٹوں کے کناروں پر کھرنڈ مستقل طور پر نظر آتے ہیں۔ جو بھیڑ بکریاں ایک دفعہ مرض کا ٹا گزار لیں تو انھیں دوبارہ یہ مرض نہیں لگتا۔

کمزوری نمونیا اور پیچش کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ ہر بھیڑ بکری میں مرض کا ٹا کی تمام علامات ظاہر ہوں۔ یہ بیماری کم شدت والی بھی ہو سکتی ہے جس میں مسوڑھوں پر چھالوں / زخم کی بنیاد پر مرض کا ٹا کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔

 

جسم سے پانی کے اخراج اور کمی کی وجہ سے جانور کی لاش بہت لاغر دکھائی دیتی ہے۔ ناک اور آنکھوں کے گرد ریشہ نما مواد ہوتا ہے۔ جانور کے ہونٹ سوجے ہوتے ہیں۔ ناک اور منہ کے اندر زخم ہوتے ہیں۔ مردہ جانور کے دم کے آس پاس والی جگہ پر فضلہ لگا ہوتا ہے جو کہ اسہال کی نشانی ہے۔ پورے نظام انہضام کی نالی میں سوجن ، مختلف اعضاء پر زخم اور چھالے ہوتے ہیں۔ بڑی آنت میں دھاری دار زخم ہوتے ہیں جو کہ اس مرض کی مخصوص نشانی ہے۔ سانس کی نالی میں خون آلود جھاگ موجود ہوتی ہے۔ ناک سے پھیپھڑوں تک میں لیسدار مادہ موجود ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں نمونیا کی علامات پائی جاتی ہیں۔ نظام تنفس اور نظام انہضام سے وابستہ لمف غدود میں سوجن ہوتی ہے۔ تلی کا حجم بڑھ جاتا ہے۔

 

جن علاقوں میں یہ بیماری مستقل طور پر موجود ہے وہاں پر جانوروں میں بیماری کے علامات یعنی مسوڑھوں ، گالوں اور زبان پر چھوٹے چھوٹے زخم اور چھالے، سخت بخار، بد بودار دست تیزی سے سانس لینا وغیرہ دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیز خون کے نمونوں سے لیباٹری ٹیسٹ کے ذریعے بھی اس بیماری کے وائرس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

 

چونکہ یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جس کا کوئی خاص علاج نہیں ۔ لہذا بیماری کی روک تھام کیلئے اس بیماری کے آنے سے پہلے صحت مند جانوروں کو پی۔ پی۔ آر کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائے جائیں۔ پھر بھی اگر یہ بیماری آجائے تو مستند ڈاکٹر سے اس کا علاج و معائنہ کروانا چاہیئے ۔ بیمار جانور کو لیموں چھوٹے چھوٹے کاٹ کر خوراک میں دیئے جا سکتے ہیں اور پانی میں نمک یا نمکول ملا کر دینا چاہیئے ۔

 

اس بیماری سے بچاؤ کیلئے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ جانوروں کو بیماری کے آنے سے پہلے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائے جائیں۔ حفاظتی ٹیکہ جات اگر صحیح طریقے سے لگوائے جائیں تو ایک حفاظتی ٹیکہ ساری عمر کیلئے اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور بھیڑ بکریاں اس بیماری سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔ حفاظتی ٹیکہ فی جانور ایک ملی لیٹر کے حساب سے زیر جلد لگایا جاتا ہے۔ بھیڑ بکریوں کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے چار ماہ کی عمر کے بعد لگوائیں۔ صرف صحتمند جانوروں کو مقررہ مقدار اور طریقے کے مطابق ٹیکہ لگوائیں۔ تھکے ہوئے یا بیمار جانوروں کو ٹیکہ نہ لگوائیں۔ حاملہ بھیڑ بکریوں کو ویکسین احتیاط سے لگائی جاسکتی ہے۔ ویکسین کرنے سے پہلے تمام جانوروں کو ایک جگہ اکھٹا کر لیں۔ حفاظتی ٹیکہ جات بازار میں بذریعہ نسخہ ویٹرنری سٹور سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ پی۔ پی آر کی ویکسین شیشی میں ایک ٹکیہ کی صورت میں ملتی ہے جس کے ساتھ استعمال کیلئے ایک بوتل میں مخصوص محلول بھی ہوتا ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات سے بہترین نتائج حاصل کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ویکسین کی یہ بوتل ہمیشہ ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھیں ۔ ویکسین لینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ ویکسین فریج میں رکھی ہوئی تھی شیشی ہاتھ میں پکڑنے سے ٹھنڈی محسوس ہوگی۔ ویکسین پر لکھی ہوئی ویکسین بنے کی تاریخ اور مدت ختم ہونے کی تاریخ اچھی طرح پڑھ لیں کیونکہ ویکسین پر لکھی ہوئی مدت ختم ہونے والی تاریخ کے بعد ویکسین کام نہیں کرے گی۔ درج شدہ میعاد کے اندر حفاظتی ٹیکہ جات کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ زیر استعمال سرنج اور سوئیاں مکمل طور پر جراثیم سے پاک ہونی چاہئیں۔ ویکسین بنانے کیلئے ہمیشہ نئی سرنج اور نئی سوئی استعمال کریں۔ کوشش کریں کہ حفاظتی ٹیکہ جات صبح یا شام کے وقت لگوائیں ۔ ویکسین کے ساتھ ملنے والا مخصوص محلول کا درجہ حرارت استعمال کے وقت چار سے آٹھ سینٹی گریڈ ہونا چاہیئے ورنہ ویکسین بے اثر ہو جائے گی۔ اس کیلئے اس محلول کو رات بھر فریج میں رکھ دیں۔ پی۔ پی۔ آر ویکسین تیار کرنے کیلئے ڈسٹلڈ واٹر استعمال نہ کریں ورنہ ویکسین بے اثر ہو جائے گی۔ پی۔ پی۔آرویکسین ہمیشہ ایک تھرماس میں لیں جس میں آئیس پیک یا برف مناسب مقدار میں ہونی چاہئے ۔ ویکسین بنانے کیلئے تین ملی لیٹر محلول سرنج میں بھر کر ویکسین والی شیشی میں ڈالیں اور اس کو ہلانے کے بعد ویکسین والی شیشی میں سے سرنج سے سارا محلول نکال لیں اور اسے ویکسین کے ساتھ دی گئی محلول کی بوتل میں ڈالیں ۔ محلول کی بوتل کو اچھی طرح ہلا لیں ۔ ویکسین استعمال کیلئے تیار ہے۔ اس تیار شدہ ویکسین کو دو گھنٹے میں استعمال کریں۔ دو گھنٹے کے بعد بچ جانے والی ویکسین ضائع کر دیں۔ ویکسین کرتے ہوئے ویکسین کو ہمیشہ تھرماس میں ہی رکھیں ۔ پی۔ پی آرویکسین ہمیشہ زیر جلد لگا ئیں اور اس کیلئے سوئی آدھی انچ لمبائی والی استعمال کریں اور کھال کھینچ کر لگا ئیں ۔

ایک ریوڑ میں بیماری کو کم کرنے کیلئے صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ بیمار جانوروں کو صحت مند جانوروں سے الگ رکھیں ۔ صحت مند جانوروں کی خوراک، پانی اور ہو سکے تو مزدور بھی الگ الگ ہونے چاہئیں۔ اگر مزدور الگ رکھنا ممکن نہیں تو پہلے صحت مند جانوروں کو خوراک اور پانی ڈالیں اور پھر بیمار جانوروں کی طرف جائیں ۔ بیمار جانوروں کو اگر پہلے ہاتھ لگایا ہو تو صحت مند جانوروں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں، جوتے اور کپڑے بدلیں۔ بیمار جانوروں کی بچی ہوئی خوراک صحت مند جانوروں کو نہ دیں بلکہ ایسی خوراک کو جلا دینا چاہیئے ۔

نیا جانور ریوڑ میں فی الفور داخل نہ کریں، پہلے کم از کم دس دن تک الگ رکھیں اور اگر تندرست ہو تو ریوڑ میں شامل کریں۔ جانوروں کے باڑے میں جراثیم کش اسپرے باقاعدگی سے کریں۔ جانور کو مویشی منڈی لے جا کر واپس فورا ریوڑ میں شامل نہ کریں بلکہ ایسے جانور کو بھی دس دن تک باقی جانوروں سے الگ رکھیں ۔ جس جگہ بیمار جانوروں کا ریوڑ چرنے آتا ہو وہاں پر صحت مند جانوروں کو نہ لیجایا جائے ۔ بیمار جانورکا دودھ اور گوشت انسانوں کیلئے قابلِ استعمال رہتا ہے۔ اگر بیمار جانور کو ذبح کیا جائے تو اس کے تمام اندرونی اعضا کو جلا دینا چاہیئے یا زمین میں دفنا دینا چاہیئے ۔ ذبح کرنے کے بعد اس جگہ کو صاف کرنا چاہیئے اور اس جگہ پر بیماری کے جراثیم کو ختم کرنے کیلئے مناسب جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کرنا چاہیئے یا پھر اس جگہ پر چونا چھڑ کنا چاہیئے ۔

اگر جانور بیماری سے مر جائے تو مردہ جانور اور دیگر آلائیشیں جلا دیں یا زمین میں اتنی گہرائی میں دفن کریں کہ کتے اور دیگر جنگلی جانور انہیں کھود کے باہر نہ نکال سکیں۔