نسل کشی کے حوالے سے سوال و جواب
اکثر بکریاں مارچ، اپریل اور ستمبر اکتوبر میں گرم ہوتی ہیں اسلئے مناسب وقت ان مہینوں میں ملائی کروانے کا ہے۔
ایک سال کی عمر میں ملائی کروائیں۔
بکریوں کو یکم جولائی سے 15ستمبر تک نہ ملایا جائے یعنی نسل کشی نہ کرائی جائے ،کیونکہ ان مہینوں میں ملائی کرانے سے بچے سخت سردیوں میں پیدا ہو کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ٹیڈی بکری کم از کم 6ماہ اور وزن14کلو گرام ،ناچی 1سال اور وزن30کلو گرام،دائرہ دین پناہ 1سال اور وزن 32کلو گرام ہونا چاہیئے۔
نر بکرے کی عمر دو سال اور وزن 40 کلوگرام ہونا چایئے۔
جانور کھڑا رہتا ہےدوسرے جانوروں کو اپنے اوپر چڑھنے کا موقع دیتا ہے،جو جانور ویگ میں ہو وہ پہلے دوسرے جانوروں پر چڑھتا ہے،پیشاب والی جگہ کا رنگ سرخی مائل ہو جاتا ہے اور یہ جگہ سوجھ جاتی ہے،لیس دار مادہ دم اور ٹانگوں پر لگا ہوتا ہے،جانور بے چین ہوتا ہے،جانور آوازیں نکالتا ہے،بار بار پیشاب کرتا ہے،بچھڑیاں دُم اٹھا کر رکھتی ہیں ،کھانا پینا کم ہو جاتا ہے،دودھ کی پیداوار میں کمہ ہو جاتی ہے۔
کچھ جانور ایسے ہوتے ہیں جن کا ویگ خاموش ہوتا ہے،اس کو(Silent Heat)کہتے ہیں،ایسے جانوروں کو غور سے دیکھنا چاہیئے۔
بکریوں کا بار بار یا طویل عرصے تک ہیٹ میں آنا عموماً ہارمون کی کمی، بچے دانی میں ورم (Uterine infection) یا غلط وقت پر ملائی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بعض بکریاں 2 سے 3 دن مسلسل جنسی خواہش ظاہر کرتی ہیں، جس سے درست وقت پر ملاپ نہ ہونے کی صورت میں حمل قائم نہیں ہو پاتا۔
ایسی بکریوں میں ہیٹ کے دوران صبح اور شام دو مرتبہ ملائی کروانی چاہیے، اور اگر ہیٹ زیادہ لمبی ہو تو تیسری مرتبہ بھی ملائی کروائی جا سکتی ہے۔ اگر اس کے باوجود حمل نہ ٹھہرے تو بچے دانی کا معائنہ کروائیں اور ماہر امراضِ حیوانات کے مشورے سے ہارمون کا ٹیکہ مثلاً Inj.Delmerralin یا دانی میں ورم کی صورت میں اینٹی بائیو ٹک ٹیکوں کا کورس کروائیں۔ علاج کیلئے قریبی شفا خانہ حیوانات سے رجوع کریں۔
مادہ جانور سے انڈا ہیضہ دانی(Ovary)سے خارج ہوتا ہے،انڈہ ویگ ختم ہونے کے10سے12گھنٹے بعد خارج ہوتا ہے اور6سے12گھنٹے تک نر تخم سے ملے بغیر زندہ رہتا ہے،جبکہ نر تخم مادہ کے تولیدی نظام میں 24گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔
بکرے،چھترے کا ناخن اُتار دیں،اُون کُتر دیں،صبح شام ملائی کروائیں اور ریوڑ سے علیحدہ نکال کر ملائی کروائیں،ملائی سے پہلے اچھا راشن دیں۔
اچھی نسل کی بکری جس کی ماں جڑواں بچے دیتی ہو اچھا نسل کا بکرا جو جڑواں بچے دینے والی بکری کا ہو نسل کشی کے وقت بکریوں اور بکرے کی صحت اچھی ہو۔
جانور کی بچہ دانی میں نقص ہے ،بچہ دانی کا مواد لیبارٹری سے چیک کروائیں،پانچ دن تک Antibioticلگائیں،صبح شام بھیڑوں کی ملائی کروائیں،علاج شفا خانہ حیوانات سے کرائیں۔
درست وقت پر ملاپ نہ کروانا،یعنی ویگ کی شناخت کے متعلقہ مسائل مصنوعی نسل کشی غلط طریقے سے کرنا،ایسا سانڈ جو نر تخم کم پیدا کرتا ہو استعمال کرنا خوراک اچھی نہ دینا یا زیادہ خوراک سے موٹاپا آجانا ،مادہ جانور میں تولیدی نظام کی بیماری یا ہارمون کے مسائل۔
حمل کے دوران ممکنہ مسائل و حل
فوراً بچے نکلوا لیں،مزید خرابی اور انفیکشن سے بچنے کیلئے علاج شفا خانہ حیوانات سے کرائیں،حاملہ جانوروں کو حمل کے آخری ایام میں متوازن خوراک دیں۔
اگر ایسٹروجن ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہو جائے اور پروجیسٹر ہارمون میں کمی آجائے تو حمل گر جاتا ہے ،ایسی حالت میں پروجیٹرون کا ٹیکہ لگوائیں اور DCPپوڈر کھلائیں،علاج شفا خانہ حیوانات سے کرائیں۔
بکری یا بھیڑ میں آوانس عموماً حمل کے آخری دنوں میں زیادہ دباؤ، قبض، سخت یا خشک خوراک، ہارمونز کے عدم توازن، شدید گرمی یا بچے دانی/ویجائنا میں زخم کی وجہ سے باہر آ جاتی ہے۔
علاج کا طریقہ
آوانس کو سب سے پہلے KMnO₄ (پوٹاش) کے ہلکے محلول سے اچھی طرح صاف کریں۔ صاف ہاتھوں سے اینٹی سیپٹک کریم یا مرہم لگا کر آہستگی سے اندر کریں۔ جوتا، کپڑا یا کوئی گندی چیز ہرگز استعمال نہ کریں۔ آوانس کے دوبارہ باہر آنے سے بچانے کیلئے چھکا یا سپورٹ بینڈیج باندھ دیں۔
احتیاطی تدابیر
جانور کو ڈھلوان یا اونچی نیچی جگہ پر نہ باندھیں، بہتر ہے کہ پچھلا حصہ 6–9 انچ اونچا رکھا جائے۔ قبض سے بچاؤ کیلئے سبز اور نرم چارہ دیں، سخت اور گرم خوراک جیسے جنتر، خشک گھاس یا پرالی سے پرہیز کریں۔ ضرورت پڑنے پر سرسوں کا تیل یا دہی پلایا جا سکتا ہے۔ جانور کو صاف رکھیں اور گرمی میں نہلانا مفید ہوتا ہے۔
ادویات
اگر درد زیادہ ہو تو ماہر امراضِ حیوانات کے مشورے سے درد کش ٹیکہ (مثلاً ڈکلوفینک) لگوائیں۔ زخم یا انفیکشن کی صورت میں اینٹی بائیوٹک کا استعمال بھی ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔ زیادہ بے چینی کی حالت میں کلورل ہائیڈریٹ 30 گرام دودھ میں ملا کر دیا جا سکتا ہے۔
اگر آوانس بار بار نکلے یا حالت شدید ہو تو فوراً قریبی شفا خانہ حیوانات سے رجوع کریں۔
حیوانے،ناف اور ٹانگوں پر ورم آجاتی ہے،علاج شفا خانہ حیوانات سے کرائیں۔
بھیڑ یا بکری میں زچگی کے بعد عموماً 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر جِیر خارج ہو جاتی ہے۔ اگر 8 گھنٹے تک جِیر باہر نہ آئے تو اسے جِیر کا رُک جانا کہا جاتا ہے۔
زچگی کے فوراً بعد جانور کو صاف نیم گرم پانی پلائیں۔ بوہلی (پہلا گاڑھا دودھ) نکال لیں اور بچوں کو دودھ پلوائیں یا تھوڑا دودھ خود نکال لیں، اس سے جسم میں آکسی ٹوسن ہارمون خارج ہوتا ہے جو رحم کے پٹھوں کو سکڑنے میں مدد دیتا ہے اور جِیر کو رحم سے علیحدہ ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔
بطور معاون خوراک گندم کا چوکر گُڑ میں ملا کر کھلائیں، نیز سنڈھ (سونٹھ) اور گُڑ کوٹ کر تھوڑی مقدار میں دیا جا سکتا ہے۔
اگر جِیر کا کچھ حصہ باہر نظر آ رہا ہو تو لکڑی کے ساتھ لپیٹ کر بہت آہستگی سے کھینچیں، زبردستی ہرگز نہ کریں کیونکہ اس سے رحم کو نقصان اور انفیکشن ہو سکتا ہے۔
اگر 8 گھنٹے گزرنے کے باوجود جِیر خارج نہ ہو تو فوراً قریبی شفا خانہ حیوانات یا ماہر ڈاکٹر سے علاج کروائیں۔
اس کیلئے ماہر ڈاکٹر سے تشخیص کروائیں،ٹارشن ہونا،ایک ٹانگ ظاہر ہونا،سر پیچھے مڑا ہونا ان حالتوں میں ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کریں۔
پٹھ (بکری) جب جوان ہو جاتی ہے تو ملائی کروائیں،یعنی ایک سال عمر میں Cyclomateہارمون کا ٹیکہ لگوائیں ،دو انڈے توڑ کر پلائیں،علاج شفا خانہ حیوانات سے کرائیں۔
حاملہ بھیڑوں میں بچہ گرنے (Abortion) اور حیوانہ خراب ہونے کی بڑی وجوہات میں غذائی کمی، جسم میں زہریلے مادّوں کا بڑھ جانا، انفیکشن، اور پانی کی کمی شامل ہیں۔ ایسی صورت میں حمل برقرار نہیں رہتا اور بھیڑ بچہ گرا دیتی ہے۔
حاملہ بھیڑوں کا خاص خیال رکھیں، دن میں کئی مرتبہ صاف تازہ پانی پلائیں اور متوازن خوراک دیں۔ خون اور دودھ قریبی تشخیص لیبارٹری برائے حیوانات سے چیک کروائیں تاکہ انفیکشن یا زہریلے اثرات کی بروقت تشخیص ہو سکے۔
جسم میں زہریلے مادّوں کی زیادتی کی صورت میں قلمی شورہ، نشادر اور کالی مرچ مناسب مقدار میں کوٹ کر ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے دیں۔ حیوانہ (تھنوں) کی صفائی اور حفاظت کا خاص خیال رکھیں۔
مزید بگاڑ یا بار بار بچے گرنے کی صورت میں فوراً شفا خانہ حیوانات سے مکمل علاج کروائیں۔
بکریوں کو بچہ جننے کے بعد گڑ اور بڑی الائچی کُوٹ کر دیں۔بکریوں کو باجرہ خوراک میں ملا کر دیں۔گندم دلیہ خوراک میں ملا کر دیں۔
جو نر جانور گرمی بہت کرتے ہیں اُن کو وقفے کا ٹیکہ ماہر امراض حیوانات سے لگوائیں۔
اعلی نسل کا چھترا جو جُڑواں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اس سے ملائی کروائیں اور متوازن خوراک دیں،ملائی سے 15دن پہلے اچھی خوراک پر توجہ دیں۔
اعلی نسل کے نر بکرے،چھترے سے ملائی کروائیں،متوازن خوراک حاملہ جانور کو دیں،نمک کے ڈلے کھرلی میں ڈالیں،ملائی سے پہلے اچھی خوراک دیں۔
30بھیڑوں کیلئے ایک چھترا کافی ہے۔
نومولود بچوں کے حوالے سے عمومی سوال و جواب
نوزائدہ بچوں کو 15دن ماں کے ساتھ رکھیں۔
پھیپھڑوں کی بیماری نمونیہ کا شکار جانور دشواری سے سانس لیتے ہیں اور مَر جاتے ہیں،متعدی نمونیا کیلئے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں،بیمار جانوروں کو اینٹی بائیوٹک 3سے5دن تک لگوائیں۔
سینے پر آہستہ آہستہ دبائیں،ناک میں منہ سے پھونکیں،دل والی جگہ پر ہاتھ سے رگڑیں Massageکریں۔
40kgوزن کے بچھڑے کو 2لیٹر بوہلی پلائیں،ایک گھنٹے کے اندر اندر بوہلی ضرور پلائیں۔
O.R.Sپلائیں سیرپ Flagyl5ml صبح شام پلوائیں سیرپ Q.Plex 5ml صبح شام پلوائیں۔
نوزائیدہ بکری یا بھیڑ کے بچوں میں بعض اوقات جسم لکڑی کی طرح سخت ہو جاتا ہے اور پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ یہ ایک نہایت خطرناک اور موذی بیماری ہے جسے چاندنی یا ٹیٹنس (Tetanus) کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب پیدائش کے بعد ناف کے ذریعے ٹیٹنس کے جراثیم جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
علامات
- جسم اور پٹھوں کا سخت ہو جانا
- منہ کھلنے میں دشواری
- جسم میں جھٹکے
- قبض اور اپھارہ
- آنکھ کی پُتلی کا پلٹ جانا
- جانور کا اکڑ کر گر جانا
وجوہات
ٹیٹنس کے جراثیم عموماً گندی جگہوں، مٹی، اور گھوڑے یا گدھے کے گوبر میں پائے جاتے ہیں۔ ناف کی درست صفائی نہ ہونے سے یہ جراثیم آسانی سے بچے کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
بچاؤ
- پیدائش کے فوراً بعد ناف کو صاف تولیے سے باندھ کر ٹنکچر آیوڈین لگائیں
- باڑا اور اردگرد کا ماحول صاف رکھیں
- اگر جلد پر کوئی کٹ یا زخم ہو جائے تو فوراً A.T.S (Antitetanus Serum) کا ٹیکہ لگوائیں
ابتدائی علاج
- فوری طور پر A.T.S دیں
- مریض بچے کو شور اور روشنی سے بچا کر اندھیرے اور پرسکون جگہ پر رکھیں
- پٹھوں کے تناؤ کو کم کرنے کے لیے Muscle Relaxant ماہرِ امراضِ حیوانات کے مشورے سے دیں
یہ بیماری جان لیوا ہو سکتی ہے، اس لیے فوری اور مکمل علاج کے لیے لازمی طور پر قریبی شفا خانۂ حیوانات سے رجوع کریں۔
بچے کا کمزور اور لاغر پیدا ہونا عموماً حاملہ جانور کی غیر متوازن خوراک اور خاص طور پر آیوڈین کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے حاملہ جانوروں کو متوازن خوراک، ونڈا اور منرل مکسچر دیا جائے۔ آیوڈین کی کمی پوری کرنے کے لیے آیوڈین ملا نمک خوراک میں شامل کریں۔ بہتر نتائج کے لیے یہ غذائی انتظامات بچے کی پیدائش سے کم از کم 20 دن پہلے شروع کر دینا چاہییں۔
بیدائش کے بعد ایک گھنٹہ کے اندر بوہلی پلائیں فرش پر خشک گھاس یا پرالی بچھائیں۔تاکہ بچے مٹی نہ کھا سکیں۔
بچوں کو مٹی بچائیں،اندرونی کرم کی دوائی پلائیں،Iodexکی مالش کریں،نرم جگہ پر رکھیں،بروفین شربت پلائیں،اینٹی بائیوٹک ٹیکہ یا شربت پلائیں۔
بچوں کی پرورش کا موٹا سا اصول ذہن میں رکھیں کہ بچے کم از کم پندرہ دن اپنی ماوں کے ساتھ رہنے چاہیئں،باڑے کے اندر پانی کے ٹب میں کم از کم انتا چونا ملانا چاہیئے کہ پانی کا رنگ معمولی سا تبدیل ہو جائے،بچوں کا دودھ 4ماہ بعد چھڑایا جائے،بچوں کے نیچے خشک پرالی بچھا دیں،باڑے کی دیواریں کچی نہ رکھیں تاکہ بچے مٹی نہ چاٹ سکیں ،بچہ گھر کے اوپر 200واٹ کے 4بلب جلا دیں،لکڑی کے دو فٹ بڑے تختے پر نمک کے ڈبے سوراخ کر کے تار کے ساتھ باندھ دیں،بچے5گھنٹے میں دودھ ہضم کرلیتے ہیں اس لیئے ماوں کو 5گھنٹہ سے زیادہ چرائی پر نہ بھیجیں،رات کے وقت پیدا ہونے والے بچوں کیلئے کسی ملازم کی ڈیوٹی لگا دیں،چھوٹے بچوں کو سبز چارا کے ساتھ ساتھ راشن ونڈا بھی کھلائیں،60-30گرام سے شروع کریں ،مکئی20گرام آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں،چنے32کلو گرام،چوکرگندم30کلوگندم 15کلو گرام ،منرل مکسچر 2-5کلو گرام نمک خوردنی01%ونڈا بنائیں۔
