تعارف:

چھوٹے مرغی خانوں میں انڈوں سے چوزے کڑک مرغی کے ذریعے حاصل کئے جاتے ہیں۔ تجارتی پیمانے پر چلائے جانے والے مرغی خانوں میں چوزے چھوٹے سائز کے انکیوبیٹر ( چوزے نکلوانے والی مشین ) کے ذریعے بھی نکلوائے جاسکتے ہیں۔ اسکا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کسی وقت اور کتنی تعداد میں چوزے نکلوانا چاہتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو کہ بہت چوزوں کے ساتھ اچھی تجارت کی جاسکتی ہے تو اس صورت میں تمام چوزے ایک ہی وقت میں حاصل کر لینے چاہیئے ۔ یہ خیال درست نہیں ہے کہ کڑک مرغیوں کے ذریعے بہت سے چوزے حاصل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ تمام مرغیاں ایک ہی وقت میں کڑک نہیں ہوتیں۔ لہذا ایک چھوٹے سائز کا انکیو بیٹر خریدنا بہتر ہوگا۔

کڑک مرغیوں کے ذریعے چوزے حاصل کرنا

ایک کڑک مرغی ایک وقت میں آٹھ سے بارہ انڈے سینے کے قابل ہوتی ہے۔ اگر چوزوں کے پیدا ہونے کی شرح 75 فیصد ہو تو اس طرح ہر مرغی ان انڈوں سے چھ سے نو چوزے پیدا کر سکے گی ۔ بہر حال چوزوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اپنے تجربہ اور چوزوں کی اموات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کو چوزے حاصل کرنے کیلئے کتنی کڑک مرغیوں کی ضرورت ہوگی ۔

چوزے حاصل کرنے کیلئے انڈے منتخب کرنے کی کسوٹی درج ذیل ہے۔

  1. منتخب شدہ انڈے لازم زرخیز ہونے چاہیئے ۔ اگر مرغیوں میں مرغا بھی موجود ہو تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر مرغیوں کے ساتھ مرغ نہیں رکھے ہوئے تو کم از کم دو ہفتے پہلے اوسطاً ہر دس مرغیوں کے ساتھ ایک مرغ لازمی رکھیں ۔
  2. ہمیشہ درمیانے (نہ چھوٹے نہ بڑے ) بے نقصان صاف ستھرے انڈوں کا انتخاب کریں۔ اگر آپ زیادہ انڈے دینے والی مرغی کے درمیانی سائز کے انڈے چنیں تو بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔
  3. انڈوں کو ڈربوں سے مسلسل اٹھایا جائے مثلاً دن میں تین بار پھر انڈے جتنی جلدی ہو سکے ٹھنڈا ہونے دیا جائے ۔
  4. اگر ضروری ہو تو انڈوں کو چھ دنوں کے لئے ذخیرہ بھی کیا جاتا ہے لیکن ایک ہفتے سے زیادہ نہیں۔
  5. اگر بلفرض محال انڈوں کو ایک ہفتہ سے زیادہ ذخیرہ کرنا پڑ جائے تو ان کو 15 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت سے نیچے درجہ حرارت پر رکھنا پڑے گا۔
  6. اگر درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا ممکن نہ ہو تو پھر ذخیرہ کرنے کا وقت کم کر دیا جائے ۔
  7. انڈوں کو 20 سینٹی گریڈ پر تین دن کے لئے رکھا جا سکتا ہے۔
  8. ہمیشہ انڈوں کے خول پر ان کو اٹھانے کی تاریخ پنسل سے لکھیں۔ اس سے آپکو پتہ چلے گا کہ انڈوں کو کب تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
  9. اگر مرغی دو دن تک کڑک رہے تو اس کو انڈے سینے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  10. کڑک مرغیاں صحت مند اور جسامت میں بڑی ہونی چاہیئے ۔
  11. ایک کڑک مرغی کی شناخت علامات سے کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ایک مخصوص کڑک پن کی آواز ۔ چھری دار کلغی ۔ ڈربہ نہ چھوڑنے کی خواہش ۔ کڑک مرغی کے ڈربے میں بہت سے انڈوں کی موجودگی ۔
  12. کڑک مرغی کو انڈوں پر بٹھانے سے پہلے بہتر ہے کہ مرغیوں کو پسؤں اور جوؤں سے بچانے کے لئے کیڑے مار دوائی کا استعمال کر لیا جائے ۔ اگر پسو اور جوئیں پھر بھی موجود ہوں تو کیڑے مار دواؤں کا استعمال دس دن کے بعد دوبارہ کیا جائے ۔
  13. شروع شروع میں مرغی کا کڑک پن اس وقت تک بے قاعدہ ہو گا جب تک وہ 6 سے 12 انڈوں پر بیٹھ نہ جائے ۔اس دوران اچھا یہ ہوگا کہ مرغی کو منتخب شدہ انڈوں پر نہ بیٹھنے دیا جائے ۔
  14. جب مرغی با قاعدہ کڑک ہے ہو جائے تو ان انڈوں کو ہٹا کر منتخب کردہ انڈے رکھ دیئے جائیں۔
  15. بڑی جسامت کی مرغیاں 14 انڈے سی سکتی ہیں مگر بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک چھوٹی دیسی مرغی کے نیچے 8 انڈے رکھ دیئے جائیں۔
  16. انڈے سینے کے لئے صاف اور طفیلی کیڑوں سے پاک کھانچا استعمال کرنا چاہیئے ۔ کھانچے کی چوڑائی (35) ضرب (35) سینٹی میٹر اور 40 سینٹی میٹر اونچائی ہونی چاہیئے ۔
  17. انڈے سینے کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے کھانچے کو اندھیری اور ٹھنڈی جگہ پر رکھیں یا کھانچے کو کسی چیز سے جزوی طور پر ڈھک دیں۔
  18. انڈے دینے والی جگہ پر دوسری مرغیوں کا گزر نہیں ہونا چاہیئے ۔ نیز کتوں ، چوہوں اور سانپ وغیرہ سے محفوظ ہو۔
  19. اچھی خوراک اور صاف پانی کڑک مرغی کے نزدیک موجود ہونا چاہیئے ۔

مصنوعی طریقے سے چوزے حاصل کرنا:

ایک چھوٹے انکیوبیٹر کے ذریعے کسی وقت بھی زیادہ انڈوں سے چوزے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ مصنوعی طریقے سے چوزے حاصل کرنے کیلئے اہم ضروریات حسب ذیل ہیں:

  • آپ ضرورت کے مطابق درجہ حرارت برقرار رکھ سکتے ہیں جو 38 سینٹی گریڈ کے قریب ہوتا ہے۔
  • حرارت کیلئے سادہ ماخذ حرارت کافی ہوگا۔
  • درجہ حرارت کو جتنا بھی ممکن ہو ایک ہی سطح پر رکھنا چاہیئے ۔
  • انکیو بیٹر کے اندر نمی زیادہ ہونی چاہیئے ۔ یعنی تقریباً 55 سے 60 فیصد ۔
  • چوزے نکلنے کے آخری دنوں میں یعنی 18 دن بعد نمی میں اضافہ کرنا ضروری ہے یعنی تقریباً 75 فیصد تک
  • اس مقصد کیلئے انکیوبیٹر میں پانی سے بھرے ہوں، پیالے رکھے جاسکتے ہیں۔
  • انکیوبیٹر میں تازہ ہوا کی گردش کا انتظام باقاعدگی سے ہونا چاہیئے ۔
  • انکیوبیٹر میں انڈوں کو دن میں سات بار با قاعدگی سے الٹانا چاہیئے
  • انڈے کو الٹانے کیلئے لمبائی کے محور کے گرد گھمانا چاہیئے ۔

مناسب احتیاط اور کوشش کر کے مصنوعی طریقے سے بھی ویسے ہی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں جیسا کہ ایک کڑک مرغی سے مصنوعی طریقے سے چوزے حاصل کرنے کی شرح فیصد مرغی کے ذریعے نکالنے والے چوزوں کے نسبت کم تصور کی جائے یعنی 75-80 فیصد کی بجائے 65-70 فیصد ۔

چوزوں کا پالنا:

مرغی کے نیچے یا انکیوبیٹر میں رکھے ہوئے انڈوں سے 21 دن بعد چوزے نکل آتے ہیں۔ مرغی کے ذریعے نکالے گئے چوزوں کی دیکھ بھال مرغی خود کرتی ہے۔ لہذا چوزوں کو پہلے چند ہفتوں کے دوران مرغی کے ساتھ ہی علیحدہ کھانچے میں رکھا جائے۔

سب سے پہلی چیز جس کی چوزوں کو ضرورت پڑے گی وہ تازہ اور صاف پانی ہے۔ لہذا ان کیلئے پانی مہیا کر نالازمی ہے۔ چوزوں کو پیدائش کے دوسرے دن خوراک کی ضرورت پڑے گی ۔ اگر بازار سے تیار خوراک دستیاب نہ ہو تو آپ خود مندرجہ ذیل اشیاء کو ملا کر ایک اچھی خوراک تیار کر سکتے ہیں:

  • شروع کے چند دنوں میں دلی ہوئی جوار یا باجرہ کا استعمال کریں
  • ان کے ساتھ ان اشیاء کا بھی استعمال کریں جو لحمیات کی کمی کو پورا کریں مثلاً ابلے ہوئے انڈے
  • اس کے علاوہ گھر کی بچی کچی اور ذبح شدہ جانور کے فالتو اور نا قابل استعمال حصے بھی شامل کئے جاسکتے ہیں۔
  • سبزے جیسے گھاس اور پتے وغیرہ بھی کھلائیں جائیں
  • حیاتین جو مرغیوں کی ضرورت ہیں سبزی کھا کر پوری ہو جائے گی۔

اگر چوزے مصنوعی طریقے سے نکالے گئے ہیں تو آپ کو شروع ہی سے ان کی نگہداشت خود کرنی پڑے گی۔ چوزوں کو ایسی صاف ستھری جگہ پر رکھا جائے جس کا درجہ حرارت مطلوبہ ضرورت کے مطابق ہو۔ شروع کے ہفتوں میں چوزوں کا مطلوبہ درجہ حرارت مندرجہ ذیل ہوگا:

عمر ہفتوں میں مطلوبہ درجہ حرارت (سینٹی گریڈ میں)
0-1 32-35
2-1 29-32

دو ہفتوں کے بعد چوزوں کو باہر گھومنے پھرنے کیلئے چھوڑا جا سکتا ہے۔

عمر ہفتوں میں مطلوبہ درجہ حرارت (سینٹی گریڈ میں)
3-2 26-29
4-3 23-26
5-4 20-23

چوزوں کو عموماً چار ہفتوں کی عمر کے بعد زائد حرارت مہیا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی (سوائے سردیوں میں رات کو ) ۔

کسی حصے کو گرم رکھنے کیلئے تیل کا لیمپ یا ایک کم واٹ کا بلب استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حرارت پہنچانے کے ان ذرائع کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔

  • چوزوں کو علیحدہ کھانچے میں رکھ کر ارد گرد جالی لگادی جاتی ہے تا کہ چوزے زیادہ گرمی سے بچے رہیں ۔
  • چوزوں کو چوہوں ، بلیوں اور کتوں وغیرہ سے بچانے کیلئے کھانچے کے اوپر سے جالی لگا دی جاتی ہے۔

کھانچے میں مطلوبہ درجہ حرارت کا اندازہ چوزوں کا رنگ ڈھنگ دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے:

  • اگر سردی زیادہ ہو تو چوزے سمٹ کر ایک دوسرے کی آڑ لینے کی کوشش کریں گے۔
  • اگر گرمی زیادہ ہو تو چوزے گرمی کے ماخذ سے دور دور رہیں گے۔
  • اور اگر درجہ حرارت ضرورت کے مطابق ہو تو چوزے ساری جگہ پر گھوم پھریں گے۔

چوزوں کو رکھنے والے کھانچے کا پیدا تاروں کا بنا ہوا ہونا چاہیئے ۔ ان تاروں کو پہلے ہفتے کسی اخبار سے ڈھک دینا چاہیئے اور روزانہ اخبار کو بدل دینا چاہیئے ۔ جب چوزے جالی پر چلنے پھرنے کے قابل ہو جائیں تو پھر اخبار رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ اس عمل سے چونکہ چوزوں کے پاؤں گندگی میں نہیں لتھڑیں گے لہذا جراثیم اور طفیلی کرموں کی وجہ سے چھوت لگنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ شروع کے چند دنوں میں چوزوں کیلئے اچھی خاصی روشنی کا انتظام کریں تا کہ وہ خوراک اور پانی آسانی سے تلاش کر سکیں اس کے بعد زیادہ روشنی کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی ۔ دراصل زیادہ روشنی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ چوزوں میں ایک دوسرے کو نوچنے کی تحریک پیدا کرتی ہے۔

اگر جنسی استعداد اور حالات موافق ہوں تو پہلی مرغی 5-6 مہینے کی عمر میں انڈے دینا شروع کر دیتی ہے۔ مرغیوں کی بڑھوتری کے دوران مصنوعی طریقے سے دن کے اوقات بڑھا کر مرغیوں کو وقت سے پہلے انڈے دینے کے قابل بنایا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرنا درست نہیں۔ لہذا ایسے وقت کے دوران زائد روشنی سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔

اگر پھر بھی آپ چاہتے ہیں کہ آپکی مرغیاں زیادہ خوراک کھا کر فربہ ہو جائیں ۔ تو ان کو زائد روشنی اس طریقے سے مہیا کریں کہ مرغیوں کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ دن کی روشنی کے اوقات ایک جیسے ہوں ۔

اگر آپکے پاس مصنوعی روشنی کا بندوبست نہیں ہے تو چوزوں کو اس موسم میں حاصل کریں جب دن چھوٹے ہوں ۔ اس طرح جوں جوں دن لمبے ہوتے جائیں گے مرغیاں انڈے دینے شروع کر دیں گی۔ یہ انڈوں کی پیداوار میں تیزی پیدا کرے گی۔