مرغیاں قدیم زمانے سے خوبصورتی اور خوراک کے لیے پالی جاتی رہی ہیں، جو وقت کے ساتھ ایک منافع بخش کاروبار بن گئی ہیں۔ کامیاب پولٹری فارمنگ کے لیے مرغیوں کو درست اور سائنسی طریقے سے رکھنا ضروری ہے۔` ہر گھر میں چھ مرغیاں رکھی جائیں تو گھر میں روز مرہ استعمال کے لئے انڈے مہیا کئے جاسکتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ جو مرغیاں انڈے دینے کے قابل نہ رہیں ان کو بوقت ضرورت ذبح کر کے بطور گوشت استعمال کیا جا سکتا ہے اور معمولی محنت سے انڈوں اور گوشت کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ چھوٹے اور گھریلو پیمانے پر پالنے کے لئے اس وقت ایسی مرغیاں موجود ہیں جن سے کم از کم سال میں 150 سے 200 تک انڈے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ ان کے لئے زیادہ جگہ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ۔ گھریلو پیمانے پرجگہ کے حصاب سے 50 سے 500 تک مرغیاں پالی جا سکتی ہیں، اوراس سے ماہانہ آمدنی میں بآسانی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
مرغیاں دو مقاصد کے لئے پالی جاتی ہیں۔
- انڈے
- گوشت
شہروں میں دونوں قسم کی مرغیاں پالی جاسکتی ہیں۔ لیکن دیہاتوں میں اگر صرف انڈے پیدا کرنے والی مرغیاں پالی جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ گوشت والی مرغیوں کا فروخت کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر دیہات میں بجلی، پانی اور ذرائع آمد و رفت کی سہولتیں میسر ہوں تو گوشت پیدا کرنے والی مرغیاں بھی پالی جاسکتی ہیں۔
چھوٹے یا بڑے کاروبار کے لئے مرغیاں پالنے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
- اعلیٰ اور معیاری نسل کی مرغیاں پالی جائیں۔
- متوازن اور وافر مقدار میں خوراک مہیا کی جائے۔
- جگہ کا مناسب انتخاب اور ڈربہ ( پولٹری شیڈ ) کی بناوٹ پر خاص دھیان دیا جائے۔
مرغیوں کے لئے جگہ ایسی منتخب کی جائے جو سیم زدہ نہ ہو اور پانی کا نکاس صحیح ہو۔ ڈربہ کے اندرونی ماحول کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق رکھا جائے ۔ جگہ ایسی ہو جہاں مرغیوں کی بدبو وغیرہ سے افراد خانہ اور پڑوسی متاثر نہ ہوں پانی اور بجلی کا انتظام مناسب ہونا چاہیے۔
رہائشی جگہ انڈے دینے والی مرغیوں کے لئے دو سے اڑھائی مربع فٹ اور گوشت پیدا کرنے والی مرغیوں کیلئے ایک مربع فٹ درکار ہے۔ اس میں یہ احتیاط برتی جائے کہ اس کی تعمیر میں زیادہ سرمایہ خرچ نہ ہو۔ اس میں مرغیاں موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکیں ۔ جنگلی جانوروں اور کتوں کی پہنچ سے دور ہیں۔ شیڈ کی چھت ایسی ہو جس میں دھوپ اندر داخل نہ ہو سکے اور بارش کی بوچھاڑ سے پرندے محفوظ رہیں ۔ اس لیے موزوں شیڈ کی لمبائی شرقا غربا اور چوڑائی شمالاً جنوبا ہونی چاہیے۔ شیڈ کا فرش پختہ ہو جس کو آسانی سے صاف رکھا جا سکے اور بوقت ضرورت دھویا جا سکے ۔ ڈربہ کو ہوادار بنانے کی غرض سے باریک جالی لگائی جائے تا کہ اس میں سے چوہے اور چڑیوں کا گزر نہ ہو سکے۔ اونچائی اس قدر ہونی چاہیے کہ شیڈ کی صفائی تسلی بخش کی جاسکے۔ لیکن اگر تھوڑی تعداد میں مرغیاں رکھنا مقصود ہوں تو ایک لکڑی یا لوہے کا ڈر بہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس ڈر بہ کو کسی سایہ دار جگہ میں رکھا جائے ۔ جہاں جنگلی پرندوں اور دھوپ سے بھی محفوظ رہے۔ ڈربہ کی صفائی پر خاص توجہ دی جائے ۔ ڈربے کے نیچے پہیے لگا دیں تو اس طرح اسے گرمیوں میں سایہ اور سردیوں میں دھوپ میں آسانی سے رکھا جا سکے۔
مرغیوں کی بہتر نشو ونما کے لئے دانے اور پانی کے برتنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان برتنوں کے استعمال سے شیڈ میں صفائی رہتی ہے اور خوراک کے ضیاع میں خاصی کمی رہتی ہے۔ چوزوں اور بڑی عمر کی مرغیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ سائز کے برتن استعمال کئے جاتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:۔
لمبے نالی نما برتن
یہ برتن ایک دن تا پانچ ہفتہ کی عمر کے چوزوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان کے اوپر ایک پھرکی لگی ہوتی ہے جو کہ چوزوں کو خوراک ضائع کرنے سے روکتی ہے۔ دیہاتوں میں مٹی کی کنالی بھی اس مقصد کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ یامٹی کے لمبے لمبے برتن بنوائے جاسکتے ہیں۔ بازاری برتن تجارتی مرغی خانوں میں ضروری ہیں۔
ڈول نما برتن
یہ برتن پانچ ہفتے کی عمر سے لے کر بلوغت تک مرغیوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان کی زمین سے اونچائی کو مرغیوں کی عمر کے مطابق رکھا جاتا ہے ان برتنوں میں خوراک خود بخود مرغیوں کی ضرورت کے مطابق ایک جیسی حالت میں ملتی رہتی ہے۔ دیہات میں ڈالڈا گھی کے خالی ڈبے اور مٹی کی کنالی کی مدد سے یہ برتن تیار کیے جاسکتے ہیں۔ بازاری برتن زیادہ تر تجارعی مرغی خانوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔
پانی پینے کے لئے برتن
ان برتنوں کے استعمال سے پرندوں کو صاف اور تازہ پانی ملتا ہے۔ انکی بناوٹ ایک جیسی ہوتی ہے۔ صرف عمر کے لحاظ سے سائز میں فرق پڑ جاتا ہے۔ شروع میں 1/4 گیلن والا برتن استعمال کیا جاتا ہے اور ایک ماہ کی عمر کے بعد دو گیلن والا برتن استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کی فرش سے اونچائی جسم کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ ایک 1/4 گیلن والا برتن 25 چوروں کیلئے کافی ہےاور دو گیلن والا برتن 230 مرغیوں کے لئے مناسب رہتا ہے۔ دیہات میں گھی کے خالی ڈبے اور مٹی کی کنالی سے پانی کے برتن تیار کیے جاسکتے ہیں۔
اس میں 1.5× 1.5×1 کے خانے بنے ہوتے ہیں۔ ایک گھونسلا پانچ مرغیوں کے لئے کافی ہوتا ہے۔ ان کے استعمال سے ایک تو انڈے ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں دوسرا انڈے گندے ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ اگر انڈے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد یعنی دن میں تین چار مرتبہ اکٹھے کر لئے جائیں ۔ تو مرغیوں کو کڑک ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور انڈے بھی گندے نہیں ہوتے۔
مرغیوں کو صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی خاطر لکڑی کے باریک برادے کی بچھالی کا استعمال لازمی ہوتا ہے۔ بچھالی کے استعمال سے کمرے کی صفائی اور بدبو پر قابو پایا جاسکتا ہے اور پرندے بالکل صاف ستھرے رہتے ہیں۔ بچھالی کی تہہ کم از کم 4 انچ موٹی ہونی چاہیے کسی ترنگی کی مدد سے برادے کو روزانہ اچھی طرح الٹ پلٹ کرنا چاہیے تا کہ جہاں کہیں یہ گیلی ہو خشک ہو جائے۔ بچھالی کیلئے چاول کا چھلکا، بھوسہ، خشک گھاس ، مونگ پھلی کے چھلکے اور گنے کا خشک گودہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انڈوں سے چوزے دو طریقوں سے نکلوائے جاسکتے ہیں ۔
- قدرتی
- مصنوعی
دیہات میں قدرتی طریقہ سے چوزے نکلوائے جاتے ہیں اور اس کے لئے کڑک مرغی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی پہچان کے لئے ذیل میں دی گئی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے :۔
- کڑک مرغی مستقل مزاج ہو۔ اگر اس کو پہلے چوزے نکلوانے کے لئے استعمال کیا گیا ہو تو بہتر ہے۔
- کڑک مرغی صحت مند ہونی چاہیے اور چچڑیوں اور جوؤں سے پاک ہونی چاہیے۔
- کڑک مرغی کو مدافعتی ٹیکہ جات لگے ہوئے ہونے چاہیں تا کہ چوزوں کو بیماری نہ لگ جائے۔
- صاف ستھری صحت مند اور اچھی جسامت کی مرغی انڈوں کو صیح طور پر گھما سکے گی۔ اور مناسب درجہ حرارت مہیا کر سکے گی۔ ایک مرغی کے نیچے ڈیڑھ درجن سے زائد انڈے نہ رکھیں ۔
- کڑک مرغی کو دن میں دو دفعہ انڈوں سے علیحدہ کر دیں۔ تا کہ وہ دانہ پانی کھاپی سکے۔ اور بیٹ وغیرہ خارج کر سکے۔ کڑک مرغی کو متوازن اور زود ہضم خوراک دینی چاہیے۔ تا کہ اس کی صحت برقرار رہ سکے آخری دو تین دن میں کڑک مرغی کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد انڈوں سے علیحدہ کرنا چاہیے تا کہ وہ زیادہ پانی کے استعمال سے انڈوں کو زیادہ نمی فراہم کر سکے ۔ اور چوزوں کے نکلنے میں آسانی ہو سکے ۔ چوزے انڈوں سے خود بخود نکلتے ہیں اور کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ چند دنوں کے لئے ان کو زود ہضم خوراک دلیہ کی شکل میں دینی چاہیئے تا کہ چوزے اس دلیہ کو آسانی کے ساتھ کھا سکیں اور جوں جوں ان کی عمر بڑھتی جائے خوراک میں اضافہ کیا جائے۔
عرصہ قدیم سے کڑک مرغی چوزے نکلوانے کا کام سر انجام دیتی ہے اور آج کل بھی کڑک مرغی سے ہی چوزے نکلوائے جاتے ہیں کڑک پین ایک موروثی خصوصیت ہے اکثر دیہات میں حکومت کے زیر نگرانی چوزے نکلوانے کے لئے اب چھوٹے چھوٹے انکو بیٹر تیار ہونے لگے ہیں جو بھی اور مٹی کے تیل سے چلتے ہیں ان انکوبیٹیوں میں نا ہیں۔ جو بجلی اور مٹی کے تیل سے چلتے ہیں ان انکوبیٹروں میں 50 سے 200 انڈے سے جاسکتے ہیں ۔ گھر یلو مرغی خانہ کے لئے ایسا انکو بیٹ نہایت فائدہ مند ہوتا ہے
دیہاتوں میں موسم بہار میں تمام گھروں میں چوزے شوق سے نکلوائے جاتے ہیں ۔اگر تھوڑی سی احتیاط کی جائے تو ان کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل ہدایات سے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
چوزے نکلوانے کا موسم
چوزے ایسے موسم میں نکلوائے جائیں جس میں نہ زیادہ گرمی ہو اور نہ زیادہ سردی ہوتا کہ چوزے موسم کی شدت سے محفوظ رہ سکیں اور انکی مناسب حفاظت اور دیکھ بھال ہو سکے۔
انڈوں کا انتخاب
انڈے ایسی مرغیوں سے حاصل کیے جائیں، جن کے غول میں مرغ موجود ہوں ۔ انڈے صاف ستھرے اور غلاظت سے پاک ہوں، ان پر کسی قسم کی گندگی موجود نہ ہو، درمیانہ سائز کے انڈوں سے زیادہ چوزے حاصل کیے جاسکتے ہیں انڈوں کا چھلکا شکستہ نہ ہو۔ ایک ہفتہ سے زیادہ مدت کے لئے ذخیرہ نہ کیا جائے ۔
چوزے نکلوانے کے حوالے سے مزید پڑھیں اس مضمون میں۔
جن انڈوں سے چوزے نکلوانا مقصود نا ہوں ، ان کو زیادہ درجہ حرارت والی جگہ میں ذخیرہ نہ کیا جائے ۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکے مرغی سے ان انڈوں کو علیحدہ کر لیا جائے تا کہ یہ خراب اور گند آلودہ نہ ہو جائیں۔ انڈوں کو جالی دار ٹوکری میں رکھا جائے تا کہ انڈوں کو ٹھنڈی اور تازہ ہوا ملتی رہے۔ اس طرح ان کے درجہ حرارت میں بھی کمی رہے گی۔ مناسب درجہ حرارت رکھنے کے لئے ریت پر پانی چھڑک کر انتظام کیا جا سکتا ہے۔
اگر انڈوں پر غلاظت وغیرہ ہو تو اسے ریگ مار کی مدد سے صاف کر لینا چاہیے تا کہ جراثیم کی وجہ سے چوزوں کی پیداوار متاثر نہ ہو باریک چھلکے والے انڈے چوزے نکلوانے کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔
چوزوں کو ابتداء میں گرمیوں میں تین ہفتے اور سردیوں میں چار ہفتے تک اضافی حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ قدرتی طریقہ پرورش میں یہ حرارت چوزے مرغی کے جسم سے چمٹ کر حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اگر چوزے انکوبیٹر سے نکالے گئے ہوں تو ان کے لئے اضافی حرارت کا بندو بست کرنا ضروری ہوتا ہے حرارت پہنچانے کے لئے اگر دیہات میں بجلی نہ ہو تو مٹی کے تیل کا چولہا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئلہ جلانے کی انگیٹھی بنائی جا سکتی ہے اور اس میں لکڑی اور کوئلہ جلایا جا سکتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئلہ کمرے سے باہر جلائیں تا کہ اس کی گیس خارج ہو جائے ۔ جب گیس نکل چکے تو پھر اُسے چوزوں کے پاس کونے میں رکھیں ۔ جلتے وقت کوئلوں سے شروع میں ایک زہریلی گیس نکلتی ہے جسے کاربن مونو آکسائیڈ گیس کہتے ہیں۔ اس سے چوزے حلاک ہو سکتے ہیں۔ لہذا کوئلے کے استعمال میں احتیاط کریں۔
ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ گھی کا خالی ڈبہ لے کر اس کے چاروں طرف سوراخ کر دیں ۔ پھر اس میں دہکتے ہوئے کوئلے ڈال دیں اور اُسے کمرے کے درمیان لٹکا دیں۔ ہوا اس سے ٹکرا کر گرم ہو جائے گی اور کمرہ گرم رہے گا۔ جہاں بائیوگیس میسر ہو وہاں اس کا ہیٹر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمرے میں سردی ہو تو چوزے اکٹھے ہو کر جمگھٹا بنا لیں گے۔ اور مناسب درجہ حرارت ہونے پر کمرے میں پھیلے ہوئے نظر آئیں گے۔ سردیوں میں کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں بے شک بند رکھیں لیکن یہ بھی خیال رہے کہ کمرے کے اندر ہوا کی ناقص آمد ورفت کے باعث امونیا گیس کی بونہ پیدا ہو جائے ۔ لہذا دن کے وقت جب دھوپ نکل آئے تو کھڑکیاں کھول دیں تا کہ تازہ ہوا اندر آ سکے جب بھی کمرے میں داخل ہوں تو چوزوں کی حرکات و سکنات پر غور کریں، دیکھیں کہ وہ خوراک کھا رہے ہیں یا نہیں ۔ سست تو نظر نہیں آرہے ، ان کی بیٹ کیسی ہے، جمگھٹا تو نہیں بنائے ہوئے ۔ تکلیف دہ آواز تو نہیں نکال رہے۔ اُنکی آنکھیں تو کہیں خراب نہیں، ٹانگوں میں کسی قسم کی کمزوری تو نہیں، بازو لٹکے ہوئے تو نہیں۔ پر کیسے ہیں ، ان باتوں پر نظر رکھنے سے صحت اور بیماری کا پتہ چلتا ہے۔ مصنوعی حرارت کے حصول میں وقت کے باعث عوام کی سہولت کے لئے ادارہ تحقیقات مرغبانی ، پنجاب ، راولپنڈی چھ سے آٹھ ہفتے کی عمر کے پولٹری یونٹ فروخت کر رہا ہے تا کہ دیہات کے لوگوں کو ان کی پرورش کیلئے اضافی اخراجات کا بندوبست نہ کرنا پڑے۔
گھروں میں رکھنے کیلئے بعض اوقات انڈے دینے والی مرغیاں خریدنی پڑتی ہیں یا پھر گھر میں رکھی ہوئی مرغیوں میں ایسی مرغیاں چھانٹنا پڑتی ہیں جو انڈے نہیں دے رہی ہوتیں۔
انڈے دینے والی مرغی کی چند عام علامات درج کی جاتی ہیں:
کلغی کا سرخ ملائم و نمدار ہونا ، چونچ و ٹانگیں سفید ہونا ، آنکھیں چمکدار سرخ ہونا، پیٹ نرم و بڑھا ہونا ، پٹرو کی ہڈیوں کا درمیانی فاصلہ دو سے تین انگشت ہونا اور پیٹ و پٹرو کی ہڈیوں کا درمیانی فاصلہ چار انگشت ہو۔
متذکرہ بالا مرغی میں اگر یہ خصوصیات نہ ہوں تو مرغی انڈے نہیں دے رہی ہوگی ۔ ایسی مرغیاں رکھنے سے خواہ مخواہ خوراک کا نقصان ہوتا ہے لہذا ان کو ذبح کر کے استعمال کر لینا چاہیے یا فروخت کر دینا چاہیے۔
مرغبانی کے فروغ کے لیے اعلیٰ کارکردگی کے حامل فیومی، آر آئی آر، بلیک آسٹرالورپ اور کراس نسل کے پرندے رعایتی قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں، جن کی سپلائی میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- یہ چوزے دیہات کے ماحول اور درجہ حرارت میں آسانی سے نشو و نما حاصل کر سکتے ہیں۔
- یہ چوزے آٹھ سے بارہ ہفتے کی عمر کے سپلائی کئے جاتے ہیں تا کہ ان کو ابتدائی نگہداشت اور حرارت کی سہولتوں کی ضرورت نہ رہے اور عام ماحول میں خوب بڑھ سکیں ۔ ندر اور سکیں۔
- چوزوں کو جس قدر مدافعتی ٹیکہ جات کی ضرورت ہوتی ہے، ان کو پورا کیا جاتا ہے۔
- چوزوں کو ایک نر اور پانچ مادہ کا یونٹ بنا کر فراہم کیا جاتا ہے تا کہ ان کی مزید نسل کشی ہو سکے اور ان کے باہمی اختلاط سے دیہی مرغیوں کی نئی پود میں پیداواری صلاحیت پیدا ہو سکے۔
مرغیوں کی نشوونما اور پیداوار کا انحصار براہِ راست خوراک پر ہوتا ہے، جبکہ مرغی پالنے میں سب سے زیادہ خرچ بھی خوراک ہی پر آتا ہے۔ دیہی علاقوں میں عموماً غیر متوازن اور ناکافی خوراک دی جاتی ہے، جس کے باعث مرغیوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے، بلوغت اور انڈے دینے کا عمل تاخیر کا شکار ہوتا ہے، اور وہ جلد کمزور ہو کر بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں حتیٰ کہ اعلیٰ پیداواری نسلیں بھی اپنی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں، اس لیے بہتر انڈہ اور گوشت کی پیداوار کے لیے مرغیوں کی خوراک پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
اس مقصد کے لئے اگر صبح کے وقت مرغیوں کو باہر نکالنے سے قبل اجناس از قسم گندم یا مکئی کی 30-35 گرام مقدار فی مرغی کے حساب سے دے دی جائے اور شام کو جب مرغیاں دانہ چک کر واپس آئیں تو اتنی ہی مقدار اجناس کی پھر دے دی جائے تو ان کی غذائی ضروریات کافی حد تک پوری ہو جائیں گی ۔ کھیتوں میں گھاس اور سبزی سے انہیں حیا تین میسر آجائیں گے ۔
کیڑے مکوڑوں کے کھانے سے حیواناتی لحمیات میسر آ جائیں گے ۔ اضافی اجناس سے توانائی کی ضروریات پوری ہو جائیں گی۔ اور اس طرح دیہات میں متوازن خوراک کے فقدان کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جاتا ہے۔
متذكره بالاہدايات کے علاوہء ذيل میں دیہی سظح پر مرغيوں کے لیے خوراك تياركرنےکا طریقہ درج ہے-
(الف) سب سے پہلےپروٹین کاآميزه كهريلوسطح پر تياركر ليں مثلاً
متذکرہ بالا ہدایات کے علاوہ ذیل میں دیہی سطح پر مرغیوں کے لئے خوراک تیار کرنے کا طریقہ درج کیا جاتا ہے۔
(الف) سب سے پہلے پروٹین کا آمیزہ گھریلوسطح پر تیار کر لیں مثلاً
| نمبر شمار | اجزائے آمیزہ | مقدار فی 100 کلوگرام | کیفیت |
|---|---|---|---|
| 1 | کھل ازقسم سرسوں،السی،تل،توریہ،کینولہ،مونگ پھلی،بنولہ،سورج مکھی وغیرہ | 60 کلوگرام | آمیزہ میں کم از کم 2 یا 2 سے زائد کھلیں استعمال کریں اور بنولہ پھل کو 10 کلو سے زائد استعمال نہ کریں۔ |
| 2 | خشک چاره، برسیم ، لوسرن ، جنتر مونگ پھلی وغیرہ | 40 کلوگرام |
مندرجہ بالا آمیزہ سے متوازن خوراک تیار کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے۔
| نمبر شمار | اجزائے خوراک | چوزوں کی خوراک | پٹھیوں کی خوراک | انڈے دینے والی مرغیوں کی خوراک |
|---|---|---|---|---|
| 1 | اجناس ازقسم مکئی، چاول، ٹوٹا،نکو،خشک ،روٹی کا دلیہ،جوار وغیرہ۔ | 45 کلو | 50 کلو | 55 کلو |
| 2 | مرکب | 50 کلو | 45 کلو | 35 کلو |
| 3 | ماربل پوڈر / بچھا ہوا چونا | 1 کلو | 1 کلو | 6 کلو |
| 4 | ڈی سی پی / پسی ہوئی ہڈی فاسفیٹ کھاد | 1 کلو | 1 کلو | 1 کلو |
| 5 | سبز چارہ | 3 کلو | 3 کلو | 3 کلو |
| ٹوٹل | - | 100 کلو | 100 کلو | 100 کلو |
(ب) مندرجہ ذیل نسخہ کے مطابق 10 کلوگرام خوراک انڈے دینے والی مرغیوں کیلئے گھر یلو سطح پر تیار کی جاسکتی ہے۔
| نمبر شمار | اجزاء | مقدار |
|---|---|---|
| 1 | خشک روٹیاں | 6 کلوگرام |
| 2 | کھل بنولہ | 1 کلوگرام |
| 3 | کھل توریہ | 1 کلوگرام |
| 4 | کراہ دال مسور،مونگ،چناوغیرہ | آدھا کلوگرام |
| 5 | چوکر گندم | آدھا کلوگرام |
| 6 | بجھا ہوا چونا | ایک پاؤ (چار سو گرام) |
| 7 | پسی ہوئی ہڈی | ایک پاؤ (چار سو گرام) |
| 8 | سبز چارہ (کٹا ہوا) | آدھا کلوگرام |
مندرجہ بالا اجزاء کو ایک پتیلے کے اندر ڈال کر مناسب پانی ڈال کر ایک گھنٹہ بھگو کر رکھیں ۔ پھر آگ پر 15 سے 20 منٹ کے لئے پکائیں اور خوب ہلائیں ۔ اس دوران آدھی چھٹا نک خوردنی نمک کا بھی اضافہ کر دیں۔ جب نرم پیسٹ تیار ہو جائے تو اتار کر ٹھنڈا کر کے مٹی کی کنالیوں کے اندر خوراک ڈال کر دیہی مرغیوں کو کھلائیں ۔ یہ خوراک تقریبا 100 مرغیوں کی یومیہ ضرورت پوری کر سکتی ہے۔
اکثر دیہات میں دیکھا گیا ہے کہ گھروں میں مرغیوں کی پیداواری عمر کا خیال نہیں رکھا جا تا ۔ مرغی کی عمر جب تقریبا 1.5 سال ہو جائے تو ذبح کر کے کھا لینا چاہیے یا فروخت کر دینا چاہیے۔ زیادہ عمر کی مرغیاں انڈے کم دیتی ہیں لیکن خوراک زیادہ کھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مرغیاں مختلف امراض کی جراثیم بردار ہوتی ہیں اور نئے چوزوں کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔
مرغیوں کو مرض رانی کھیت سے بچانا
دیہات میں معمولی موسی تبدیلی سے رانی کھیت کا مرض پھوٹ سکتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے بے شمارمرغیوں کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔ جس سے مرغبان حضرات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اس پر قابو پانے سے مرغیوں کو ہلاکت سے بچایا جاسکتا ہے۔
مردہ پرندوں کو ٹھکانے لگانا
دیہات میں دیکھنے میں آیا ہے کہ جو پرندے مرض رانی کھیت سے مر جاتے ہیں انہیں باہر گندگی کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ جسے کتے اور بلیاں اُٹھا کر دوسری جگہ لے جاتے ہیں اس طرح بیماری پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گاؤں میں کسی ایک گھر میں رانی کھیت مرض کا حملہ پورے دیہات میں وباء کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ جو مرغیاں اس مرض سے مرجائیں انہیں گہرا گڑھا کھود کر دبا دینا چاہیے۔
حفاظتی ٹیکے اور اس کا پروگرام
اس مرض سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکے لگوانے پرسختی سے عمل کیا جائے ۔ان ٹیکوں کا پروگرام مندرجہ ذیل ہے۔
پہلا ٹیکہ
یہ ٹیکہ 5 سے 7 دن کی عمر تک لگوانا چاہیئے ۔ ٹیکہ 100 خوراک کے ایک ایمپیول میں 5 ملی لٹر (سی سی) کشید شدہ ٹھنڈا پانی ڈال کر تیار کیا جاسکتا ہے جس کو چوزے کی ایک آنکھ میں ایک قطرہ ڈال کر استعمال کیا جاتا ہے۔
دوسرا ٹیکہ
یہ ٹیکہ 4-3 ہفتے کی عمر میں لگایا جائے ۔ ٹیکہ 100 خوراک کے ایمپیول میں 50 ملی لٹر (سی سی ) کشید شده ٹھنڈا پانی ملا کر خوب حل کر لیا جائے پھر اس محلول کا نصف ملی لٹر (سی سی ) فی پرنده زیر جلد ٹیکہ لگایا جائے۔
تیسرا ٹیکہ
یہ ٹیکہ 3 ماہ کی عمر میں لگایا جائے۔ ٹیکہ 100 خوراک کے ایمپیول میں 100 ملی لٹر (سی سی) کشید شده ٹھنڈا پانی ملا کر خوب حل کر لیا جائے پھر اس محلول کا 1 ملی لٹر (سی سی) فی پرندہ اندرون گوشت ٹیکہ لگا دیں۔
چوتھا ٹیکہ
یہ ٹیکہ 5 ماہ کی عمر میں لگایا جاتا ہے۔ ٹیکہ کی تیاری تیسرے ٹیکے جیسی کریں ۔ ایک ملی لٹر (سی سی ) فی مرغی زیر جلد یا اندرون گوشت ٹیکہ لگائیں اور پھر ہر 2 ماہ بعد دہرایا جائے ۔ پروگرام پر اگر سختی سے عمل کیا جائے تو رانی کھیت مرض کا خاطر خواہ تدارک ہو جاتا ہے
متعدی کھانسی ، زکام
اس مرض سے چوزے اور مرغیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ گندے اور کم ہوا دار ڈربوں میں رکھے ہوئے پرندے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ اس لئے کوشش کرنی چاہیئے کہ ڈربے صاف ستھرے اور زیادہ ہوادار ہوں تا کہ گندی ہوا کا نکاس ہو۔ علاج کے لئے ٹیرامائی سین 50 ملی گرام فی مرغی گوشت میں ٹیکہ نہایت موثر ہے۔
طفیلی کرم
یہ کئی قسم کے ہوتے ہیں چھوٹی آنت اور جسم کے دوسرے حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ متاثرہ مرغی سے صحت مند مرغیوں اور چوزوں میں منتقل ہو کر ان کی صحت پر بُرا اثر ڈالتے ہیں۔ کرموں سے شرح اموات تو زیادہ نہیں ہوتی البتہ پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ مرغیاں رکھنے والی جگہ نمی سے پاک ہو اور کرم کش ادویات کا استعمال با قاعدگی سے کریں۔ بازار میں مختلف کرم کش ادویات دستیاب ہیں۔ گھروں میں کمیلا کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہے۔
