مویشی پالنا (لائیوسٹاک) پاکستانی زراعت کا ایک اہم شعبہ ہے جس سے خاص طور پر چھوٹے کسانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ جدید فارمنگ میں جانوروں کی افزائش اور خوراک کا علم (فیڈ سائنس) بہت اہم ہے، کیونکہ متوازن اور اچھی خوراک سے دودھ، گوشت اور انڈے جیسی پیداوار میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ اس لیے کسانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید سائنسی طریقوں کے مطابق اپنے جانوروں کو خوراک دیں تاکہ زیادہ پیداوار اور منافع حاصل کر سکیں۔

جدید تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ جانوروں کی خوراک میں کچھ بنیادی اجزا یعنی پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، چکنائی، نمکیات اور وٹامنز کا ایک خاص تناسب سے (جسمانی حالت اور ضرورت کے مطابق) ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر جانوروں کی خوراک میں یہ ضروری اجزا نہیں ہوں گے تو یہ خوراک نا مکمل اور غیر متوازن کہلائے گی۔ اگرچہ یہ غیر متوازن خوراک جانوروں کی بھوک تو مٹا دیتی ہے لیکن ان کی جسمانی اور پیداواری ضروریات پوری نہیں کر پاتی، جس کی وجہ سے جانور کمزور ہو کر مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی پیداوار اور کارکردگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ تاہم متوازن خوراک تیار کرنے کے لیے جو غذائی اجزا استعمال ہوتے ہیں وہ بہت مہنگے ہیں اور مہنگی خوراک کی لاگت کی سب سے بڑی وجہ خوراک میں موجود پروٹین کا جزو ہے جو تمام اجزا میں سب سے مہنگا اور خوراک کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو غذائی اجزا جانوروں کی خوراک میں پروٹین کی سطح بڑھاتے ہیں وہ سویا بین، کینولا، بنولہ کھل، سرسوں کھل، مکئی کا گلوٹن وغیرہ ہیں جو بہت مہنگے ہیں۔ اس لیے یوریا جو عرصہ دراز سے جانوروں کی خوراک میں استعمال ہوتا ہے ایک سستا متبادل پروٹین کا ذریعہ ہے۔

جانوروں کے لیے یوریا (اینیمل گریڈ یوریا 42-45% نائٹروجن) نائٹروجن کا ایک چھوٹا نامیاتی مرکب ہے اور یہ نائٹروجن کا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ خاص طور پر جگالی کرنے والے جانوروں (گائے، بھینس، بھیڑ اور بکریاں) کے لیے پروٹین کے بغیر نائٹروجن (نان پروٹین نائٹروجن) کا ایک قیمتی ذریعہ ہے، جو بہت کم خرچ پر جانوروں کی خوراک میں پروٹین کی سطح پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جگالی کرنے والے جانوروں کا نظام ہاضمہ ایک انوکھا نظام ہے جس کی مدد سے وہ نہ صرف پودوں کے ریشہ دار مواد کو توڑتے ہیں بلکہ اپنے معدے میں موجود جراثیموں کے ذریعے یوریا کو امونیا میں بھی تبدیل کرتے ہیں۔ یہ امونیا جراثیمی پروٹین بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے بعد میں جانور ہضم اور جذب کرتا ہے۔

یوریا کے فوائد

جانوروں کی خوراک میں یوریا کا استعمال خاص طور پر ایسے حالات اور علاقوں میں بہت ضروری ہو جاتا ہے جہاں جانوروں کو قدرتی پروٹین کے ذرائع محدود یا مہنگے ہوں۔ جانوروں کی خوراک میں یوریا کے استعمال کے درج ذیل فوائد ہیں

  1. ایک اندازے کے مطابق ، جانوروں اور مرغیوں کی پیداواری خرچہ میں خوراک کا سب سے بڑا حصہ ہے جو کہ کل لاگت کا تقریباً 65 فیصد بنتا ہے۔ جیسے پہلے کہا گیا کہ خوراک کی لاگت کی سب سے بڑی وجہ خوراک میں موجود لحمیات یا یعنی پروٹین کا جزو ہے۔ جس کے سپلیمنٹس تمام اجزاء میں سب سے مہنگے ہیں بلکہ بدقسمتی سے دن بدن مزید مہنگے ہوتے جا رہے ہیں اور مویشی پال حضرات کے لیے خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے یوریا کا استعمال جانوروں کی خوراک میں نسبتاً سستا پروٹین مہیا کرتا ہے۔ یوریا مندرجہ ذیل حساب سے فیڈ میں فیصد پروٹین لیول کو بڑھاتا ہے۔
    • کروڈ پروٹین = %16 نائٹروجن
    • کروڈ پروٹین = 16/100 نائٹروجن
    • اب اگر یوریا میں 45% نائٹروجن موجود ہو، جب یہ کروڈ پروٹین میں تبدیل ہو گی تو:
    • کروڈ پروٹین = 45 × 6.25
    • کروڈ پروٹین = %281.25
    • یعنی ایک گرام یوریا قریباً 2.81 گرام کروڈ پروٹین فراہم کرتا ہے۔
  2. یوریا جانوروں کے معدے میں جراثیموں کی نشوونما اور سرگرمی کو بڑھاتا ہے۔ یہ جرثومے جانوروں کے نظام ہاضمہ کو غذائی اجزا جیسے ریشہ، پروٹین، چکنائی اور معدنیات خصوصاً فاسفورس کو ہضم اور جذب کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یوریا نائٹروجن کے ضیاع کو کم اور اس کے استعمال کو بڑھاتا ہے۔
  3. یوریا کے استعمال سے جانوروں کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں جو ان کی دوڑنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
  4. یوریا جانوروں کے دودھ اور دیگر پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور دودھ میں پروٹین کی مقدار بھی بڑھاتا ہے۔
  5. چھیلے ہوئے اناج پر بنی خوراک (جیسے فیڈ) یا چارے پر بنی خوراک (جیسے سائلج اور بھوسہ) دونوں قسم کی فارمولیشن میں یوریا کا استعمال ہوتا ہے۔
  6. جانوروں کی خوراک میں یوریا کی موجودگی ان کی عمومی صحت کو بہتر بناتی ہے اور انہیں مختلف بیماریوں سے بچاتی ہے۔

یوریا کے استعمال میں احتیاط

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جانوروں کے معدے میں موجود مددگار جراثیم خوراک میں یوریا کو ٹوٹنے اور پروٹین میں بدلنے کا کام کرتے ہیں۔ اس کے لیے معدے میں کافی توانائی کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر جراثیموں کو اس عمل کے لیے توانائی نہ ملے تو یہ تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ اضافی نائٹروجن جانور کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ اس لیے بہتر نتائج کے لیے یوریا کے ساتھ مناسب مقدار میں نشاستہ جیسے شہد کی مکھیوں کی چھتے کا خول (Molasses) دینے کی سفارش کی جاتی ہے جو معدے کے جراثیموں کے لیے توانائی کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

جانوروں کی خوراک میں مقررہ حد سے زیادہ یوریا استعمال کے نقصانات

ایک عام اصول ہے کہ جانور کی خوراک میں یوریا کی مقدار ایک فیصد سے دو فیصد کے درمیان ہونی چاہیے۔ مگر جدید سائنسی تحقیق کے مطابق یوریا کی زیادہ سے زیادہ حد ایک فیصد ہے اور زیادہ ہونے کی صورت میں یہ جانوروں کی صحت اور پیداوار پر کئی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ پروٹین کی سطح، کم لاگت اور زیادہ منافع کے چکر میں جانوروں کی خوراک میں یوریا کا بے تحاشا استعمال کیا جاتا ہے۔ فیڈ بنانے والی کمپنیاں، غذائی اجزا یعنی سویا بین، کینولا، بنولہ کھل، مکئی کا گلوٹن وغیرہ جو اصل پروٹین فراہم کرتے ہیں، کی بجائے یوریا ڈالتی ہیں جو نائٹروجن کی سطح بڑھاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا، اگرچہ جگالی والے جانور پروٹین کے بغیر نائٹروجن کو کچھ حد تک استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر یوریا کا بلا وجہ اور غیر مناسب اضافہ نہ صرف جانوروں بلکہ انسانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

جانوروں کی خوراک میں مقررہ حد سے زیادہ یوریا استعمال کے درج ذیل نقصانات ہیں:

  1. جانوروں کے معدے میں یوریا تیزی سے امونیا میں تبدیل ہوتا ہے جس کی وجہ سے خون میں امونیا کی اضافی مقدار کے باعث تھوک زیادہ آنا، سانس تیز ہونا، تیزابیت، معدے میں گیس جمع ہونا، جھٹکے آنا اور اگر امونیا کی سطح بہت زیادہ ہو جائے تو یہ جانور کے گردوں کو خراب کر سکتا ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
  2. یوریا کی سطح مقررہ حد سے بہت زیادہ ہو تو معدے میں موجود فائدہ مند جراثیموں کی تعداد میں خلل آتا ہے، جس کی وجہ سے ہاضمہ خراب ہوتا ہے اور خوراک کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔
  3. زیادہ مقدار میں یوریا جانوروں کے معدے کے پی ایچ میں عدم توازن پیدا کر کے عمل ہاضمہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔
  4. یوریا کا زہریلا پن تولیدی اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
  5. زیادہ یوریا جانوروں میں ہارمونز کا توازن بگاڑ دیتا ہے جو تولیدی عمل اور زرخیزی میں خلل ڈالتا ہے۔

مختصر یہ کہ یوریا جانوروں کی خوراک میں پروٹین کے بغیر نائٹروجن کا ذریعہ ہے اور جگالی کرنے والے جانوروں کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یوریا کی شکل میں نائٹروجن کی فراہمی سے معدے کے جراثیم جرثومی پروٹین بناتے ہیں، جو بعد میں ہضم اور جذب ہو کر جانوروں کی غذائیت اور بہتر کارکردگی کا باعث بنتے ہیں۔ تاہم زیادہ یوریا کے زہریلے پن سے بچنے کے لیے اس کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔ بہترین نتائج کے لیے اسے دوسری خوراک کے اجزا اور کاربوہائیڈریٹس کے ساتھ متوازن کرنا چاہیے۔ جب مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو یوریا جانوروں کی پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک مؤثر اور قیمتی ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں پروٹین کے قدرتی ذرائع محدود یا مہنگے ہوں۔