گل گھوٹو مویشیوں کی ایک نہایت خطرناک اور سخت متعدی بیکٹیریائی بیماری ہے، جو زیادہ تر برسات کے موسم میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس بیماری میں جانور کو تیز بخار، گلے اور گردن میں شدید سوجن، نمونیہ اور بعض اوقات دست لگ جاتے ہیں، اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو جانور کی جلد موت واقع ہو سکتی ہے۔
گل گھوٹو پاسچوریلا ملٹو سیڈا (Pasteurella multocida) نامی بیکٹیریا سے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا عام حالات میں صحت مند جانور کے ناک اور سانس کی نالی میں موجود رہ سکتا ہے اور بیماری پیدا نہیں کرتا، لیکن جب جانور کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جائے تو یہی بیکٹیریا فعال ہو کر بیماری کا باعث بنتا ہے۔
بیماری پھوٹنے کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
- برسات اور حبس والا مرطوب موسم۔
- جانور کا کمزور یا بیمار ہونا۔
- جانور سے ضرورت سے زیادہ کام لینا۔
- بھوک یا ناقص خوراک۔
- جانوروں کا زیادہ بھیڑ میں رکھنا۔
- ناقص صفائی اور غیر مناسب رہائش۔
ایشیا میں Pasteurella multocida Type B گل گھوٹو کی سب سے بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
یہ بیماری دنیا کے کئی حصوں خصوصاً یورپ، ایشیا اور افریقہ میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں یہ بیماری خاص طور پر عام ہے۔
پاکستان میں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے زرعی علاقوں میں ہر سال گل گھوٹو کے باعث ہزاروں جانور متاثر ہوتے ہیں۔ اگر مون سون سے پہلے بروقت ویکسینیشن نہ کی جائے تو اس بیماری سے لاکھوں روپے کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔
6 ماہ سے 2 سال کی عمر کے گائے اور بھینس کے جانور اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اس بیماری کا انکیوبیشن پیریڈ عموماً 1 سے 5 دن ہوتا ہے، جبکہ بعض جانوروں میں علامات 24 گھنٹوں کے اندر بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
عام علامات درج ذیل ہیں:
- تیز بخار، جو اکثر 106°F تک پہنچ جاتا ہے۔
- گلے، گردن اور برسکٹ کے اردگرد شدید سوجن۔
- سوجن کا سر اور جبڑے تک پھیل جانا۔
- سانس لینے میں دشواری۔
- ناک سے رطوبت خارج ہونا۔
- تیز یا خرخراہٹ والی سانس۔
- منہ سے جھاگ دار تھوک آنا۔
- خوراک چھوڑ دینا۔
- شدید کمزوری اور ڈپریشن۔
شدید صورتوں میں بیکٹیریا خون میں داخل ہو کر سیپٹیسیمیا (Septicemia) پیدا کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں علامات ظاہر ہونے کے 6 سے 48 گھنٹے کے اندر جانور ہلاک ہو سکتا ہے۔
بیماری کی حتمی تصدیق لیبارٹری ٹیسٹوں کے ذریعے کی جاتی ہے، جن میں شامل ہیں:
- بیکٹیریل کلچر (Bacterial Culture)
- خون کے ٹیسٹ (Serology)
- PCR ٹیسٹ، جس سے Pasteurella multocida کی موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے۔
گل گھوٹو اکثر وبائی شکل اختیار کرتی ہے اور ریوڑ میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔
متاثرہ جانور سے براہِ راست رابطہ
- ناک اور منہ سے خارج ہونے والی رطوبت کے ذریعے۔
- آلودہ پانی پینے سے۔
- بیمار جانور کے قریب رہنے سے۔
اسی لیے متاثرہ جانور کو فوراً باقی ریوڑ سے الگ کرنا ضروری ہے۔
آلودہ خوراک کے ذریعے
- بیکٹیریا خوراک میں شامل ہو کر دوسرے جانوروں کو بیمار کر سکتے ہیں۔
- اگر جانور ایک ہی جگہ خوراک کھاتے ہوں تو بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
- بیمار جانور کی بچی ہوئی خوراک فارم سے باہر تلف کرنی چاہیے۔
آلودہ ماحول کے ذریعے
بیکٹیریا کچھ عرصے تک درج ذیل جگہوں پر زندہ رہ سکتے ہیں:
- مٹی
- جانور کا بستر
- چارہ اور فیڈ
- استعمال ہونے والا سامان
صحت مند جانور ان آلودہ اشیاء سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
تناؤ اور موسمی عوامل
- جانوروں کی زیادہ نقل و حرکت۔
- زیادہ بھیڑ۔
- ناقص خوراک۔
- کمزور جسمانی حالت۔
- ذہنی یا جسمانی تناؤ۔
- بارشوں کے موسم کی گرم اور مرطوب آب و ہوا، جو بیکٹیریا کی بقا اور پھیلاؤ کے لیے موزوں ہوتی ہے۔
اگر بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے اور فوری علاج شروع کر دیا جائے تو گل گھوٹو کا علاج ممکن ہے۔
بیماری سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات اختیار کریں:
- جن علاقوں میں بیماری عام ہو وہاں مون سون کی بارشوں سے پہلے ویکسین ضرور لگوائیں۔
- نئے خریدے گئے جانوروں کو ریوڑ میں شامل کرنے سے پہلے قرنطینہ میں رکھیں۔
- بیمار جانور کو فوراً الگ کر دیں۔
- باڑے میں صفائی اور حفظانِ صحت کا خاص خیال رکھیں۔
- وبا کی صورت میں فوری طور پر مناسب اینٹی بائیوٹک علاج شروع کریں۔
- علاج کے لیے فوری طور پر قریبی شفاخانۂ حیوانات یا ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
- زیادہ بخار کی صورت میں جانور کو ہوا دار جگہ پر رکھیں اور جسم پر پانی ڈال کر درجہ حرارت کم کریں۔
- آلات اور استعمال ہونے والے سامان کو جراثیم سے پاک رکھیں۔
- جانوروں میں غیر ضروری تناؤ اور بھیڑ سے بچیں۔
HSV (ایلم بیسڈ) ویکسین
- جانور: گائے اور بھینس
- خوراک: 5 سی سی
- طریقۂ استعمال: زیرِ جلد (Subcutaneous)
- مدتِ مدافعت: تقریباً 6 ماہ
HSV (آئل بیسڈ) ویکسین
- جانور: گائے اور بھینس
- خوراک: 2 سی سی
- طریقۂ استعمال: پٹھے کی گہرائی میں (Intramuscular)
- مدتِ مدافعت: تقریباً 1 سال
- HSV (ایلم بیسڈ): سال میں دو مرتبہ، یعنی مئی تا جون اور نومبر تا دسمبر۔
- HSV (آئل بیسڈ): سال میں ایک مرتبہ، یعنی مئی تا جون (برسات شروع ہونے سے پہلے)۔
اگر بیماری کے ابتدائی مرحلے میں علاج شروع کر دیا جائے تو جانور کے بچنے کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔
استعمال ہونے والی اہم اینٹی بائیوٹکس میں شامل ہیں:
- Oxytetracycline (سب سے مؤثر دوا تصور کی جاتی ہے)
- Gentamycin
- Sulfadimidine
- Cephalosporin
- Chloramphenicol
بہترین نتائج کے لیے علاج ہمیشہ مستند ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے اور جلد از جلد شروع کرنا چاہیے۔
