سٹ (Anthrax) ایک خطرناک اور متعدی بیماری ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات سے پہلے یہ دنیا بھر میں جانوروں کی موت کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کے پہاڑی اور ریگستانی علاقوں میں گائیوں، بھیٹروں کی موت کی بڑی وجہ یہ ہی بیماری ہے۔ اس بیماری کی بڑی وجہ بیکٹریا (Bacilus Anthrics) ہے۔ یہ بیکٹریا دو (2) حالتوں میں پایا جاتا ہے۔

اسباب:

  • سپور حالت
  • فعال حالت

سپور حالت :

سپور حالت جسم سے باہر پائی جاتی ہے جس میں یہ جرثومہ ایک خول کی شکل میں محفوظ پڑا رہتا ہے اور منساب موقع ملنے پر جسم میں داخل ہوتے ہی فعال حالت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

(2) فعال حالت : فعال حالت جسم میں پائی جاتی ہے اور اسی سے جانور میں بیماری کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ سپور حالت جسم سے باہر پائی جاتی ہے جبکہ فعال حالت میں پائی جاتی ہے اور اسی سے جانوروں میں بیماری کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ پھیلاؤ (Transmision)

  • یہ بیماری متاثرہ خوراک اور پانی سے صحت مند جانوروں میں منتقل ہوتی ہیں۔
  • متاثرہ جانور سے حاصل کیا گیابلڈ میل بھی پھیلانے کا سبب ہے۔
  • مکھیاں وغیرہ بھی بیماری کے پھیلاؤ کا سبب ہیں۔

علامات

۔متاثرہ جانوروں میں مندرجہ ذیل علامات پائے جاتے ہیں۔

  • جانوروں کی موت اچانک واقع ہو جاتی ہے
  • اگر جانور زندہ رہے تو اس میں تیز بخار،سانس کا تیز چلنا پیدا وار میں کمی ،جانور کا سست ہونا اور پتلے گوبر جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں-
  • مرنے کے بعد جسم کے تمام قدرتی سوراخوں مثلا ناک منہ گوبر اور پیشاب کے راستے خون آتا ہے

علاج:

کیونکہ بیماری تیزی سے رونما ہوتی ہیں اور %90 مواقع میں موت واقع ہو جاتی ہے اس لئے علاج ممکن نہیں۔ البتہ بروقت استعمال کے طور پر مختلف اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں پینسلین کا استعمال قدرے مفید ثابت ہوتا ہے۔

بچاؤ

.بیماری سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ حفاظتی ٹیکہ جات لگوائے جائیں۔ وٹرینری ریسرچ انسٹیٹیوٹ ( پشاور ) میں انتھریکس سپور ویکسن تیار کئے جاتے ہیں۔ انتھر یکس سپور ویکسن سال میں ایک مرتبہ لگایا جاتا ہے

خوراک (Doses):

انتھریکس سپور یکسن 1ml زیر جلد لگایا جاتا ہے۔