سوزشِ حیوانہ (Mastitis) کی بیماری میں تھنوں میں طبعی اور کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں، جس سے دودھ کی مقدار اور معیار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو دودھ کی پیداوار مستقل طور پر ختم ہو سکتی ہے، جس سے کسان کو شدید معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ بیماری الی لگی خوراک اور خراب روٹی کے ٹکڑے اور جعلی کھل کی وجہ سے جانور میں پیدا ہوتی ہے۔
- دودھ نکالتے وقت جانور کو تکلیف ہونا۔
- دودھ کی مقدار کا کم ہونا۔
- جانور کا تھن گرم اور سرخ
- دودھ کا رنگ اور زائقہ تبدیل ہونا۔
- دودھ میں دہی کی طرح پھٹکیاں (لوتھڑے) بن جانا۔
ساڑو کی دو بڑی اقسام ہیں، ایک کو ظاہری سوزش حیوانہاور دوسرے کو مخفی سوزش کہا جاتا ہے۔
ظاہری سوزش حیوانہ (Clinical Mastitis)
اس قسم کے ساڑو میں حیوانہ میں ظاہری تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں اس کی علامات مندرجہ ذیل ہیں۔
- حیوانہ گرم محسوس ہوتا ہے ۔
- حیوانہ پر سرخی آ جاتی ہے۔ سخت ہو جاتا ہے۔
- چوائی کے وقت درد محسوس کرتا ہے۔
- دودھ میں دہی جیسے لوتھڑے یا خون نظر آتا ہے۔
مخفی سوزش حیوانہ (Sub-Clinical Mastitis)
اس قسم میں جانور کے حیوانہ میں کوئی ظاہری علامات نظر نہیں آتی ، صرف لیبارٹری میں دودھ کے معائنہ سے بیماری کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ دن بدن دودھ میں کمی اور دودھ اتارنے میں مشکل ہوتی ہے۔ چوںکہ اس بیماری کی کوئی ظاہری علامت نہیں ہوتی اس لئے یہ مہینوں تک مخفی رہتا ہے اور کسی بھی وقت یہ اچانک شدید بیماری کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ مخفی سوزش حیوانہ ظاہری سوزش حیوانہ کی نسبت درجہ ذیل وجوہات کی بناء پر زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
- پندرہ سے چالیس فیصد جانور مخفی سوزش حیوانہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔
- اس کا ظاہری طور پر تشخیص کرنا مشکل ہوتا ہے۔
- اس کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے۔
- اس سے دودھ کی پیداوار میں مسلسل کمی ہو جاتی ہے۔
- یہ عموماً ظاہری سوزش حیوانہ کا سبب بنتی ہے۔
سوزشِ حیوانہ (Mastitis) کی بنیادی وجہ جراثیم ہیں، جو عموماً تھن میں باہر سے داخل ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں گندے مویشی خانے، موسمی تبدیلیاں اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض کیمیائی اور طبعی عوامل بھی اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔
سوزشِ حیوانہ پیدا ہونے کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
- جانور باندھنے کی جگہ کا صاف نہ ہونا۔
- دودھ دوہنے سے پہلے ہاتھوں کی مناسب صفائی نہ کرنا۔
- دودھ دوہنے کے دوران تھن کو ضرورت سے زیادہ کھینچنا۔
- دودھ دوہتے وقت بچھڑے کو زیادہ دیر تک دودھ پینے دینا۔
- دودھ دوہنے سے پہلے اور بعد میں تھنوں پر جراثیم کش محلول استعمال نہ کرنا۔
- گندی اور گیلی جگہوں میں جراثیم کی افزائش، جو سوزشِ حیوانہ کا باعث بنتی ہے۔
- شیرواری (Lactation) کے آغاز یا اختتام پر بیماری کے امکانات زیادہ ہونا۔
- زیادہ دودھ دینے والے جانوروں اور زیادہ جانوروں والے فارم میں بیماری کا خطرہ زیادہ ہونا۔
- آویزاں حیوانہ اور لمبے، لٹکتے ہوئے تھن، جن سے جراثیم آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔
- جانور کی بڑھتی ہوئی عمر، جس کے ساتھ بیماری کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
- حیوانہ کا زیادہ دیر تک گیلا رہنا یا اس پر گوبر کا چپکا رہنا۔
- دودھ دوہنے کے دوران تھن پر زیادہ دباؤ ڈالنا یا دودھ کی نالی کا ضرورت سے زیادہ کھل جانا۔
- تھن یا دودھ کی نالی کے قریب زخم یا چوٹ کا ہونا۔
- متاثرہ جانور کے تھن یا دودھ کا صحت مند جانور کے تھن سے رابطہ ہونا۔
- ایسی خوراک کا استعمال جس میں ایسٹروجن زیادہ ہو، جیسے برسیم وغیرہ۔
- خوراک میں سیلینیم کی کمی ہونا۔
- زیادہ دودھ دینے والے جانور کو مناسب اور متوازن خوراک نہ ملنا۔
- دودھ دوہنے کے بعد حیوانہ میں زیادہ مقدار میں دودھ باقی چھوڑ دینا۔
- جانور باندھنے والی جگہ صاف ستھری ہونی چاہیے۔
- دودھ دوہنے کے لئے صابن یا جراثیم کش محلول سے ہاتھوں کی صفائی ضروری ہے۔
- دودھ دوہنے سے پہلے تھنوں پر جراثیم کش محلول لگانا چاہیے۔
- دودھ دوہنے کے اوقات تبدیل نہیں کرنے چاہئیں، کیونکہ اس سے دودھ کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
- دودھ دوہنے کے دوران انگوٹھا ہتھیلی کی طرف موڑ کر دودھ نہیں دوہنا چاہیے۔
- اگر تھن پر کوئی زخم ہو تو اس کا فوری علاج کروانا چاہیے، کیونکہ یہ سوزشِ حیوانہ کا سبب بن سکتا ہے۔
- جانور کے تھن اور حیوانہ کو زخمی ہونے سے بچانے کے لئے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
- تندرست جانوروں سے دودھ پہلے جبکہ بیمار جانوروں سے بعد میں دوہنا چاہیے۔
- ہر پندرہ دن بعد جانوروں کے دودھ کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ اگر سوزشِ حیوانہ کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
- جانوروں کو دودھ دوہنے سے پہلے اور خاص طور پر بعد میں مناسب اینٹی سیپٹک کا استعمال کریں۔
ظاہر سوزش حیوانہ کی تشخیص تو ظاہری علامات اور دودھ کی بہیت کو دیکھ کر بھی کی جاسکتی ہے لیکن صحیح علاج کیلئے دودھ کا نمونہ لیبارٹری سے ٹیسٹ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مخفی سوزش حیوانہ کی تشخیص صرف لیبارٹری ہی میں ممکن ہے۔گھریلو سطح پر صرف ٹیسٹ بھی کیا جا سکتا ہے اس کے لیے چائے کا چھوٹا چمچ سرف ایک گلاس پانی میں حل کر کے محلول کے 10 قطرے اور ہر تھن سے علیحدہ علیحدہ دودھ کے 10 قطرے اچھی طرح مکس کریں اگر کسی تھن کا دودھ جیلی کی طرح ہو جائے تو یہ بیماری کی علامت ہے۔
سوزش حیوانہ کی علامات اگر ظاہر ہو جائے تو علاج میں دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ پھر علاج میں دشواری پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے اور تھن اور حیوانہ کے ٹھیک ہونے کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ سوزش جوانہ زیادہ تر جراثیم سے ہوتی ہے اور اس کی تشخیص کے لئے ویٹنیری اداروں میں متعدد ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ جراثیم ظاہر ہونے کے بعد ایک اور ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ اس صورت میں کون سی اینٹی بایوٹک بہترین کام کرے گی۔ بجائے اس کے کہ ہم ایک اینٹی بایوٹک استعمال کریں اور وہ مؤثر نہ ہونے اور پھر دوسری اینٹی بایوٹک استعمال کریں،اس سے بہتر ہے کہ ہم پہلے ٹیسٹ کر لیں اور پھر علاج کرائیں۔ اس طرح پیسے اور وقت دونوں کی
بچت ہوگی۔ اینٹی بایوٹک کے ساتھ ساتھ سوزش حیوانہ کے لئے ٹیوب کی دوائی بھی تھن کے اندرونی استعمال کے لئے دی جاتی ہے۔ اس صورت میں احتیاط کرنی چاہیے کہ دوائی تھن میں آہستہ آہستہ داخل کر کے تھن کو مالش کریں تاکہ دوائی تھن میں یکساں طور پر پھیل سکے۔ اس کے علاوہ سوزش کو کم کرنے کے لئے ٹیکے بھی لگائے جاتے ہیں۔ علاج ہمیشہ مستند ڈاکٹر سے ہی کروانا چاہیے۔
شیشے کی بوتلیں لیں، ان کو گرم پانی میں ڈال کر اچھی طرح ابال کر خشک کر لیں اور ڈھکن بند کر دیں۔ دودھ کا نمونہ لینے سے پہلے تھن کو صاف پانی سے دھو کر صاف کپڑے سے خشک کریں۔ تھن پر سپرٹ لگائیں اور اس کے بعد دودھ کا نمونہ لیں۔ جانور کے ہر تھن کیلئے الگ بوتل استعمال کریں اور یہ یاد رہے کہ ہر تھن سے نمونہ لینے سے پہلے دو تین دھاریں ضائع کریں۔ بوتل پر جانور اور تھن کی شناخت نمبر اور فارم کا نام لکھیں۔ دودھ کے نمونوں کو پلاسٹک کی تھیلی میں برف ڈال کر فورا لیبارٹری پہنچادیں اور نتیجہ آنے کے بعد مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
