آج کے دور میں جہاں انسانی صحت کو چیلنج درپیش ہیں وہیں پر مرغبانی کو بھی کئی طرح کی وائرل اور بیکٹریل جراثیمی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم ان بیماریوں کی ابتدائی روک تھام موثر ویکسین پروگرام کے ذریعہ ممکن ہے۔ مرغبانی میں ویکسین دینے کا بنیادی دی مقصد و بائی امراض کے حملہ سے بچانا ۔
اس مضمون میں گھر یلو سطح پر پالی جانے والی لیئر مرغیاں (گولڈن یا مصری ) اور برائلر فارمنگ کیلئے بنیادی طور پر کی جانے والی ویکسین کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ ویکسین پروگرام، مرغبانی کی قسم اور علاقے میں موجود بیماریوں کے مطابق ترتیب دیے جاتے ہے۔ مرغبانی کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
- برائلر فارمنگ ( برائے گوشت )
- برائلر بریڈر (ایک دن کے برامگر چوزے کے حصول کیلئے )
- لئیر فارمنگ ( انڈے حاصل کرنے کیلئے )
- لئیر بریڈر (ایک دن کے لئیر چوزے حاصل کرنے کیلئے )
چونکہ کمرشل سطح پر کی جانے والی فارمنگ ایک الگ نوعیت کی حامل ہوتی ہے اسکے لئے مرغیوں کی مخصوص نسلیں استعمال کی جاتی ہیں۔ مثلاً انڈے دینے والی سفید مرغی (وائٹ لگ ہارن ) ، ان مرغیوں پر گولڈن مصری مرغیوں کی نسبت جراثیمی بیماریوں کے حملہ کا زیادہ امکان ہوتا ہے اور یہ بیماریاں چند ایک کے علاوہ گولڈن مصری اور برائلر کے امراض سے مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ویکسین پروگرام ہر مرغبانی کی قسم کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ گولڈن مصری نسل کی لئیر مرغیاں 6 ماہ کی عمر میں انڈے دینے کے قابل ہو جاتی ہیں اور زیادہ سخت جان تصور کی جاتی ہیں اسلئے ابتدائی ایام میں کچھ حفاظتی ویکسین بالترتیب دی جاتی ہے پھر 3 ماہ سے زائد عمر میں ہر ڈھائی تا تین ماہ کے وقفہ سے رانی کھیت اور متعدی سانس کی بیماری ( آئی بی) کے خلاف ویکسین دی جاتی ہے ویکسین کا مکمل شیڈول مضمون کے آخر میں درج کیا گیا ہے جسکے مطابق فارمر حضرات اپنی مرغیوں کو باقاعدگی سے ویکسین دے کر بہتر منافع کما سکتے ہیں ۔
ویکسین مختلف اقسام کی ہوتی ہیں
بنیادی طور پر ویکسین اپنی اجزائے ترکیبی کی بنیاد پر تین اقسام میں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔
- زنده جرثومہ ( وائرس ، بیکٹریا) سے تیار شدہ ویکسین ۔
- -مردہ جرثومہ سے تیار کردہ ویکسین
- جرثومہ کے جینیاتی مادہ کے اختلاط سے تیار کردہ ویکسین ۔
ویکسین اپنی قسم کے لحاظ سے جو بھی ہو، مگر وہ مندرجہ ذیل خواص کی حامل ہونی چاہیئے ۔
- ویکسین کم لاگت والی ہو۔
- جسم میں داخل ہو کر جلد قوت مدافعت فراہم کرے۔
- مضر اثرات سے پاک ہو۔
- دیر پا قوت مدافعت فراہم کرے۔
- درجه حرارت سے اسکی حساسیت کم سے کم ہو۔
- قدرتی طور پر پائی جانے والی قوت مدافعت جو کہ وراثتی طور پر بچوں میں منتقل ہوتی ہو، اس پر اثر انداز نہ ہو۔
ویکسین چونکہ دھوپ اور گرمی میں خراب ہو جاتی ہے یعنی اسکی افادیت نہیں رہتی لہذا ویکسین فروخت کرنے والے سٹور سے لیکر گھر اور فارم تک اسکو ٹھنڈک فراہم کرنا لازم ہے عام فریج میں 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ پر اسکو سٹور کریں اور سفری حالت میں کولر میں برف ڈال کر اس میں ویکسین کو رکھا جائے یا فارم تک پہنچایا یا جائے ۔ تا ہم اس بات کا خیال بھی ضرور رکھا جائے کہ ویکسین کو منجمد ہونے سے بچایا جائے۔ کیونکہ بعض ویکسین محلول کی حالت میں ہوتی ہیں تو ایسی ویکسین کو نقطہ انجماد پر ذخیرہ نہ کریں۔
مرغیوں میں ویکسین دینے کے مختلف طریقے :
گھریلو سطح پر ہیچری مشینوں کے ذریعہ نکلنے والے چوزوں کیلئے دستیاب سہولیات کے مطابق ویکسین کے الگ الگ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ ہیچری مشین سے نکلنے والے چوزوں کو اُسی وقت بعض ویکسین دے دی جاتی ہیں مثلاً برائلر چوزوں کو رانی کھیت ، متعدی سانس کی بیماری (آئی بی) وغیرہ بذریعہ اسپرے کر دی جاتی ہیں ۔ گمبو رو بذریعہ جلد ٹیکہ لگایاجاتا ہے اسی طرح لئیر مرغیوں اور بریڈرز کو میریکس (Mareks disease) کی ویکسین بذریعہ زیر جلد ٹیکہ فراہم کی جاتی ہے۔
آنکھ میں قطرہ :
رانی کھیت متعدی سانس کی بیماری ( آئی ۔ بی ) گمبو رو وغیرہ بذریعہ آنکھ میں قطرہ دی جاتی ہیں۔ ایسی ویکسین کیلئے ایک خاص قسم کا ڈراپر (Dropper) استعمال کیا جاتا ہے جسکی مدد سے چوزوں کی آنکھ میں ایک قطرہ ویکسین ڈالی جاتی ہے ایسی ویکسین کے ڈراپر کو دورانِ ویکسین ٹھنڈا رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے بصورت دیگر ، ہاتھ اور انگلیوں کے پودوں کا درجہ حرارت ویکسین کی افادیت متاثر کر سکتا ہے۔ ڈرا پر کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے ٹھنڈے پانی میں گیلی کی ہوئی کپڑے کی پٹیاں ڈراپر کے گرد لپیٹ دینے سے ویکسین کے عمل کو کافی حد تک عمدہ بنایا جا سکتا ہے۔
پانی میں پلائی جانے والی ویکسین :
چوزوں کی تعداد جب بہت زیادہ ہو۔ یا پھر 60 دنوں سے زائد عمر کے ہو تو ویکسین پلانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ویکسین ۔ اپنے پاس موجود ہو۔ پھر مرغیوں کو یا چوزوں کو پیاسا کر لیا جائے ۔ موسمی حالات کے پیش نظر 2 تا 3 گھنٹہ کیلئے پرندوں کو پیاسا کر لیں ۔ ویکسین پلانے کیلئے استعمال ہونے والا پانی صاف و شفاف ہونا چاہیئے تا ہم کلورین اس میں شامل نہ ہو۔ پانی کی مطلوبہ مقدار کا حساب کر لیا جائے ۔ گرمی میں اوسطاً 30 ملی لیٹر پانی جس میں ویکسین حل شدہ ہوفی پرندہ پلایا جائے ۔ پانی میں ویکسین حل کرنے سے قبل خشک دودھ استعمال کر لیں 100 پرندوں کیلئے 100 گرام فی 3 لیٹر پانی میں آدھا گھنٹہ پہلے، یعنی ویکسین کی شیشی کھولنے سے قبل ڈال کر حل کر لیں تا کہ پانی میں موجود
کیمیائی اجزاء ویکسین کی افادیت پر اثر انداز نہ ہوں ۔ ممکن ہو تو پانی میں ویکسین پلانے کیلئے صبح کا وقت منتخب کیا جائے ۔ ویکسین پلانے سے قبل پرندوں کو خوراک بھی کھلا دی جائے تو پھر تمام پرندے پانی کی مناسب مقدار جلد از جلد پی جاتے ہیں۔ ویکسین پلانے کیلئے پلاسٹک برتن انتہائی موزوں ہوتا ہے۔ ویکسین کیلئے استعمال ہونے والا پانی موسم کے اعتبار سے مناسب ٹھنڈک کا حامل ہونا چاہیئے ۔ اسکے لئے گرمی کے موسم میں اتنا ٹھنڈا پانی استعمال کیا جائے جتنا ہم خود پی سکیں ۔ تاہم حسب ضرورت صاف برف کی مناسب مقدار پانی میں استعمال کی جاسکتی ہے ویکسین پلانے کیلئے پلاسٹک کے برتن مثلاً لوٹا یا پھر اسی طرح کا کوئی اور برتن استعمال میں لائیں جسکی مدد سے ویکسین ملا پانی، پانی کے برتن ( ڈرنکرز ) میں ڈالتے جائیں اور فارم میں چکر لگاتے جائیں تا کہ تمام چوزوں کو حرکت میں لاکر پانی کے برتنوں تک لایا جائے ۔ اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ ویکسین والا پانی جتنا جلدی ہو سکے، پرندوں کو پلا دیں۔
زیر جلد ٹیکہ لگانا:
پرندوں کو ویکسین دینے کا یہ تیسرا طریقہ ہے عمومی طور پر گردن میں یا پروں کے نیچے والی جلد میں ٹیکہ لگایا جاتا ہے اس طریقہ پر دی جانے والی ویکسین کی مقدار 0.2 تا 0.5 ملی لیٹرفی پرندہ ہوتی ہے زیر جلد ویکسین کیلئے آٹومیٹیک سرنج کا استعمال بڑے پولٹری فارم میں کیا جاتا میں ہے جبکہ چھوٹے پیمانہ پر عام سرنج بھی استعمال کی جاسکتی ہے تاہم اس سرنج کیسا تھ 18 گیج کی سوئی جسکی لمبائی 1.4 انچ ہو استعمال کی جائے۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ویکسین کیلئے نئی ، جراثیم سے پاک سوئی استعمال کریں۔
ویکسین کا عمل ختم کر لینے کے بعد ویکسین کی خالی شیشی یا بوتل کو مناسب جگہ پر لیجا کر جلا دیا جائے بلکہ مناسب طریقہ پر مٹی کے گڑھا میں جلا کر ضائع کر دی جائے ۔ دورانِ ویکسین دستانے ، ماسک وغیرہ کا استعمال مناسب ہوتا ہے۔ ویکسین ، پرندوں کی صحت ، انتظامی معاملات، بیماریوں کا سدِ باب و دیگر اہم امور کو مد نظر رکھ کر کامیاب مرغبانی کی جاسکتی ہے۔ اسی سلسلہ میں تکنیکی معاونت کیلئے مرکز برائے تشخیص و تحقیق امراض حیوانات ہنگو روڈ کو ہاٹ اپنے ارد گرد کے مرغبان حضرات کی معاونت کیلئے دن رات کوشاں ہے ۔ ادارہ ھذا میں اپنی تیار کردہ رانی کھیت کی ویکسین بھی انتہائی کم قیمت اور مناسب پیکنگ میں فارمر حضرات کیلئے دستیاب ہے۔
گھریلو سطح پر پالی جانے والی اور چھوٹے تجارتی پیمانہ پر پالی جانے والی لیئر (گولڈن مصری) مرغیوں کیلئے ویکسین شیڈول
| نام ویکسین | پرندہ کی عمر، دن اور ہفتہ | طریقہ ویکسین |
|---|---|---|
| رانی کھیت (NDV) + آئی۔ بی۔وی | 5 دن | آنکھ میں قطرہ |
| گمبورو (IBD) | 10-11 دن | آئی۔ بی۔ وی آنکھ میں قطرہ |
| گمبورو | 15 دن | آنکھ میں قطرہ |
| رانی کھیت | 20-22 دن | آنکھ میں قطرہ یا پینے کے پانی میں |
| آئی۔بی۔وی | 25 دن عمر اور پھر ہر تین ماہ بعد | پانی میں پلائیں یا زیر جلد ٹیکہ لگائیں |
| فاؤں پاکس (مرغیوں کی چیچک) | 6-8 ہفتہ | ونگ وب ایک پر میں چھید |
